عرب نوجوانوں میں ویاگرا کے استعمال کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, حسام فازاللہ
- عہدہ, بی بی سی عربی
پرانے قاہرہ کے مرکز میں باب الشعریہ کے ایک دوا خانے میں جڑی بوٹیوں سے ادویات بنانے والے ربیع الحبشی ہمیں اپنے ’جادوئی مرکب‘ دکھاتے ہیں۔
حبشی نے مصری دارالحکومت میں قدرتی اجزا سے دواسازی اور جنسی مسائل دور کرنے کی دوائیاں بنانے میں بڑا نام کمایا ہے۔ تاہم گذشتہ کچھ برسوں میں انھوں نے دیکھا ہے کہ اکثر صارفین کا رویہ بدل گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اکثر مردوں کو اب ویاگرا جیسی ادویات چاہییں جنھیں مغربی کمپنیاں بناتی ہیں۔‘
کئی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ نوجوان عرب مردوں میں سیلڈنفل (جس کا کمرشل نام ویاگرا ہے)، ورڈیافل (لویسترا، سٹیکسن) اور تیڈلافل (سیالس) کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
ان شواہد کے ہوتے ہوئے جب بی بی سی نے مصر اور بحرین کی گلیوں میں نوجوان مردوں سے پوچھا کہ آیا وہ عضو تناسل کے مسائل کے حل کے لیے ویاگرا جیسی ادویات استعمال کرتے ہیں یا انھیں ان کا علم ہے تو اکثر نے نہ میں جواب دیا۔
کچھ نے تو اس مسئلے کے بارے میں بات کرنے سے بھی انکار کردیا کیونکہ ’یہ معاشرے میں اخلاقیات کے اصولوں کے منافی ہے۔‘
درحقیقت 2015 کی ایک تحقیق کے مطابق عرب دنیا میں مصر میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ جنسی مسائل حل کرنے کی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ جبکہ یہاں سعودی عرب سرفہرست ہے۔
سعودی اخبار الریاض، جس نے یہ رپورٹ شائع کی، کا اندازہ ہے کہ سعودی شہریوں نے جنسی تسکین بڑھانے کی ادویات پر 1.5 ارب ڈالر خرچ کیے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب میں ان ادویات کا استعمال روس کے مقابلے میں 10 گنا رہا جس کی آبادی سعودی عرب سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

حال ہی میں یورولوجی کے عرب جریدے کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اس میں حصہ لینے والے 40 فیصد نوجوان سعودی شہریوں نے تسلیم کیا کہ انھوں نے زندگی کے کسی نہ کسی موقع پر ویاگرا یا اس جیسی دوا استعمال کی ہے۔
مصر اب بھی اس دوڑ میں آگے ہے۔ سال 2021 کے ریاستی اعداد و شمار کے مطابق جنسی مسائل دور کرنے کی ادویات کی سالانہ 127 ملین ڈالر کی فروخت ہوتی ہے۔ یہ مصر میں مجموعی طور پر ادویات کی مارکیٹ کا 2.8 فیصد حصہ ہے۔
مردوں پر دباؤ
کبھی نہ کبھی ہر کسی کو یہ تجربہ کرنا ہوتا ہے۔
سال 2014 کے دوران مصری دکانوں پر چاکلیٹ کی شکل میں ایک جنسی مسائل حل کرنے کی دوا متعارف کرائی گئی جس کا نام الفنکوش تھا۔ اسے ایک مصری پاؤنڈ (آج کے کرنسی ایکسچینج کے مطابق 0.05 ڈالر) میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ مارکیٹ میں آنے کے بعد کچھ عرصے بعد الفنکوش کی ترسیل اور پیداوار روک دی گئی اور اسے بنانے والے کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ اسے مبینہ طور پر بچوں کو بھی فروخت کیا جا رہا تھا۔
عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنسی تسکین بڑھانے کی ادویات نوجوانوں کے مقابلے زیادہ تر معمر افراد استعمال کرتے ہیں۔ تاہم یمن میں وزارت صحت کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ انھیں زیادہ تر 20 سے 45 سال عمر کے افراد استعمال کر رہے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات ہیں کہ ویاگرا اور سیالس سال 2015 میں حوثی باغیوں کی تحریک اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان خانہ جنگی کے بعد سے نوجوان مردوں میں ’پارٹی ڈرگ‘ کے طور پر مشہور ہوئی۔
