آپ کا نام آپ کی شخصیت پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہLisa Kling/Getty Images
- مصنف, کرسچین جیریٹ
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
جب آپ کسی انجان انسان سے ملتے ہیں تو سب سے پہلے آپ ان کے بارے میں اس چیز کی آگاہی حاصل کرتے ہیں جو ان کی اصل پہچان ہوتی ہ، یعنی ان کا نام۔
لیکن آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے کہ آپ جس نام سے جانے جاتے ہیں، وہ دوسروں پر آپ کے بارے میں ایک خاص تاثر چھوڑ جاتا ہے۔
آپ نے یقیناً یہ ضرور سوچا ہو گا کہ آپ کے والدین نے کیسے آپ کی ذات کو سانچا اور کیسے آپ کی تربیت کی۔ ان کا غصہ، ان کا پیار، ان کی شفقت اور ان کا ڈانٹنا، سب ہی آپ کے کردار میں بھی نظر آتا ہے۔
لیکن آپ نے شاید یہ نہ سوچا ہو کہ ان کے دیے ہوئے سب سے اہم تحفے نے آپ کی شخصیت پر کس قدر گہرا اثر چھوڑا ہے یعنی آپ کا نام جو انھوں نے آپ کو دیا ہے اور اس کی وجہ سے سماج آپ کے بارے میں خاص خیالات رکھتا ہے۔
والدین اس بارے میں بہت سوچ بچار کرتے ہیں کہ اپنی اولاد کے لیے کیا نام رکھیں۔ یہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا امتحان بن جاتا ہے یا اُن کی اپنی شخصیت کی عکاسی کرنے کا ذریعہ کہ وہ اپنی اولاد کے لیے کیا نام رکھنا چاہ رہے ہیں۔
لیکن بیشتر والدین یہ نہیں جانتے یا انھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ انھوں نے اپنی اولادوں کے لیے جو نام چُنا ہوتا ہے وہ ان کی زندگیوں پر کتنا گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
ناموں کی نفسیات پر تحقیق کرنے والے یونیورسٹی آف ایریزونا کے ماہر نفسیات ڈیوڈ ژو کہتے ہیں کہ آپ کا نام آپ کی شناخت کا سب سے اہم عنصر ہے اور اسی کی مدد سے لوگ آپ سے بات چیت کرتے ہیں تو دوسروں کے ذہنوں میں آپ کی شبیہ بھی اسی کی وجہ سے بنتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی شخصیت میں مختلف عوامل شامل ہوتے ہیں۔ کچھ تو ہم میں جینیاتی طور پر ہوتا ہے جبکہ ہمارا بچپن اور لڑکپن بھی کردار بنانے میں اہم ہوتا ہے۔ پھر ہم کن لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ہم زندگی میں کیا کام کرتے ہیں، کہاں نوکری کرتے ہیں یا ہمارے گھر والوں کا برتاؤ کیسا ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان تمام عوامل کے بیچ میں اکثر یہ بات نظر انداز ہو جاتی ہے کہ ہمارا نام اس میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔
شخصیاتی نفسیات کے شعبے کے بانیوں میں سے ایک گورڈن آلپورٹ نے سنہ 1961 میں کہا تھا کہ ’ہماری زندگیوں کی ہماری شناخت کا سب سے بڑا تعلق ہمارے نام سے ہوتا ہے۔‘
اگر بنیادی طور پر دیکھیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نام کی وجہ سے ہماری نسل اور ہمارے پس منظر کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں کچھ خیال قائم ہو جاتے ہیں، جو کہ آج کے اس دور میں جہاں سماجی تفریق اتنی زیادہ ہے، اس کے کافی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCatherine Delahaye/Getty Images
مثال کے طور پر نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ اگر دو لوگوں نے کسی کمپنی میں نوکری کرنے کی غرض سے سی وی بھیجا ہو، تو عربی نام والے افراد کے مقابلے میں سفید فاموں کے نام رکھنے والوں کو انٹرویو کے لیے کال ملنے کی کہیں زیادہ امید ہوتی ہے۔
یہ انتہائی ناانصافی ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ جو ہمارے نام ہوں وہ ہمارے پس منظر کی درست عکاسی کر سکیں۔
ان نتائج کو اہم سمجھنا چاہیے مگر نام کی اہمیت یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ایک معاشرے کے اندر بھی نام بہت عام ہو سکتے ہیں یا بہت نایاب۔ ان کے مطلب میں مثبت یا منفی پہلو ہو سکتے ہیں۔ لوگ انھیں متاثرکن یا پرانا سمجھ سکتے ہیں یا انھیں پسند ناپسند کرسکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کا رجحان بدل بھی سکتا ہے۔ اس لیے نام کی خصوصیات ہمارے خود سے متعلق جذبات یا دوسروں کے رویے کو متاثر کرسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی ماہر نفیسات جین وینج کی سنہ 2000 کی دہائی کی تحقیق میں پتا چلا تھا کہ زندگی سے مطمئن نہ ہونے یا خاندانی پس منظر کے علاوہ بھی ایسے لوگ جنھیں اپنے نام پسند نہیں انھیں نفسیاتی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اس کا تعلق عدم اعتماد سے ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی کی عدم اعتمادی کی وجہ نام پسند نہ ہونا ہو یا نام پسند نہ ہونے کی وجہ سے ان میں عدم اعتمادی پائی جاتی ہو۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’نام ہماری خود کی علامت بن جاتا ہے۔‘
نام یہ طے کرتا ہے کہ دوسرے ہم سے کیسا برتاؤ کریں گے۔ جیسے سنہ 2011 میں شائع ہونے والی ایک جرمن تحقیق میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صرف نام کی بنیاد پر ڈیٹنگ سائٹ پر اپنے ممکنہ پارٹنر کا انتخاب کریں گے۔
مانہایم یونیورسٹی میں جوشن گیبوئر اور ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوا کہ کیون جیسا نام جو اب فیشن میں نہیں اسے مسترد کیا جا رہا تھا جبکہ فیشن میں موجود نام جیسے الیگزینڈر کا انتخاب کیا جا رہا تھا۔
اس سے کچھ حد تک معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو نام کی بنیاد پر کیسے برتاؤ کا سامنا رہتا ہے۔ جرمنی کی ایک نئی تحقیق میں پتا چلتا ہے کہ سنڈی اور شانٹل جیسے ’منفی ناموں‘ کے اجنبی افراد کی مدد کے لیے کم لوگ رضامند ہوں گے جبکہ سوفی اور میری جیسے ’مثبت ناموں‘ کی زیادہ لوگ مدد کریں گے۔
یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی شخصیت میں خود اعتمادی زیادہ نہیں ہو گی اگر آپ کو نام کی وجہ سے زندگی میں کئی بار نہ سننے کو ملا ہو۔ ڈیٹنگ سے متعلق تحقیق کے مطابق کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کم رجحان والے ناموں کے لوگ کم تعلیم یافتہ ہوں گے اور ان میں عدم اعتمادی ہو گی۔ اس سے بھی یہ تاثر ملتا ہے کہ ان لوگوں کو زندگی میں کیسے برتاؤ کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔
غیر مقبول یا منفی سنائی دینے والے ناموں کے لوگوں کے لیے بُرے نتائج پر تازہ تحقیق بھی ہوئی ہے۔ بیجنگ میں انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی کی ہواجین کائی اور ان کے ساتھیوں نے ہزاروں ناموں پر ریسرچ کی اور دیکھا کہ کون سے نام کے افراد کو اپنے جرائم پر سزائیں ملی ہیں۔
انھوں معلوم ہوا کہ معاشرتی پس منظر کو دیکھے بغیر بھی ایسے لوگ زیادہ جرم کے ارتکاب ہوئے جن کے نام غیر مقبول یا منفی تاثر رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
اس تحقیق میں کم خوشگوار سمجھے جانے والے لوگوں میں جرائم پیشہ افراد جیسا برتاؤ زیادہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ غیر مقبول یا منفی سمجھے جانے والے ناموں سے لوگوں کو سماجی سطح پر مسترد کیا جاتا ہے اور ان کی شخصیت ناخوشگوار ہو جاتی ہے۔
