آسٹریلیا: جنگلات میں لگنے والی آگ کے پھیلاؤ میں سفیدے کے درخت کتنے ذمہ دار ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریئلٹی چیک ٹیم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
آسٹریلیا کے مختلف مقامات پر ’بُش فائر‘ (جھاڑیوں کی آگ) کا سلسلہ گذشتہ برس ستمبر میں شروع ہوا تھا اور اس آگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 28 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں مکانات جل کر تباہ ہو چکے ہیں۔
یہ آگ اب تک آسٹریلیا کی ہزاروں ایکٹر زمین کو متاثر کر چکی ہے تاہم ملک میں جاری بارشوں کا حالیہ سلسلہ بہت سے مقامات پر آگ بجھانے کا باعث بنا ہے۔
بہت سے قارئین نے سوال کیا ہے کہ آیا آسٹریلیا میں لگنے والی آگ کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا سبب آسٹریلیا کے مشہور یوکلپٹس درخت ہیں۔ یوکلپٹس درخت کو عرف عام میں سفیدے کا درخت بھی کہا جاتا ہے۔ یوکلپٹس درختوں پر مشتمل جنگلات کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی سے آگ پکڑنے والے جنگلات مانا جاتا ہے۔
یوکلپٹس کے درخت آگ کیوں پھیلاتے ہیں؟
آسٹریلیا میں جنگلات کے مجموعی رقبے کا تین تہائی حصہ یوکلپٹس کے درختوں پر مشتمل ہے اور اس نسل کے درختوں کی تقریبا تمام اقسام یہاں پائی جاتی ہیں۔
درخت کے تنوں سے لٹکتی چھال اور شاخیں نہ صرف آگ پکڑ سکتی ہیں بلکہ اسے درخت کے اوپری حصے تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جہاں سے ہوا کے ذریعے یہ آگ پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونیورسٹی آف میلبورن میں بناتات میں آتش گیری کی صلاحیت کے ماہر ڈاکٹر جین کاسن کہتی ہیں کہ ’جب درخت کی چھال آگ پکڑتی ہے تو یہ بہت بڑے رقبے تک پھیلنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے جس کے باعث نئے مقامات پر آگ بھڑک اٹھتی ہے۔‘
اس عمل کو ’سپاٹنگ‘ کہا جاتا ہے اور جب یہ عمل شروع ہوتا ہے تو یہ آگ کو مزید 30 کلومیٹر کے دائرے تک پھیلا سکتا ہے اور اس عمل کو روکنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
ڈاکٹر کاسن کہتی ہیں کہ سپاٹنگ کے عمل کے تحت یہ درخت خود ہی آگ کو آگے سے آگے بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔
سفیدے کے درخت کے پتوں میں تیل ہوتا ہے جس کی وجہ سے انھیں نہ صرف باآسانی آگ لگ سکتی ہے بلکہ آگ لگنے کے بعد یہ پتے بہت ہی تیزی سے جلتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے علاوہ ان درختوں کے نیچے زمین پر موجود نباتات اور جھاڑ پھونس میں بھی آگ پکڑنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ نباتات وقت کے ساتھ ساتھ ان جنگلات کی آب و ہوا میں مکمل طور پر ڈھل چکے ہیں، وہ آب و ہوا جس میں جنگلات کی آگ اور خشک سالی بہت عام سی بات ہے۔
سفیدے کے کچھ درختوں کی اقسام ایسی ہیں جنھوں نے وقت کے ساتھ اس آب و ہوا کو اپنا لیا ہے اور جنگلات میں لگنے والی آگ کے بعد یہ خود بخود دوبارہ اپنی اصل پوزیشن میں واپس آ جاتے ہیں یعنی صحت مند ہو جاتے ہیں۔
