ایک ہی آدمی سے ایک سی محبت اور ایک سا جنسی تعلق کیا ہمیشہ ممکن ہے؟

،تصویر کا ذریعہANNA PORTNOY
- مصنف, ڈیانا ماسس
- عہدہ, بی بی سی منڈو
ہسپانوی زبان کے ناول ’کوٹیریو‘ میں دو خواتین اپنی کہانی بیان کرتی ہیں۔ یہ ناول ہسپانوی مصنفہ لوسیا لِجٹمائر کا نیا نیا ناول ہے۔ لوسیا بیونس آئرس میں سنہ 1975 میں پیدا ہوئیں۔
ناول میں دو خواتین میں سے ایک ڈیبورا موڈی ہیں جو چار صدیاں پہلے کی خاتون ہیں اور وہ انگلینڈ سے بھاگ کر نئی دنیا (امریکہ) میں ایک کالونی آباد کرنے والی پہلی خواتین میں سے ایک تھیں۔
ڈیبورا بے حس و حرکت ریت میں دفن اپنے ماضی کا قصہ بیان کرتی ہیں۔
دوسری ایک نوجوان ہم عصر خاتون ہیں۔ ناول میں ان کا کوئی نام نہیں ہے۔ اور وہ اپنا شہر بارسلونا چھوڑ کر میڈرڈ کی گلیوں میں گھوم رہی ہیں۔ اور اگرچہ ان دونوں میں 400 سال کا فرق ہے لیکن دونوں کی اداسی کی وجوہات ایک ہی ہیں یعنی محبت میں مایوسی، خواہشات کی نامرادی اور لمبے عرصے تک نامعلوم زندگی کا پیچھا۔
اس ناول کا عنوان دینے کے پیچھے ناول نگار کے ذہن میں 'علاج کے لیے جلنا' یعنی تپ کر کندن بننا تھا۔ کوٹیریو کا مطلب ہوتا ہے زخم کو ٹھیک کرنے کے لیے داغنے والی سلاخ۔ اس کتاب کا مقصد ایسے غم کا مداوا کرنا ہے جو رستا ہے جو کھجلاتا اور چھبتا ہے اور اس میں انفیکشن پیدا ہونے سے بچانے کے لیے اسے داغنا ضروری ہے۔'
(یکم ستمبر سے چار ستمبر کے درمیان میکسیکو کے شہر میں منعقد ہونے والے 'ہے کیوریٹارو فیسٹیول' میں لوسیا نے شرکت کی اور یہ انٹرویو ان سے وہیں لیا گیا)۔
اگر یہ ناول کیوٹری (داغنے والا آلہ) ہے تو آپ اس سے کون سا زخم بھرنا چاہتی ہیں؟
ناول کا مرکزی خیال محبت کا افسانوی یا اساطیری خیال ہے۔ بیانیے کے لحاظ سے محبت ایک ایسا ہتھیار ہے جس پر عورتیں نہ صرف بھروسہ کرتی ہیں، بلکہ اس معاملے میں دو ایسی خواتین ہیں جن کی نیت خود کو بچانے کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور وہ ایک جوڑے کے طور پر محبت کے روایتی اور رومانوی خیال سے مایوس ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انھیں خود ہی زخموں کو ٹھیک کرنا ہے اور پھر خود کو زندگی کی جانب لانا ہے۔ بہر حال اس کے لیے دونوں اپنی اپنی حکمت عملی اختیار کرتی ہیں جو کہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔
رومانوی محبت سے انھیں مایوس کیوں ہوتی ہے؟
بعض اوقات ہم نے جو تصور بنا رکھا ہوتا ہے وہ آپ کی توقعات کے مطابق نہیں ہوتا، یہ رنگ اور صورت بدلتا ہے اور اس کی وجہ سے ہمیشہ بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ ایک بار جب آپ کا دل ٹوٹ جاتا ہے تو آپ کو وہاں سے دوبارہ اسے تعمیر کرنا ہوتا ہے اور پھر آپ یہ سمجھتے ہیں محبت کی کہانی ضروری نہیں ہے کہ ویسی ہی ہو جیسا آپ نے سوچا ہو۔
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو حالیہ صدیوں میں بھی تبدیل نہیں ہوا ہے کہ ہم محبت کا کیسا تصور رکھتے ہیں اور یہ کہ بعض اوقات جب وہ فسانہ ٹوٹ جاتا ہے تو ایسے دل شکستہ ہوتے ہیں کہ کوئی دوا کام نہیں کرتی۔۔۔ کوئی تسلی کام نہیں آتی جب تک کہ آپ اپنے آپ کو دوبارہ کھڑا نہ کر سکیں۔
محبت ایک عفریت صفت یا وحشیانہ چیز ہے، ایسے میں اس روایتی محبت کی کیا خباثتیں ہیں؟
مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے جب آپ اس طرح سوچتے ہیں کیونکہ جب آپ ویسے حالات میں ہوں تو محبت کرنا دماغی خلل لگتا ہے۔ ایسے حالات میں آپ دوبارہ شیئر کرنے، دوبارہ اعتماد کرنے پر غور بھی نہیں کر سکتے۔
وہ سمجھتی ہیں کہ محبت وحشت ناک ہے کیونکہ جب آپ محبت کرتے ہیں اور جب آپ عشق میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہ کسی نہ کسی طرح بیمار ہونے سے بہت مختلف نہیں ہے۔
یہ ایسی چیز ہے جو آپ پر حملہ آور ہوتی ہے، جو کہ خلاف عقل ہے اور آپ کو غیر معقول فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہے، اکثر خواہش پر مبنی فیصلے کرواتی ہے اور سب سے بڑھ کر کمزوری پر مبنی۔
محبت آپ کو از خود کمزور بنا دیتی ہے، اور ایسے عالم میں یہ اس کے لیے ظالمانہ ہوتا ہے۔
محبت میں پڑنے سے پہلے، اس کی ایک مکمل، فعال، تخلیقی زندگی ہے، اور جب ان سے 'مونوگیمی کلب' (ایک شادی میں یقین رکھنے والے کلب) میں شامل ہونے کے لیے کہا جاتا ہے، تو وہ کہتی ہیں کہ 'یہ تعلق نہ رکھنے سے بہتر ہے۔ یہ ہر چیز کو معنی دیتا ہے۔ یہ آرام دہ، مونوکارڈ (ایک تارا، ایک تار والا ساز)، سکون آور کی طرح ہے' کیا آپ کا بھی یہی خیال ہے؟
میں روایتی جوڑے کو بیان کرنا چاہتی تھی کہ جب آپ اسے گلے لگاتے ہیں تو وہ آپ کو واپس گلے لگاتی ہے۔
جب آپ کے پاس ایک مستحکم پارٹنر ہوتا ہے، تو آپ اس کے ساتھ رہتے ہیں اور آپ کی زندگی زیادہ تر مستحکم ہوتی ہے اور یہ زندگی سنگل رہنے یا بہت سے لوگوں کے ساتھ رہنے یا دوسری پیچیدہ زندگیوں سے زیادہ قابل قبول اور آسان ہوتی ہے۔
میرے کہنے کا مطلب ہے کہ آپ اپنی ساس کے گھر جاتی ہیں اور یہ ایسا ہے کہ آپ کو سمجھانا آسان ہے خاص کر اگر آپ ایک طویل مدتی رشتے میں رہنے والی والی عورت ہیں۔
یہ ایک ایسا کلب ہے جس میں کچھ رسومات ہیں، سب بہت ملتے جلتے ہیں، اور یہ پچھلے 100 سالوں میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ معمولات ایسے تیار کیے گئے ہیں، جو کہ عالمی سطح پر ہر حساب سے درست سمجھے جاتے ہیں۔ وہ ٹیلی ویژن کے اشتہارات کو تبدیل نہیں کرتے، اور نہ ہی اس کے بارے میں سنیماٹوگرافک بیانیہ تبدیل کرتے ہیں۔
جب میری نسل کی ایک عام خاتون جس کی صرف مردوں میں دلچسپی ہو وہ کہتی ہے کہ اسے ایک ساتھی چاہیے تو ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا ہی چاہتی ہے۔ لیکن پھر خواہشات بہت زیادہ متنوع ہوتی ہیں۔
دونوں کی زندگیوں میں خواہشات کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ڈیبورا کا کہنا ہے کہ 'میں صرف اس وقت خود کو زندہ محسوس کرتی ہوں جب وہ میرے پاس ہوتا ہے'، لیکن اس کا شوہر جلد ہی اس سے دور ہو جاتا ہے اور کیا ہوتا ہےجب وہ اس کی خواہش کرنا چھوڑ دیتا ہے؟