کائی کہتے ہیں کہ نام کے بڑے اہم نتائج ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ ہماری خود کی پہچان ہوتی ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ دوسرے لوگ ہمارے ساتھ کیسا برتاؤ رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اچھے یا بُرے نام کے ممکنہ اچھے یا بُرے نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے سماج کے مطابق بچوں کو اچھے نام دیں۔‘
یہ تمام تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ منفی یا غیر مقبول سمجھے جانے والے ناموں کی وجہ سے لوگوں کو بُرے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق میں پتا چلتا ہے کہ کچھ ناموں کے فائدہ مند نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلاً یک دم پکارے جانے والے ناموں، جیسے ایرک یا کرک کے مقابلے مارلا کو زیادہ خوشگوار فطرت کا سمجھا جاتا ہے۔
غیر مقبول نام کم مدت میں نقصان دہ ہو سکتا ہے جیسے انکار کا خطرہ یا خود اعتمادی میں کمی تاہم طویل مدتی تناظر میں یہ آپ کی انفرادیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ کائی اور ان کی ٹیم کی ایک تحقیق میں پتا چلا کہ خاندانی، سماجی اور معاشی پیش نظر کے باوجود نایاب نام ہونے سے ایک شخص کے غیر معمولی پیشہ اپنانے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں، جیسے فلم ڈائریکٹر یا جج۔
محققین کہتے ہیں کہ ’زندگی کے شروع میں غیر مقبول نام سے ایک شخص کو منفرد ذاتی شخصیت مل سکتی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ اسی تناظر میں سب سے الگ ہونے کی وجہ سے وہ غیر معمولی پیشے کا انتخاب کر پاتے ہیں۔
اسے سائنس کی زبان میں نومینیٹو ڈٹرمنیزم کہتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا نام آپ کے زندگی کے فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں ژو اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ غیر عام نام ہونے سے آپ کھلے دماغ کے ہو سکتے ہیں اور آپ کی تخلیقی صلاحیتیں بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے ہزار سے زیادہ کمپنیوں کے سربراہان کے ناموں پر تحقیق کی اور معلوم ہوا کہ خود اعتمادی ہونے کی وجہ سے وہ الگ حکمت عملی اپنا پاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کمپنی کا سربراہ الگ نام ہونے کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ وہ اپنے جیسوں سے مختلف ہے۔ اس سے انھیں غیر روایتی حکمت عملی اپنانے کا حوصلہ ملتا ہے۔‘
اگر آپ والدین ہیں تو آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ بچے کو عام نام دیا جائے یا مقبول نام تاکہ بچے کو خوشگوار سمجھا جائے اور اس کی مقبولیت بڑھ سکے یا پھر انھیں کوئی مخصوص نام دے کر انھیں خاص محسوس کرایا جائے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر غور کیا جائے۔
ژو کا کہنا ہے کہ ’عام یا غیر نام کے اپنے فائدے اور نقصان ہو سکتے ہیں۔ والدین کو ان خوبیوں اور خامیوں کا پتا ہونا چاہیے تاکہ وہ بچے کو صحیح نام دے سکیں۔‘
اس کا شاید ایک راز یہ ہے کہ ایسا عام نام ہو جسے وقت کے ساتھ مختلف زاویوں سے بدلا جا سکے۔ زو کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کے بچے کا نام عام ہے تو اسے کم وقت میں زیادہ لوگ آسانی سے قبول کر سکتے ہیں۔‘
’لیکن والدین کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے بچوں کے منفرد ہونے پر انھیں سراہا کریں۔ ایسا کرنے کے لیے وہ کوئی خاص عرفیت یا خوبیوں کا مسلسل ذکر کر کے ایسا کر سکتے ہیں۔‘