درختوں کو لگنے والی آگ کنوپی میں موجود بیجوں کو اس کے خول سے باہر نکلنے میں مدد کرتی ہے اور اس طرح یوکلپٹس کے نئے پودے پھوٹتے ہیں جو کہ ان درختوں کی افزائش میں مددگار ہوتے ہیں۔
تاہم نئی تحقیق ظاہر کرتی ہے اگر جنگل کے ایک ہی حصے میں بہت ہی کم وقفے سے آگ لگتی ہے تو وہاں موجود سخت جان قسم کے درخت بھی بچ نہیں پاتے اور دوبارہ کبھی صحت مند نہیں ہوتے۔
کیا یوکلپٹس کے درخت کا نعم البدل موجود ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ قدرتی جنگلات بہت سی اقسام کے جنگلی جانوروں اور نباتات کو محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں۔
ڈاکٹر کاسن کہتی ہیں ’آسٹریلیا میں یہ بات بالکل عوامی حلقوں میں زیر بحث نہیں ہے کہ ان (گوند) درختوں کو کسی متبادل اقسام کے درختوں سے بدل دیا جائے۔‘
یہاں بسنے والے قدیم باشندے ان درختوں سے مختلف قسم کے فائدے اٹھاتے ہیں جن میں یوکلپٹس کی لکڑی سے آوزار بنانا اور اس میں موجود تیل کو ادویات میں استعمال کرنا بھی شامل ہے۔
تاہم اس یہ بحث مباحثے ضرور ہوتے ہیں کہ جنگلات کی حفاظت کیسے کی جائے اور انھیں آگ سے کیسے بچایا جائے یا آگ لگنے کی صورت میں اس کے پھیلاؤ سے کیسے بچا جائے۔
ایک زیر غور آپشن یہ ہے کہ وسیع پیمانے پر آگ سے بچاؤ کے لیے چھوٹے پیمانے پر آگ خود ہی لگائی جائے جسے ’کنٹرولڈ برننگ‘ کہا جاتا ہے تاہم اس پر سیاسی رائے عامہ ہموار نہیں ہے۔
دوسرے ممالک میں بھی سفیدے کے درخت ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا سے درآمد کردہ یوکلپٹس گلوبولس نامی قسم کے درخت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی وسیع پیمانے پر لگائے گئے ہیں۔
سوینسی یونیورسٹی میں وائلڈ فائرز کے ماہر سٹیفن ڈوئیر کہتے ہیں کہ ’درحقیقت یہ (یوکلپٹس گلوبولس) یوکلپٹس کی وہ قسم ہے جو کم آتش گیر ہوتی ہے۔ مگر جہاں لے جا کر انھیں لگایا گیا ہے یہ اس جگہ پر پہلے سے موجود جنگلات سے کہیں زیادہ آتش گیر ہے۔‘
درآمد کیے گئے یہ درخت کیلیفورنیا اور پرتگال میں جنگلات میں لگنے والی آگ کا باعث بھی بن چکے ہیں۔ جنگلات میں لگنے والی اس آگ کو یورپ کی سب سے بڑی جنگلات کی آگ مانا جاتا ہے۔
سنہ 2017 میں پرتگال میں وسیع پیمانے پر بھڑک اٹھنے والی آگ کی بڑی وجوہات میں سے ایک سفیدے کے درخت تھے۔ پرتگال کے مرکزی اور شمالی علاقوں میں ان درختوں کو کاغذ تیار کرنے کے لیے اگایا جاتا ہے۔
جب پرتگال میں آگ لگی تھی تو وہاں کے ایک ماحولیاتی گروپ کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ’غفلت‘ کا نتیجہ ہے، انھوں نے حکام پر بڑے پیمانے پر پائن کے درختوں کو ختم کر کے یوکلپٹس کے درخت لگانے پر بھی تنقید کی تھی۔
دنیا کے دیگر ممالک میں یوکلپٹس کو جنگلات کی بحالی اور کمرشل مقاصد کے لیے لگایا جاتا ہے اس کے برعکس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ درخت مقامی انواع کے نباتات کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس درخت میں بہت تیزی سے بڑھنے اور بڑا ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔












