ایلیکسا کے والدین ایمازون سے ناراض، نام بدلنے کا مطالبہ

ایلیکسا کے ذریعے بات کرتی ہوئی خاتون

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنایمازون کی ورچوئل اسسٹنٹ کو جگانے کے لیے ایلیکسا نام کا استعمال کیا جاتا ہے
    • مصنف, ٹم جانز
    • عہدہ, دا جیریمی وائن شو کے لیے

ایلیکسا نام کی لڑکیوں کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بچیوں کو اس لیے حراساں کیا جارہا ہے کیونکہ یہی نام ایمازون کی ورچوئل اسسٹنٹ کا بھی ہے۔

بعض نے تو تنگ آکر اپنی بیٹیوں کے نام ہی بدل دیئے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ایلیکسا سے متعلق لطیفوں یا مذاق کی انتہا ہو گئی تھی۔

یہ والدین ایمازون سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کی ڈیوائس کو جگانے کے لیے جو نام استعمال ہوتا ہے اس کو تبدیل کیا جائے اور کسی غیر انسانی نام کا استعمال کیا جائے۔

ایمازون کا کہنا ہے اسے ان واقعات کے بارے میں سن کر ’افسوس‘ ہوا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈیوائس کو جگانے کے لیے متبادل نام موجود ہیں۔

حالیہ عرصے میں ایلیکسا لفظ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ افراد اپنے سمارٹ سپیکروں کو جگانے کے لیے اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔

ایمازون کی ورچوئل ڈیوائس ’ایکو‘ اور ’ایکو ڈاٹ‘ کو چلانے، اس سے کوئی سوال پوچھنے یا اسے کوئی حکم دینے کے لیے اسی لفظ کا استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ’ایلکیسا، یہ بتاؤ کہ آج کا موسم کیسا ہے؟‘

لیکن اس سے ان لڑکیوں کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں جن کا نام ایلیکسا ہے۔ ان کا لوگ مذاق بناتے ہیں، ان کا نام پکار کر انھیں کام کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

ایمازون ایکو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایمازون کے سمارٹ سپیکر بے حد مقبول ہیں اور ابھی تک لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہو چکے ہیں

ہیتھر( فرضی نام) کی نوعمر کی لڑکی ایلیکسا کو اپنے نام کی وجہ سے سیکنڈری سکول شروع ہوتے ہی نہ صرف اپنے ساتھ کے دوسرے بچوں بلکہ اپنے استادوں کے ہاتھوں بھی مذاق اور استحصال کا شکار ہونا پڑا ہے۔

ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’مذاق اڑائے جانے اور حراساں ہونے کے ڈر سے وہ خود کا تعارف کرنے سے ڈرنے لگی تھی۔ وہ ابھی بھی بچی ہے۔ لیکن اس سے بڑی عمر کے لوگوں کو لگتا ہے کہ اس بارے میں مذاق کرنا صحیح ہے۔ یہ پریشان کن بات ہے۔ سکول نے بھی اس بارے میں کوئی مدد نہیں کی بلکہ اس سے کہا گیا کہ تمہیں خود میں قوت برداشت پیدا کرنی ہوگی۔‘

ایلیکسا انسان ہے

ہیتھر کا کہنا ہے کہ لوگوں کے اس رویے سے ان کی بیٹی کی ذہنی حالت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آخرکار انھوں نے ایمازون کے خلاف قانوی کارروائی کرنے کے فیصلہ کیا۔

ہیتھر کا کہنا ہے کہ ’میری بیٹی پہلے سے بہتر جگہ پر ہے۔ ہم نے اس کو ان دوستوں سے علیحدہ کر دیا ہے جو مذاق بناتے تھے۔ اس کا سکول تبدیل کر دیا تاکہ وہ ایک نیا آغاز کر سکے۔ یہ نا انصافی اس کا اور ہمارا کبھی پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ایمازون کو یہ نام بدلنا ہوگا۔ یہ بات بالکل صاف ہے کہ ایمازون نے اس نام کا انتخاب کرنے سے قبل اصول کی بنیاد پر کوئی ریسرچ نہیں کی تھی۔‘

برطانیہ میں 25 برس سے کم عمر کی 4000 ایسی لڑکیاں ہیں جن کا نام ایلیکسا ہے۔ ہیتھر کی طرح بعض دیگر والدین نے بھی بی بی سی کو اسی طرح کے واقعات کے بارے میں بتایا ہے۔

شارلیٹ (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی ایلکیسا چھ برس کی ہے اور اس کے ساتھ بھی اس طرح کا مذاق کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سب سکول میں داخلہ لیتے ہی ہوا۔ اس سے سینئیر لڑکے اس کو کہتے تھے ’ایلیکسا ڈسکو کرو۔‘ ان کی دیکھا دیکھی دوسرے لڑکوں نے بھی اسی طرح کا مذاق کرنا شروع کر دیا۔

