پاکستان میں غیر واضح جنسی شناخت کے حامل افراد کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
’میرا جسم لڑکیوں کی طرح لیکن احساسات لڑکوں والے تھے۔ چہرے پر بال آ رہے تھے اور ماہواری سال میں ایک آدھ مرتبہ آتی تھی۔ میں ذہنی تناؤ کا شکار ہو گیا تھا۔‘
غضنفر (فرضی نام) نے اپنی عمر کے 25 سال اسی ابہام میں گزار دیے کہ وہ لڑکا ہیں یا پھر لڑکی۔
جنس کا ابہام ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی مختلف سائنسی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن معاشرے میں اس قدرتی عمل سے متعلق طرح طرح کے خیالات پائے جاتے ہیں۔
غضنفر بتاتے ہیں کہ ’خاندان کے لوگ کہتے تھے تمھارے چہرے پر بال کیوں ہیں، تمھارے چلنے کا سٹائل لڑکوں جیسا کیوں ہے۔ اس طرح کی باتوں سے میں پریشان رہتا تھا۔‘
غیر واضح جنس
خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور سے تعلق رکھنے والے غضنفر سے میری ملاقات پشاور کے ایک نجی ہسپتال نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال میں ہوئی۔
وہ جینز پہنے، فوجی سٹائل ہیئر کٹ کے ساتھ مردوں میں ایسے بیٹھے تھے کہ کوئی ان کو دیکھے تو اسے گمان بھی نہ ہو کہ صرف دو تین برس پہلے یہ نوجوان جسمانی طور پر ایک لڑکی تھی۔
غضنفر سرجری کروانے کے بعد اس ہسپتال میں ڈاکٹر عبید اللہ کے پاس معائنے کے لیے آئے تھے۔ ان کی سرجری کے دو سیشن ابھی باقی ہیں جو آئندہ چند ماہ میں مکمل ہوں گے۔ اس پلاسٹک سرجری کے دوران ان کا عضو تناسل امپلانٹ کیا گیا جس سے پہلے ایک اور سرجری میں ان کی چھاتی کا آپریشن کیا گیا۔
لیکن یہ سب آسان نہیں تھا۔ غضنفر نے بتایا کہ یہ ان کے لیے مشکل وقت تھا کہ وہ کیا فیصلہ کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’لوگوں کی باتیں ایک طرف، گھر میں ایک بھائی بھی مخالفت کر رہے تھے۔ ایسے میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ میں نہ تو مکمل لڑکی تھی اور نہ ہی میں مکمل لڑکا تھا۔‘
دنیا میں پیدا ہونے والے کئی بچے ایسے ہوتے جن کی جنس پیدائش کے وقت واضح نہیں ہوتی۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کے جسم میں جنس کے اغصا نامکمل ہوں یا پھر بچے کے جسم کی اندرونی اور بیرونی ساخت مختلف ہو۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کچھ لوگ جینڈر کی بنیاد پر مسائل کا شکار ہوتے ہیں تو چند سیکس یا تولیدی نظام کے حوالے سے دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں۔
پاکستان میں کتنے لوگ جنس تبدیل کرواتے ہیں؟
گزشتہ سال سینیٹ میں جماعت اسلامی کے مشتاق احمد نے سوال پوچھا تھا کہ 2018 سے جون 2021 تک جنس کی تبدیلی کی کتنی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
اس سوال کا جواب سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے دیا تھا جس کے مطابق اس عرصے میں 28500 سے زیادہ ایسی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
حکومت کے اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد سے عورت بننے کی 16500 جبکہ عورت سے مرد بننے کے لیے 12000 سے زیادہ درخواستیں آئی تھیں۔
اس کے علاوہ مرد سے خواجہ سرا بننے کی 9 درخواستیں جبکہ عورت سے خواجہ سرا بننے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تھی۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ خواجہ سرا سے مرد بننے کی 21 اور خواجہ سرا سے عورت بننے کی 9 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
