کیا خواتین کو گھر کے کام میں مدد ملنے پر شکرگزار ہونا چاہیے؟

کام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, میلیسا ہوگنبووم
    • عہدہ, بی بی سی ورک لائف

گذشتہ سنیچر کی صبح میرے شوہر نے کہا کہ میں بچوں کو باہر لے جاتا ہوں، تم گھر پر رہ لو۔۔۔ فوراً مجھے ایسا لگا جسے کسی نے مجھ پر بہت بڑا احسان کر دیا ہو۔۔ حالانکہ اگر بچوں کی نگہداشت کی بات کی جائے تو میں نے انھیں اپنے شوہر سے ہمیشہ زیادہ وقت دیا ہے۔

میں جانتی تھی کہ میرے شوہر چاہتے ہیں کہ میں اکیلے کچھ وقت گزار سکوں۔ لیکن مجھے لگا کہ جتنی دیر وہ باہر ہیں، اس دوران مجھے اظہارِ تشکر کے طور پر ان کے لیے کچھ کرنا چاہیے، لہذا میں نے صفائی کرنے کے ساتھ ساتھ کھانا بھی تیار کیا۔

شکرگزار ہونے کی وجہ بڑی سادہ سی ہے: یہ احساس لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے اور رشتوں کو خوشگوار بناتا ہے۔ اس کے باوجود یہ بچوں کی پرورش کرنے والے گھر میں زیادہ اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسے گھر میں برابری کی بنیاد پر پرورش نہیں کی جاتی۔

جب میں نے گھر کو چلانے کے لیے عورتوں کے ذہن پر پڑنے والے ذہنی بوجھ (پوشیدہ سوچیں اور منصوبہ بندی) کے متعلق لکھا تو درجنوں خواتین نے مجھے اس کا جواب بھیجا۔۔۔ اور ان جوابات میں ’شکرگزاری کا لفظ‘ بار بار سامنے آتا رہا۔

اپنے گذشتہ تعلقات سے موازنہ کرتے ہوئے کچھ خواتین بہت شکرگزار تھیں کہ اب انھیں مدد کرنے والے ساتھی ملے ہیں۔ جبکہ دیگر خواتین کو مدد کے بدلے میں مشکور ہونے کے خیال سے شدید مایوسی ہوئی۔

یہ جانتے ہوئے کہ اکثر رشتوں میں زیادہ کام کا بوجھ عورتوں پر ہی پڑتا ہے، کسی بھی گھر میں ’شکرگزاری کے احساس‘ کی کیا اہمیت ہونے چاہیے؟ کیوں ہم اپنے پارٹنر یا ساتھی کی ایسے کام کرنے پر تعریف کرتے ہیں جس میں انھیں ہمارا ہاتھ بٹانا ہی چاہیے اور کیا شکرگزار ہونا ضروری ہے یا نہیں؟

بہر حال، گھر کے کاموں اور بچوں کی دیکھ بھال میں کام اور ذمہ داریوں کی تقسیم غیر مساوی رہنے کے باوجود، کیا ہمیں ذرا سی مدد ملنے پر شکرگزار ہونا چاہیے؟

شکرگزاری کا احساس رشتوں کو آگے کیسے بڑھاتا ہے

کام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہم سب کسی نہ کسی کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور قابلِ ستائش باتوں پر لوگوں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ جس کا شکریہ ادا کیا جائے اور جو کر رہا ہو، دونوں کے لیے اس کے بہت سے فائدے ہیں۔

شکریہ کے احساس کے حوالے سے نفسیات میں کیے گئے ابتدائی کام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن شرکا نے ڈائری میں صرف یہی لکھا کہ کسی چیز کے لیے شکرگزار ہیں، بعد میں ان کے رویے میں بہتری دیکھی گئی۔

محققین کو معلوم ہوا کہ شکرگزاری کا احساس لوگوں کو آپسی رشتوں باندھتا ہے، جس سے تعلق مزید پائیدار بنتا ہے اور انھیں ایک دوسرے سے خوشی حاصل ہوتی ہے۔

سانتا باربرا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ماہر نفسیات شیلی گیبل کا کہنا ہے کہ ’جب لوگوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ انھیں کسی اور شخص سے فائدہ ہوا ہے تو یہ احساس ان کے اس شخص کے بارے میں خیال اور اس سے تعلق کو تبدیل کر دیتا ہے۔‘

شکرگزاری کا احساس یا شکریہ ادا کرنا، نئے اور پہلے سے موجود دونوں رشتوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہ ایسے جوڑوں میں، جو ابھی ابھی ملے ہوں، نہ صرف قربت بڑھاتا کرتا ہے بلکہ اسے برقرار بھی رکھتا ہے۔

ضروری نہیں کہ شکریہ ادا کرنے کا احساس تحفے کے سائز یا احسان کی نوعیت پر منحصر ہو۔ ایک تحقیق کے مطابق سمجھے جانے کا احساس اور اہمیت، تحفے کی وقتی قیمت سے شکرگزاری کے احساس پر کہیں زیادہ حاوی ہوتا ہے۔

گیبل کہتے ہیں ’اہم یہ ہے کہ آپ کو جو فائدہ دیا گیا ہے اس کی آپ کو ضرورت تھی یا نہیں اور آپ کے نزدیک اس کی اہمیت بھی ہیں یا نہیں۔‘

لہذا شکرگزاری کا احساس ایک اشارے کا کام کرتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ دوسرا شخص ہماری پرواہ کرتا ہے اور ہمیں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہذا اگر کسی نے ہمارے لیے کچھ کیا ہے تو خاموشی سے شکر گزار ہونا کافی نہیں ہے۔ گیبل ایک اور محقق سارہ الگوئے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ تعلقات میں بہتری کے لیے ہمیں اپنے احساسات کو ظاہر کرنا چاہیے۔

