ویاگرا اب بغیر نسخے کے دستیاب، لیکن استعمال کے لیے کن باتوں کا جاننا ضروری ہے؟

ویاگرا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنویاگرا کو پندرہ سال قبل متعارف کرایا گیا تھا اور امریکی تاریخ میں تیزی سے فروخت ہونے والی دوا بن گئی

برطانیہ میں اب مرد کسی ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ہی قوت باہ یعنی جنسی قوت بڑھانے کی مشہور دوا ویاگرا خرید سکیں گے۔

ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دی جانے والی یہ دوا ’ویاگرا کنیکٹ‘ کے نام سے برطانیہ کے چند میڈیکل سٹورز پر فروخت ہو گی۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی کمزوری کا شکار زیادہ سے زیادہ مرد اس سے مستفید ہو سکیں گے اور وہ مرد حضرات جو اپنے ڈاکٹروں سے اس سلسلے میں بات نہیں کر پاتے تھے، وہ بھی اس کے فوائد حاصل کر سکیں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں جنسی کمزوری کا شکار مردوں کی تعداد 43 لاکھ تک ہے۔

کئی دیگر ادویات کی طرح ویاگرا کے بھی صارفین پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اس کا غلط یا ناجائز استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں چند ضروری باتیں ذہن میں رہنی چاہییں:

ویاگرا کسے استعمال کرنی چاہیے؟

ویاگرا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامید کی جا رہی کہ اب مرد اس دوا کی متبادل غیر قانونی ادویات کی خرید روک دیں گے

ویاگرا کنیکٹ صرف ان مردوں کے لیے ہے جو جنسی کمزوری یا نامردی کا شکار ہیں۔

یہ دوا 18 برس سے کم عمر افراد نہیں خرید سکیں گے جبکہ خواتین اپنے ساتھی کے لیے خرید سکتی ہیں لیکن اس کے لیے فارماسسٹ کا مطمئن ضروری ہو گا کہ یہ دوا استعمال کرنے والے کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔

یہ دوا ان مردوں کو فروخت نہیں کی جا سکے گی جو طبی طور پر سیکس کرنے کے اہل نہیں ہیں جنھیں دل کا عارضہ یا خون کی شریانوں کا مرض لاحق ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور بنیادی اصول کے طور پر ان مردوں کو بھی اس دوا کے استعمال سے اجنتاب کرنا چاہیے جنھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ورزش کے دوران سینے میں ہلکی درد محسوس ہوتا ہے یا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس پھول جاتا ہے۔

کیا خود سے خرید سکتے ہیں؟

نہیں ایسا نہیں ہے۔ اس کے لیے آپ کو فارماسسٹ سے کہنا پڑے گا اور یہ اس کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اس بات کا تعین کریں کہ کیا یہ دوا مانگنے والے کے لیے محفوظ ہے یا نہیں جبکہ چار گولیوں کے پیکٹ کی قیمت 19.99 پاؤنڈ ہے۔

کیا مردوں کو خریدنے سے پہلے کسی سے بات کرنی چاہیے اور طبی معائنہ کرانا چاہیے؟

آپ فارمیسی کے کاؤنٹر پر کسی سے مختصر بات کر سکتے ہیں یا اگر محسوس ہو تو علیحدہ کمرے میں جا کر اس معاملے پر بات کی جا سکتی ہے۔ زیادہ تر میڈیکل سٹورز میں اب مشاورت کی سہولت موجود ہے۔

فارماسسٹ آپ سے علامات، عام صحت کے علاوہ یہ پوچھے گا کہ آپ کوئی دوسری دوا استعمال تو نہیں کر رہے لیکن وہ آپ سے نجی نوعیت کے سوالات نہیں کریں گے جس میں جنسی زندگی یا سیکس کی ترجیحات وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ جسمانی معائنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

کیا ویاگرا کام کرے گی؟

ویاگرا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنویاگرا دنیا بھر میں بہت مقبول ہے

زیادہ تر کیسز میں یہ گولی کام کرے گی لیکن ہر ایک کے لیے موثر ثابت نہیں ہوتی۔

اس دوا کے استعمال سے خون کی گردش بڑھ جاتی ہے جس سے قوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہ دوا کھانے کے ساتھ یا بغیر کھانے کے بھی استعمال کی جا سکتی ہے لیکن اگر کھانا زیادہ مقدار میں کھایا ہے تو اس کا اثر ہونے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

دوائی سیکس کرنے سے تقریباً نصف گھنٹہ پہلے استعمال کرنی چاہیے لیکن اس کو چکوترے یا اس کے جوس کے ساتھ استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ دوائی کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوائی کی زیادہ سے زیادہ 50 ملی گرام خوارک کو 24 گھنٹے کے دوران لینا چاہیے۔

ویاگرا کے استعمال کے ساتھ اگر الکوحل کا بہت زیادہ استعمال کیا جائے تو اس سے عضو تناسل میں تناؤ میں مشکلات کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

ویاگرا کے منفی اثرات

ویاگرا کے استعمال سے ایک عام مسئلہ سر درد ہونا ہے اور یہ دس میں سے ایک استعمال کنندہ کو ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ غنودگی، بینائی کا متاثر ہونا، جس میں بینائی کا اچانک کم ہونا یا اس سے محروم ہو جاتا، ناک کا بند ہونا، متلی اور سینے میں درد جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