’ایک دن ہم پارک میں تھے اور وہاں موجود ہر ایک لڑکا اس کو یہی کہ رہا تھا۔ وہ بالکل سہم گئی۔ میرے خیال میں اس سے اس کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔ بڑی عمر کے لوگ بھی اس کا مذاق بناتے ہیں۔‘

’اس نے مجھ سے کہا، کاش لوگوں کو میرا نام نہ معلوم ہوتا۔ جو لوگ یہ آلات خرید رہے ہیں وہ انجانے میں اس مسئلے میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘

شارلیٹ کا کہنا ہے کہ ایمازون 'اس بات کا اشتہار نہیں کرتا‘ کہ ڈیوائس کو احکامات دینے کے لیے متبادل ناموں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایمازون ڈاٹ کے ساتھ ایک بچہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچھوٹے چھوٹے بچے بھی ایلیکسا سے متعارف ہو چکے ہیں

اس کے جواب میں ایمازون نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے '’ہمارے ورچوئل اسسٹنٹ ان ساری خوبیوں کی عکاسی کرتے ہیں جن کی قدر ہم انسانوں میں کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سمارٹ، حساس، ہمدرد اور سب کا خیال رکھنے والے لوگوں کی طرح ہی یہ آلات ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’متاثرہ افراد نے جن تجربات کا ذکر کیا ہے ان کو سن کر ہمیں دکھ پہنچا ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح کی حراسگی ہمیں ناقابل قبول ہے اور ہم اس کی سخت سے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

اپنے نام کے لیے لڑیں

سنہ 2014 میں ایلیکسا کی لانچ کے بعد اس طرح کی شکایات صرف برطانیہ تک محدود نہیں ہیں۔

امریکی ریاست میساچوسیٹس کی رہائشی لورین جانسن نے ’ایلیکسا از ہیومن‘ یعنی ایلیکسا انسان ہے نامی مہم شروع کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میری بیٹی ایلیکسا اب نو برس کی ہے۔ اس کو چھیڑنا، حراساں کرنا اب معمول کے رویے کی حد پار کر چکا ہے۔ یہ اس کی شناخت کو مٹانے کے مترادف ہے۔ ایلیکسا لفظ نوکر یا غلام کا ہم معنی بن گیا ہے۔ یہ لوگوں کو اس بات کا لائسنس دیتا ہے کہ ایلیکسا نام کی لڑکیوں کو کم نظر سے دیکھیں یا ان کے ساتھ نوکروں والا رویہ اختیار کریں۔‘

لورین کا کہنا ہےکہ تھوڑی بڑی عمر کے بچے ایلیکسا سے متعلق جو لطیفے یا مذاق کرتے ہیں وہ جنسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

اس مسئلے سے نوجوان بھی متاثر ہوتے ہیں۔

ایلیکسا جرمنی کے ہیمبرگ شہر میں رہتی ہیں اور انہیں اپنی نجی اور پروفیشنل زندگی دونوں میں اپنے نام سے متعلق مذاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دفتر میں جب میں کوئی پریزنٹیشن کرتی ہوں اور جیسے ہی میں اپنا نام لیتی ہیں کوئی نہ کوئی ضرور مذاق بناتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں اصولی طور پر یہ بات غلط ہے کہ ایک برانڈ نے ایک انسانی نام پر اتنی بری طرح سے قبضہ کر لیا ہے کہ اس کا مطلب ہی بدل دیا ہے۔ میرا نام میری شناخت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں ہر اس لڑکی سے جس کا نام ایلیکسا ہے، یہ کہنا چاہوں گی کہ وہ اپنے نام کے لیے لڑیں۔ ایمازون کو پیچھے ہٹنا ہی ہوگا۔‘

ایمیزون کا کہنا ہے کہ ’ایلیکسا کے بدلے آلے کو جگانے کے لیے صارفین ديگر ناموں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایکو، کمپوٹر اور ایمیزون ۔ ہم اپنے صارفین کی آراء کی قدر کرتے ہیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ ہم اپنے صارفین کو دیگر متبادل فراہم کر سکیں۔‘

ایلکیسا واحد وائس اسسٹنٹ نہیں ہے جس کا نام انسانوں کے نام پر رکھا گیا ہے۔

ایپل کی وائس اسسٹنٹ سری، سگرڈ، کی مخفف ہے اور یہ نام ناروے، سویڈن اور فارو جزیرے میں استعمال ہوتا ہے۔ نورویجین زبان میں اس کا تلفظ سری سے قریب ہے۔

برطانیہ میں رہنے والی سری نام کی ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ متعدد لوگ انھیں ان کے نام سے متعلق لطیفے بھیجتے ہیں۔ ان لطیفوں کو بھیجنے والوں میں ایپل کی ہیلپ ڈیسک کا ایک ملازم بھی شامل ہے۔