ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ویاگرا خرید سکیں گے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں اب صارفین کسی ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ہی قوت باہ یعنی جنسی قوت بڑھانے کی مشہور دوا ویاگرا خرید سکیں گے۔
یہ فیصلہ برطانیہ میں ادویات کے حوالے سے قانون سازی کرنے والے ادارے نے عوامی مشورے سے کیا ہے۔
نئے قانون کے تحت اب ادوایات فروخت کرنے والے فارماسسٹسز کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس بات کا تعین کریں کہ کیا یہ دوا مانگنے والے کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔
تاہم یہ دوا 18 سال سے کم عمر افراد کو نہیں بیچی جا سکے گے۔
ہیرے کی ساخت جیسی نیلے رنگ کی ویاگرا گولی جنسی قوت بڑھانے کا ایک انقلابی علاج بھی ہے۔
ویاگرا کو پندرہ سال قبل متعارف کرایا گیا تھا اور امریکی تاریخ میں تیزی سے فروخت ہونے والی دوا بن گئی۔
ویاگرا بنانے والی کمپنی فائزر کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ وہ آئندہ سال کے موسمِ بہار تک ویاگرا فارمیسیوں میں بغیر نسخے کے فروخت کے لیے پہنچا دیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا تک آسان رسائی کا مطلب ہے کہ وہ مرد حضرات جو اپنے ڈاکٹروں سے اس سلسلے میں بات نہیں کر پاتے تھے، وہ بھی اس کے فوائد حاصل کر سکیں گے۔
ادارے کو امید ہے کہ اس کے بعد مرد اس دوا کی متبادل غیر قانونی ادویات کی خرید روک دیں گے۔
ادارے کے مک فوئے کا کہنا ہے کہ قوتِ باہ میں کمی ایک انتہائی مشکل بیماری ہے اور یہ اہم ہے کہ مرد ایسا محسوس کریں کہ ان کے پاس اس کے لیے بہترین معیار اور جلد رسائی والا حل موجود ہے تاکہ انھیں انٹرنیٹ پر اس کے ممکنہ مضر متبادل نہ تلاش کرنے پڑیں۔
ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دی جانے والی ویاگرا کو ویاگرا کنیکٹ کے نام سے پیش کیا جائے گا۔ یہ دوا مندرجہ ڈیل افراد کو نہیں دی جائے گی:
1. جو امراضِ قبل میں مبتلا ہوں یا اس حوالے سے ان کی صحت کو خطرہ ہو
2. جن کا جگر متاثرہ ہے
3. جن افراد کے گردے ماضی میں ناکام ہو چکے ہیں
4. ایسے افراد جو کوئی اور ایسی دوا استعمال کر رہے ہیں جو کہ ویاگرا کے ساتھ جوڑ میں خطرناک ہو سکتی ہے۔
مریضوں کو تجویز کیا جائے گا کہ وہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف ایک گولی استعمال کریں۔