غضنفر کی کہانی
غضنفر کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جن کو بچپن سے ہی مسائل کا سامنا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف جسمانی ہی نہیں تھا۔
’مجھے شروع سے ہی لڑکیوں میں بیٹھنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ مجھے مجبورا لڑکیوں کے کپڑے پہننا پڑتے تھے۔ لیکن میں اپنی حالت کسی کو بتا نہیں سکتا تھا۔‘
’آج سے چار پانچ سال پہلے میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے اب مکمل علاج کرانا ہے اور ڈاکٹروں کے مشورے سے میں نے لڑکا بننے کا فیصلہ کیا تھا۔‘
’میں نے گھر میں بات کی۔ والد نے میری مکمل حمایت کی اور وہ میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس بھی گئے۔ باقی بھائیوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن ایک بھائی نے مخالفت کی۔‘
’معاشرے میں اور قریبی لوگوں میں کسی کو علم بھی نہیں ہوا لیکن اپنے خاندان میں لوگوں نے سپورٹ کیا۔ میں نے کسی کی پرواہ نہیں کی کہ کوئی کیا سوچتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا فیصلہ خود کیا اور ڈاکٹر بھی خواہ مخواہ تو کسی کا آپریشن نہیں کرتے۔‘
’اب میری عمر 30 سال ہے اور آج سے چار سال پہلے میں نے باقاعدہ لڑکوں والے کپڑے پہننا شروع کیے۔ مجھے پہلے بھی جینز اورکرتا پسند تھا۔ اب اپنے آپ کو پرسکون محسوس کرتا ہوں۔ پہلے میں ڈیپریشن کا شکار تھا۔‘
غضنفر کا ارادہ ہے کہ جب ان کے ایک دو آپریشن، جو رہتے ہیں، مکمل ہو جائیں گے تو وہ میڈیا میں کام کریں گے۔
غیر واضح جنس کے علاج کی اجازت
غضنفر نے جب اسلام آباد میں ایک ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو ان کے ٹیسٹ کیے گئے۔ ان کو بتایا گیا کہ ان کا مسئلہ جنسی شناخت کا ہے جس کا شکار کئی لوگ ہوتے ہیں۔ مثبت بات یہ تھی کہ ان کا علاج آپریشن کے ذریعے ممکن تھا لیکن اس سے پہلے ان کو عدالت سے اجازت نامہ اور علما سے فتوی درکار تھا۔
اسلام آباد میں اخراجات کی وجہ سے وہ علاج نہیں کروا سکے جس کے بعد ان کا پشاور میں ڈاکٹر عبید اللہ سے رابطہ ہوا۔
ڈاکٹر عبید اللہ نے بتایا کہ ’ایران میں ماہر نفسیات لکھ کر دے دے تو بچے کی جنس متعین کی جا سکتی ہے جبکہ مصر کی جامعہ الاظہر کے مطابق جنس کی تبدیلی منع ہے لیکن جنس میں کوئی مسئلہ ہو تو اس کی اصلاح یا اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر عبید اللہ کے مطابق پاکستان میں بھی عدالت اور علماء کی اجازت اور ماہرین کی رائے کے بعد ہی جنس کا تعین کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
غضنفر نے عدالت سے اجازت نامہ اور فتوی حاصل کر لیا اور اب ان کا علاج کامیابی سے جاری ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’امید ہے بہت جلد یہ سارا پروسیجر مکمل ہو جائے گا اور پھر میں شادی کروں گا۔‘
پشاور کے ایک نجی ادارے نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال میں 16 ماہر ڈاکٹرں کا ایک پینل مہینے میں ایک بار ایسے مریضوں کو دیکھتا ہے جن کی جنس غیر واضح ہوتی ہے۔

اس پینل میں پلاسٹک سرجن، فیزیشن، ماہر امراض بچگان، ماہر امراض نسواں کے ساتھ ساتھ انڈوکرائنالوجسٹ، سرجنز اور دیگر ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں۔
پلاسٹک سرجن ڈاکٹر عبیداللہ بھی اس پینل کا حصہ ہیں جنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پینل کے سامنے وہ مریض بلائے جاتے ہیں جن کے مسائل زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔
’ان کے ہارمونز اور کروموسمز کے علاوہ دیگر مسائل ہوتے ہیں۔ اس لیے ان تمام ماہرین کی رائے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ایک مخصوص کیس میں کیا کرنا ہے۔ اگر مریض نابالغ ہے تو اس کے والدین سے مشاورت کی جاتی ہے۔‘
والدین کی مشکلات
اس پینل میں ایک پانچ سالہ بچے کا کیس بھی آیا جس کی والدہ سنبل (فرضی نام) نے بی بی سی کو بتایا کہ پیدائش کے بعد ان کے بچے کے عضو تناسل کی جگہ پر سوجن تھی جس پر انھوں نے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا۔
انھوں نے بتایا کہ ٹیسٹ ہوئے تو معلوم ہوا کہ بچے کی جسمانی ساخت لڑکوں والی ہے لیکن عضو تناسل نہیں ہے۔
اب اس بچے کے علاج کا فیصلہ ہوا ہے۔ سنبل کا مشورہ ہے کہ اگر کسی کے والدین کو ایسا محسوس ہو تو متعلقہ ڈاکٹروں سے فوری طور پر رابطہ کرنا چاہیے تاکہ مسائل کا حل فوری طور پر تلاش کیا جا سکے۔
محمد عاطف (فرضی نام) کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان سے ہے۔ ان کی بیٹی کی عمر لگ بھگ 14 سال ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے جسم کے اندر روح لڑکوں والی ہے۔‘
انھوں نے بتایاکہ پیدائش کے وقت انھیں کچھ شک ہوا اور وہ بچی کو کراچی اور اسلام آباد میں ڈاکٹروں کے پاس لے کر گئے۔
’انھوں نے کچھ ادویات دیں جو ڈاکٹروں کے مطابق 13 سال تک استعمال کرنا تھیں۔ بچی نے یہ 13 سال انتہائی مشکل سے گزارے اور ادویات بھی بہت مہنگی ہوتی تھیں۔‘
ڈاکٹر غیر واضح جنس کے کیسز میں کیا کرتے ہیں؟

غیر واضح جنس کے ساتھ پیدا ہونے والے افراد کی مختلف اقسام ہیں۔ ڈاکٹر عبیداللہ ماہر پلاسٹک سرجن ہیں اور اب تک متعدد ایسے افراد کے آپریشن کر چکے ہیں جن کی جنس غیر واضح تھی اور انھیں مصنوعی اعضاء لگائے ہیں۔
ڈاکٹر عبیداللہ بتاتے ہیں کہ جنس کا تعین پانچ جگہوں سے ہوتا ہے۔
’ایکس کروموسومز اور وائی کروموسومز لڑکے اور لڑکی کے فرق کا بتاتے ہیں اور پھر ایس آر وائی جین ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف فیکٹرز ہوتے ہیں جن میں نفسیاتی اثر ہوتا ہے، والدین اپنے بچوں کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ بچہ یا بچی خود اپنے اندر کیا احساسات رکھتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہارمونز یا کرموسومز کی کمی ہو تو اس کے لیے ادویات فراہم کی جاتی ہیں لیکن ’اگر جسم کے اندر ریسیپٹرز نہیں ہیں تو اثر نہیں ہوتا۔ پھر مختلف طریقہ اپنایا جاتا ہے۔‘
ڈاکٹروں کے پینل کے سامنے پیش ہونے والے بیشتر افراد شرم کی وجہ سے بات کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور اس سارے عمل کو خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق اب لوگوں میں جنسی شناخت کے مسئلے کی آگہی پیدا ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر عبیداللہ نے بتایا کہ ان کے پاس ایک خاتون لیکچرر اور ایک نرس علاج کے لیے آئیں۔
’ان میں سے لیکچرر نے مرد بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس خاتون کو کہا گیا کہ دو سال تک اسے لڑکا بن کر رہنا ہوگا کیونکہ اگر ان کی سرجری کی جائے گی تو واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ لیکچرر نے اپنی نوکری سے استعفی دے دیا اور ایک گاؤں میں مرد بن کر دوکان کھول لی۔ مردانہ کپڑے پہن کر وہ دو سال تک رہیں جس کے بعد ان کا آپریشن کیا گیا اور مکمل مرد بنا دیا گیا۔‘