یہی وہ چیز ہے جو اسے مکمل طور پر توڑ دیتی ہے اور وہ اس میں بدلاؤ لاتی ہے، کیونکہ اس نے (جنسی) خواہش کے لیے ہی شادی کی تھی، یہ اس شادی کے لیے ضروری ہے، وہ زبردست خواہش محسوس کرتی ہے اور شادی میں جلدی کرتی ہے، کیونکہ اس کے لیے اس کا جسم اہم ہے: وہ اپنی مضبوطی سے گندھی ہوئی چوٹیوں کے بارے میں بات کرتی ہے، کارسیٹ (تنگ شمیز) اس کے گوشت کو کاٹتی ہے، وہ جسم کی گولائی کی بات کرتی ہیں۔
دونوں میں جو خواہشات نظر آتی ہیں وہ دو مطلوبہ مضامین کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
عصری کردار کے معاملے میں یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ اپنی خواہش کو خود کو نقصان پہنچانے والے انداز میں استعمال کرتی ہے کیونکہ جب وہ علیحدہ ہوتی ہے تو اس کے بہت چاہنے والے ہوتے ہیں جو اس کے لیے اہمیت نہیں رکھتے وہ ان کے ساتھ سوتی ہے کیونکہ وہ خاص چیز حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ غیر ملکیوں کی چاہت ہے۔ بارسلونا ایک سیاحتی شہر ہے اور وہاں سے بہت سے سیاح گزرتے ہیں۔
میں نے اس میں دونوں چیزوں کو دکھانا چاہا ہے بنیادی شہوانی خواہش جس میں اپنے جسم کا خود کو تباہ کرنے کی چیز کے طور پر استعمال ہے۔

،تصویر کا ذریعہANNA PORTNOY
آپ نے اسے خود کو تباہ کن کیوں دکھایا ہے؟
کیونکہ وہ ایک عورت ہے جسے ابھی چھوڑ دیا گیا ہے، وہ تقریباً ایک زومبی ہے، کہیں بہت گہرائی میں وہ دو زومبی ہیں۔
ایک لفظی طور پر اپنی پچھلی زندگی کا ذکر کر رہی ہے اور دوسری شہر میں بے مقصد گھوم رہی ہے یہ جانے بغیر کہ وہ کیوں اور کہاں جا رہی ہے۔ ایک ایسے شہر میں جو اس کی نمائندگی نہیں کرتا، جہاں اسے کوئی راحت نہیں، کوئی سہارا نہیں ہے۔
اسے اب کسی دوست کی خواہش نہیں، نہ ہی وہ کسی سے رابطہ کرنا چاہتی ہے اور بس اسے بے ترتیب طریقے سے جس کے ساتھ چاہے اس کے ساتھ سیکس کرنے کا آئیڈیا پسند آتا ہے، لیکن واضح طور پر وہ اس سے مطمئن نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ خود کے لیے تباہ کن جنسی تعلق ہے، اور یہ بدکاری کی وجہ سے نہیں ہے۔
دونوں اپنے اپنے پروجیکٹ کو دوسرے کے پروجیکٹ کے لیے کیوں ملتوی کرتی ہیں: کیا اس کے پس پشت شوہروں کا سیاسی کیریئر ہے؟
خواتین کو سیاسی کرئیر کے لیے ایک آلہ بنانے کے خیال نے مجھے بہت بے چین کر دیا۔ اسی تکلیف میں بغاوت جنم لیتی ہے اور مجھے ان کے لیے اپنا پروجیکٹ یا منصوبے کا خیال آتا ہے۔
ڈیبورا کے معاملے میں یہ دوسری عورتوں کے ساتھ اس کے تعلق کے روپ میں ابھرتا ہے جبکہ معاصر خواتین کے معاملے میں یہ بدلے کی شکل میں۔ اور یہاں یہ دو وسائل ہیں جو موجود ہیں۔
میرے لیے دونوں عصری دنیا میں، ہمارے معاشرے میں بہت مفید معلوم ہوتے ہیں۔ یا تو تلافی کے خیال سے، جو کہ بہت ضروری ہے یا پھر اختلاف رائے کے لیے اپنا بیانیہ پیدا کرنا، جو کہ عصری حقوق نسواں کی علمبردار کرتی ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ بدلے کو مکمل طور پر سینسر کیا گیا ہے، لیکن آپ اسے مرحم کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہ آپ کے لیے کیسے کام کرتا ہے؟
یہ میرے بیانیہ کا پسندیدہ وسیلہ ہے، مجھے ایسی فلمیں پسند ہیں جس میں خواتین کا انتقام ہو، یہ ہمیشہ میرے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے اور تمام ادب جس نے مجھے بطور مصنف تشکیل دیا ہے، یہ چیز بنیادی ہے۔
بدلہ لینے کے ساتھ آپ اخیر میں گنگناتی ہیں، خاص طور پر خاموش کرداروں میں؛ جب وہ آتے ہیں، چیزوں کا ایک سلسلہ ظاہر ہوتا ہے جو میرے لیے بہت پر لطف ہوتا ہے۔
اور اگر میں سچ کہوں تو سب سے پہلی چیز جو میں نے لکھی وہ عصری کردار کا بدلہ تھا، کیونکہ میں نے سوچا کہ اگر اسے اتنا نقصان اٹھانا پڑے گا تو مجھے یہ لکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ہر چیز سے پہلے بدلہ کیسے لیتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی بدلہ لیا ہے؟
میں ذاتی زندگی میں انتقام پر یقین نہیں رکھتی، صرف ہم آہنگی اور باہمی تعاون پر یقین رکھتی ہوں۔
لیکن کیا یہ ایسا وسیلہ ہے جسے ہم خواتین لے سکتی ہیں؟
کیا آپ جانتی ہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ جب بھی میں حقیقی زندگی میں خواتین کے بدلہ لینے کے بارے میں سوچتی ہوں، مجھے لگتا ہے کہ کسی نہ کسی وقت اسے سزا ملے گی۔
یہی وجہ ہے کہ حقیقت میں، میں تلافی کے خیال کو ترجیح دیتی ہوں، کیونکہ ناانصافی کی صورت میں تلافی اور مرحم ضروری ہے۔ لیکن ادب میں انتقام مجھے شاندار لگتا ہے۔
یہ بہت سوچا سمجھا بدلہ لینا ہو گا تاکہ اسے سزا نہ ملے۔۔۔؟
یعنی ایک سوچے سمجھے جرم کی طرح، تاکہ آپ پکڑے نہ جائیں۔
ناول ایک بہت کامل کردار ہے جسے ہم ظاہر نہیں کرنا چاہیں گے، آپ کو کس چیز نے متاثر کیا؟
میں نے تمام تر تشدد کے بارے میں سوچا اور یہ کہ جب کوئی جوڑا ٹوٹ جاتا ہے تو سب سے اہم چیز گھر کا ہونا ہوتا ہے۔ کیا ہوگا اگر آپ کے تمام پیارے بھوت اس گھر پر قابض ہوجائیں؟
میں نے میڈرڈ میں فلیٹ کی تلاش میں دیکھا کہ لوگ کچھ بھی کرائے پر لینے کے لیے کتنے بے چین ہیں، وہاں میں نے یہ چیز بہت واضح طور پر دیکھی۔
کیا آپ محسوس کرتی ہیں کہ صدیوں کے امتیازی سلوک کے بعد ہم انتقام لینے کے ایک خاص دور میں ہیں؟
میرے خیال میں نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہم خواتین نے پچھلے 50 سالوں میں ہم صرف اپنے جسم کی آزادی اور سیاسی اور سماجی کردار کے استعمال کے اپنے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، کیونکہ ہم دوسرے درجے کے شہری رہے ہیں اور جو ہمارا حق ہونا چاہیے ہم اس کو حاصل کرنے کا دعوی کر رہے ہیں۔
بہرصورت جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ امریکہ میں انتہائی دائیں بازو کی عظیم تحریکوں میں اسقاط حمل کو مجرم قرار دینے والے نئے قوانین میں تلافی کی ان کوششوں کی سزا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
میرا خیال ہے کہ ہم ایک انتہائی قدامت پسند لہر کا سامنا کر رہے ہیں جو سنہ 1970 کی دہائی سے اٹھ رہی ہے، شہری حقوق کی تحریکوں کو مقبول بنانے کے ساتھ اور یہ تازہ ترین عظیم پیشرفت کی مخالفت کر رہی ہے، جسے ہم جنسی تشدد، مزدوری میں عدم مساوات وغیرہ کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہANAGRAM
ہمیں اس انتہائی قدامت پسند لہر پر کیسا ردعمل ظاہر کرنا چاہیے؟
جیسا کہ ہم نے ہمیشہ کیا ہے، بیان کرنا، نام دینا اور نیٹ ورک بنانا۔
آپ اس تحریک کی اہم چیز کے طور پر کس چیز کو اجاگر کریں گی؟
بلاشبہ MeToo# لیکن دنیا بھر میں#Tell it بھی استعمال کیا جا رہا ہے جس کے تحت جنسی تشدد اور ہراساں کرنے والے کا نام ظاہر کیا جاتا ہے ’اور یہ بہت منظم ہے۔ تمام نوآبادیاتی تحریکیں جو اس حقیقت کو آواز دیتی ہیں کہ حقوق نسواں سفید فام نہیں ہے اور یہ سب کا (مرد عورت) ہے اور ہمیشہ سے ہے اس طرح کے خیال کو توڑنا چاہیے۔
ہر وہ چیز جس کا تعلق جسموں کی خود مختاری کے حقوق کے حق میں ہے، لاطینی امریکہ میں خاص طور پر ارجنٹائن، آئرلینڈ اور پولینڈ میں گرین سکارف کی تحریک، جہاں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور انھوں نے چرچ اور انتہائی قدامت پسند تحریکوں کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو توڑ گرایا۔ یہ تین بڑے مسائل ہیں جو بنیادی رہے ہیں۔
کیا آپ یہ کہیں گی کہ ان میں سے اکثر کا تعلق جسم سے ہے، اس کی حفاظت، اس کی آزادی، اس کی خود مختاری سے ہے؟
جب بھی کوئی سماجی دھچکہ سامنے آتا ہے تو سب سے پہلے جس چیز پر قدغن لگتی ہے وہ خواتین کے جسم ہوتے ہیں۔ مارگریٹ ایٹ ووڈ 'دی ہینڈ میڈز ٹیل' کے بارے میں یہی کہتی ہیں کہ جب لوگ اس کی باتوں سے بدنام ہوتے ہیں تو وہ کہتی ہیں کہ ایسا کچھ نیا نہیں جو دنیا کی تاریخ میں پہلے نہیں ہوا۔
جنگوں میں سب سے پہلا کام ریپ کے ذریعے عورتوں کے جسم کو فتح کرنا ہے۔ سب سے پہلا کام جو ایک آمرانہ حکومت کرتی ہے وہ خواتین کے جسموں پر کنٹرول کے ذریعے پیدائش پر قابو پانا ہوتا ہے۔
لہذا، جنسی آزادی تک خواتین کی رسائی بنیادی ہے، یہ صرف بچے کو جنم دینے یا نہ دینے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ان کی خواہش پر قابو پانے کا معاملہ ہے، کیونکہ جیسا کہ حقوق نسواں کی تجزیہ کار لوسیانا پیکر کہتی ہیں کہ جو چیز ان لوگوں کو پریشان کرتی ہے وہ خواہش ہے اور ان کی بات درست ہے۔
آپ انھیں بھاڑ میں کیوں جھونکتی ہیں؟
کیونکہ جو خاتون مزا کرتی ہے وہ خطرناک عورت ہے۔ خود مختاری کے لیے، اس حقیقت کے لیے کہ اسے اپنی خوشی حاصل کرنے کے لیے آپ کی ضرورت نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ وہ باخبر ہے، یہ شاید ایک لاشعوری خوف ہے، لیکن اس کا واضح طور پر اس سے کچھ لینا دینا ہے۔
آزادی دوسرے کی ضرورت نہ ہونے کا امکان ہے، آزادی سے لطف اندوز ہونے کا نام ہے، یہ واضح چیز ہے، لیکن اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ مرد اسے سمجھ رہے ہیں یا وہ اس سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں؟
میرے لیے اسے سب کے لیے کہنا مشکل ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ہر پیش رفت کے لیے اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے، اور ظاہر ہے کوئی بھی اپنا حق کو کھونا نہیں چاہتا، میں اس میں پنہاں خوف کو سمجھتی ہوں، میں مزاحمت کو بھی سمجھتی ہوں۔
لیکن جیسے ہی آپ تشدد، دوسرے درجے کے شہری ہونے، دوسرے کو وہی حقوق حاصل نہ ہونے کے تصور کا جائزہ لیں گے جو دوسروں کو پوری طرح حاصل ہے تو اسے سمجھنا اور اس میں شامل ہونا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں شامل ہونے میں ہی بہت زیادہ مزا ہے تاکہ چیزوں کو تبدیل کیا جا سکے۔
ممکنہ مستقبل کیا ہیں؟
ناول کوئی مستقبل کا نقطہ نظر نہیں بناتا، میرے خیال میں یہ حل سے زیادہ سوالات پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف ماحولیاتی تباہی ہے چونکہ عصری کردار خوفزدہ ہے اور اس کا اس باطل خیال پر غور سب کچھ ختم ہی نہیں کرتا بکہ ایک خود کو نقصان پہنچانے والے رویے کا حصہ ہے۔ اس میں روایتی محبت کے بارے میں بھی سوال ہے کہ کیا ہم اس پر قابو پا سکتے ہیں یا ہم ہمیشہ وہی کہانیاں دہرائے جائيں گے۔
اور آخر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا روایتی طور پر سیاسی رویے سے ہٹ کر منصوبوں میں مشترکہ مستقبل کا خیال زندہ رہنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے، یا پھر صرف خود غرضی اور انفرادیت پسندی ہی ہمیں بچا سکتی ہے۔
آخر میں مستقبل کے منصوبوں میں اتحاد کا امکان نظر آتا ہے جس سے کچھ امید پیدا ہوتی ہے۔ بلاشبہ، اشتراک میں طاقت ہے اور اس معاملے میں سماجی اتحاد کو میں مستقبل کے لیے بہترین امکان کے طور پر دیکھتی ہوں۔
جہاں تک روایتی محبت کا تعلق ہے، ہم اسے کیسے پیش کر سکتے ہیں؟
کوئی واحد حل نہیں ہے۔ ہم مستقبل کے لیے کوششیں کر سکتے ہیں، لیکن زیادہ نہیں۔ آپشنز اور تجربات کو سنیں اور دیکھیں کہ کیا کام کرتا ہے۔ اس میں غلطی سے سیکھنے والی بات ہے۔ یہ بھی سمجھ لیں کہ خوشی غیر واضح نہیں ہے، شاید ہمیں محبت میں کمال کی خواہش کو توڑنا ہوگا جو کہ ہمیں ناخوشگوار لگتا ہے۔
کیا محبت میں کمال کی تلاش کا رجحان خواتین میں ہی زیادہ ہے یا مردوں میں بھی ہے؟
یہ عصری سرمایہ داری کا سوال ہے، محبت میں سرمایہ داری کا، جذبات کی مسلسل ضرورت کا سوال ہے جو مردوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ہر چیز کو ہر وقت بہترین ہونا چاہئے: ایک ہی شخص کے ساتھ بہترین جنسی تعلقات، طویل مدتی، اور ہمیشہ پہلے دن کی طرح محبت میں رہنا ناممکن ہے، لیکن کوئی بھی ایسا نہیں کہتا۔
ہمیں اس بارے میں زیادہ ایمانداری سے بات کرنی ہوگی کہ ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے اور خود کو ایمانداری سے بیان کرنے کا مطلب ان تمام ممنوعات کو توڑنا ہے۔
وہ ٹیبو یا ممنوعہ چیز کیا ہوگی جسے آپ آج اس انٹرویو میں توڑنے کی تجویز پیش کریں گی؟
نجات اور زندگی کے منتر کے طور پر محبت کا خیال۔ یہ قبول کریں کہ یہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا، یا ہر وقت ایسا نہیں ہوتا۔ یہ جو دوسری نسلوں سے آتا ہے کہ محبت ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے اور جب ایسا نہیں ہوتا تو اسے ناکام سمجھا جاتا ہے۔ جتنی جلدی ممکن ہو اس خیال کو حتم کر دو۔