اگر شکرگزاری کا احساس یکساں طور پر ظاہرنہ کیا جائے تو یہ تعلقات کو خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

کام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین مردوں سے زیادہ شکرگزاری کا اظہار کرتی ہیں اور یہ زیادہ گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔ امریکہ کے ہوفسٹرا یونیورسٹی میں نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جیفری فروح کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ’خواتین نرم دل اور باہمی جذبات کے باہمی جذبات کے اظہار کے لیے جانی جاتی ہیں۔‘

درحقیقت تحقیقات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت جذبات کا اظہار کرتی ہیں اور غصے کے علاوہ دیگر جذبات کو زیادہ شدت سے شیئر کرتی ہیں۔ دوسری تحقیقات کے مطابق زیادہ اثرورسوخ رکھنے والے افراد (اکثر زیادہ آمدنی کی شکل میں) کم شکریہ ادا کرتے ہیں اور امریکی جوڑوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق عموماً مرد ہی زیادہ کماتے ہیں۔

گھر میں غیر مساوی ذمہ داریاں

جس گھر میں کاموں کی تقسیم یکساں نہیں ہوتی وہاں شکرگزاری کا احساس قدرے پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ گھریلو انتظامات کے حوالے سے اگرچہ خواتین زیادہ ذہنی بوجھ اٹھاتی ہیں کیونکہ گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ کی تقسیم غیر مساوی ہے۔

عموماً بچوں والے جوڑوں میں، جنس کی بنیاد پر ذمہ داریوں کی تقسیم کی جاتی ہے اور چاہیے آپ اس کی خواہش رکھتے ہوں یا نہیں ’مثالی ماں‘ جسے دقیانوسی خیالات پروان چڑھتے ہیں۔

کام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ عورت کے کردار کو سمجھنے سے گھریلو کاموں کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مرد اپنی ساتھی کا ان کاموں کے لیے شکریہ ادا نہیں کر سکتا ہے جو وہ مسلسل کرتی چلی آ رہی ہے۔ یا عورت ان کاموں کے لیے مرد کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے جو وہ کبھی کبھی انجام دیتے ہیں۔

یہ فطری طور پر ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے اور یہاں تک کہ تعلقات خراب ہونے کا سبب بھی بن سکتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب عورت کو مستقل طور پر دیکھ بھال کرنے والی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور وہ کاموں کی تقسیم کو غیر منصفانہ سمجھتی ہو۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کاموں کی یکساں تقسیم کی اہمیت کیوں ہے: اگر ہم پوری طری سے برابری کی توقع رکھتے ہیں اور اسے حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ہمیں اسے سے خوشی نہیں حاصل ہو گی، ہم کم خوش ہوں گے لیکن اگر ہم یکساں تقسیم کی توقع بالکل نہیں کرتے اور یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارا ساتھی، ہمارے دوست کے پارٹنر سے زیادہ کام کرتا ہے تو شکریہ ادا کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اگرچہ گھریلوں کاموں کی غیر منصفانہ تقسیم کے جواب میں ناراضگی جائز ہے، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کام کی جگہ پر زیادہ گھنٹے کام کرنے کی توقعات بھی گھر میں دیکھ بھال اور نگہداشت کی غیر مساوی تقسیم کا سبب بن سکتی ہیں۔

اور اگر آپ کے پارٹنرکے دفتر میں ان سے زیادہ کام کی توقعات ان کے کبھی ڈش واشر سے برتن نہ نکالنے والے رویے کی وضاحت نہیں بھی کرتی تو اس سے قطع نظر شکرگزاری کا احساس پھر بھی اہمیت کا حامل ہے۔

کام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اظہار تشکر یا جس سلوک کے لیے ہم اپنے ساتھی کے مشکور ہیں اس سے ان کی مزید حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں محققین جیس البرٹس اور انجیلہ ٹریٹوی کے مطابق ایسا کرنے سے ’کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ساتھی کو یہ احساس ہو سکتا ہے کہ کام کاج کی تقسیم یکساں نہیں ہے۔‘

لہذا اگر ایک جوڑے میں سے ایک شخص (مثال کے طور پر خاتون) ہی اکثر کپڑے دھوتی ہے، تو دوسرے ساتھی (یعنی مرد) کے کپڑے دھونے کے وقت اظہارِ تشکر کا احساس ان کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے کہ وہ آئندہ بھی زیادہ سے زیادہ کپڑے دھویا کریں۔

کسی رشتے میں کاموں کی تقسیم یکساں نہ بھی ہو تو جب ہر فرد دوسرے کی حوصلہ افزائی کے لیے شکریہ ادا کرتا ہے تو اس سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔

امریکہ کے جارج میسن یونیورسٹی میں دی ویلفیننگ لیب کے ڈائریکٹر، ٹوڈ کاشدان کا کہنا ہے کہ اگر حالات ٹھیک نہ ہوں تو بھی شکرگزار ہونے کا احساس معاشرے کو بہتر بنانے کا ایک میکانزم ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہم معاشرے کو تیزی سے نہیں بدل سکتے، شکرگزاری کا احساس حالات سے نمٹنے میں ہماری مدد کرتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سماجی رابطوں میں بھی بہتری آتی ہے۔

کاشدان کہتے ہیں ’معاشرتی تبدیلی کی رفتار سست ہے اور اگر اس وجہ سے آپ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں ک تعریف نہیں کرتے تو آپ ایک اچھی خوشگوار زندگی نہیں گزار سکتے۔‘