تیونس سے تعلق رکھنے والے یورولوجی اور ری پروڈکٹیو سرجری کے پروفیسر محمد فاسی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایسی ادویات جنسی تسکین برھاتی نہیں بلکہ اکثر ان عارضوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں جن سے معمر افراد متاثرہ ہوتے ہیں۔
دریں اثنا مشرق وسطیٰ میں جنسیات کی ایک ماہر کا کہنا ہے کہ نوجوان عرب مرد معاشرے کے رجحانات کے باعث جنسی مسائل کے حل کی ادویات کی طرف بڑھ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
مصری نژاد برطانوی صحافی اور عرب دنیا میں جنسی رجحانات پر ایک کتاب کی مصنفہ شریں الفقی کا کہنا ہے کہ ’ایسی وجوہات ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس کا نوجوان عرب مرد سامنا کر رہے ہیں۔‘
مشرق وسطیٰ میں 2017 کے دوران اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ صنفی برابری کے سروے پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’قریب تمام مرد شرکا اپنے مستقبل کے بارے میں ڈرے ہوئے ہیں اور یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ وہ اپنے خاندان والوں کی معاونت کیسے کریں گے۔
’کئی مردوں نے اس بارے میں بات کی ہے کہ مرد ہونے پر ان پر کتنا دباؤ ہے۔ جبکہ کئی خواتین نے بتایا کہ مرد اب مرد نہیں رہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’مرد ہونا کیا معنی رکھتا ہے، اس چیز کا دباؤ موجود ہے اور جب ’مردانگی‘ سے جڑے جنسی طور پر فعال ہونے کے تصور کی بات آتی ہے تو ان پر اس کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔‘
شریں سمجھتی ہیں کہ سیکس میں پرفارمنس کا دباؤ، اس کے گرد گمراہ کن تصوارت سے منسلک ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پورنوگرافی کی وجہ سے غیر حقیقت پسندانہ توقعات رائج ہوئی ہیں۔ اس سے نوجوان مردوں کے خیالات بدل جاتے ہیں کہ کیا عام ہے اور کیا نہیں۔
تاریخی اعتبار سے پائے جانے والے تصورات
عرب معاشروں میں جنسی تسکین کے لیے ادویات کا استعمال شاید کوئی جدید رجحان خیال کیا جاتا ہے تاہم عرب تاریخ میں اس طرح کی دواسازی ایک معروف شعبہ رہی ہے۔
14ویں صدی کے اسلامی سکالر اور مصنف ابن قیوم الجوزیہ نے شریعی مسائل کے حل سے متعلق اپنی کتاب زاد المعاد میں جنسی تسکین بڑھانے کے لیے جڑی بوٹیوں کی ترکیبیں شامل کی تھیں۔
شریں کہتی ہیں کہ عرب روایات اور اسلامی تہذیب میں خواتین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے جنسی طور پر زیادہ فعال ہوتی ہیں اور ان میں زیادہ ’سیکس ڈرائیو‘ ہوتی ہے جبکہ مردوں کو یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ انھیں اس میں اضافہ کرنا چاہیے۔
سلطنت عثمانیہ کے دور سے بھی ایسے خیالات کی عکاسی ہوتی ہے۔ جیسے سلطان سلیم اول (جنھوں نے 1512 سے 1520 تک اقتدار سنبھالا) کی درخواست پر مصنف احمد بن سلیمان نے کتاب رجوع الشیخ الی صباہ لکھی تھی۔ اس کتاب میں مرد و خواتین کی جنسی خواہشات بڑھانے کے قدرتی ٹوٹکے اور جنسی امراض کے روایتی علاج درج کیے گئے۔
سینکڑوں سال بعد اب بھی عرب مرد ایسے ہی حل تلاش کر رہے ہیں اور ان کے لیے بازار میں کئی دعویدار موجود ہیں۔