’نرس نے خاتون بننے کی خواہش کا اظہار کیا تو سرجری سے سینے بڑھا دیے گئے اور ویجائنا بھی پلاسٹک سرجری سے نصب کر دی گئی۔ یہ خاتون بچے پیدا کرنے کی صلاحیت اب نہیں رکھتی۔‘
ڈاکٹر عبیداللہ کا کہنا تھا کہ جنس کے تعین کے لیے میڈیکل پروسیجرز پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے مکمل ہو جانا چاہیے اور اس کے مختلف وجوہات ہیں۔
ڈاکٹر عبیداللہ نے بتایا کہ ’پانچ سال کی عمر میں بچے کو سکول میں داخل کیا جاتا ہے اور اس عمر میں اگر بچے کو جنسی شناخت کے جسمانی یا نفسیاتی مسائل کا سامنا ہو تو اسے سکول کے دیگر بچوں کے مزاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
’دوسری بات یہ ہے کہ پانچ سال کے بعد جو سرجری ہوتی ہے وہ بچے کو یاد رہتی ہے اور بچے کے ذہن میں ایسی کوئی بھی بات باقی رہ جائے کہ اس میں جنسی طور پر کوئی کمی تھی تو نفسیاتی اثر ہوتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان کے ایسے مریض بھی رہے ہیں جنھوں نے ایسے ہی مسائل کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی۔
ہائپو سپیڈیا کیا ہے؟

ڈاکٹروں کے مطابق ہائپو سپیڈیا کے کیسز کی تعداد میں گزستہ 70 سالوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ بنیادی طور پر اس کیس میں عضو تناسل کی جگہ ایک سوراخ ہوتا ہے جہاں سے پیشاب خارج ہوتا ہے۔ ایسے کیسز میں عضو سکڑنا یا انتہائی چھوٹا ہونا شروع ہو جاتا ہے جس سے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عبید کے مطابق کزنز کے درمیان شادی سے ایسے مسائل ہوتے ہیں اور ایسے واقعات سوات اور باجوڑ سے بہت زیادہ سامنے آتے تھے۔
’لڑکا بن جائے تو فخر، لڑکی بنے تو سٹگما‘
دنیا میں بحث جاری ہے کہ کیا غیر واضح جنس کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین کرنے کا اختیار بچے کے والدین کو ہونا چاہیے یا والدین کو 18 سال تک انتظار کرنا چاہیے جب بچہ بالغ ہو جائے تاکہ وہ خود فیصلہ کرے کہ اس نے کس جنس کو اختیار کرنا ہے۔
ڈاکٹر عبیداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مغربی ممالک میں 18 سال تک ایسے بچے کو نیوٹرل کا نام دیا جاتا ہے۔ ’ان ممالک میں جذبات کو ایک طرف رکھ دیا گیا ہے اور اس بچے کی جنس متعین نہیں کی جاتی۔‘
’ہمارے معاشرے میں ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ کوئی نیوٹرل بچہ یعنی غیر واضح جنس کے ساتھ بچہ کیسے معاشرے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کے سامنے اب تک ایسے کسی والدین یا بچے کا کیس نہیں آیا جو بچے نیوٹرل کی شناخت اپنانا چاہتے ہوں۔
ایک غیر سرکاری تنظیم بلیو وینز کے پروگرام مینیجر قمر نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ انٹر سیکس کے لیے جاری تحریک کے معیار کے مطابق 18 سال سے پہلے کسی بچے کی جنس کا تعین کرنا موزوں نہیں کیونکہ ’ہو سکتا ہے کہ اس بچے میں دونوں جنس کے اثرات ہوں اور وہ بچہ 18 سال کی عمر کے بعد کوئی مختلف فیصلہ کرنا چاہتا ہو۔‘
قمر نسیم کے مطابق ’اگر ایک لڑکی جنس کی تبدیلی کے بعد لڑکا بن جائے تو اس پر فخر کیا جاتا ہے لیکن قدرت کے اس نظام کے تحت اگر کوئی لڑکا جنسی تبدیلی کے عمل میں لڑکی بن جائے تو یہ ایک سٹگما بن جاتا ہے۔‘
پاکستان میں اس موضوع پر اب تک بات کرنا عام نہیں اور اس بارے میں گفتگو کرنا والدین یا متاثرہ افراد کے لیے ایک بڑا مسئلہ ثابت ہوتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور اس کے بارے میں آگہی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔











