چار سال مزید کھیلناہے: شعیب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اختر کو یقین ہے کہ ابھی ان کی چار سال کی کرکٹ باقی ہے اور وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں چار سو وکٹوں پر نظریں رکھے ہوئے ہیں۔ شعیب اختر ان دنوں پنٹنگولر کرکٹ ٹورنامنٹ میں فیڈرل ایریاز کی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور سلیکٹر سلیم جعفر کی اس تجویز کے قابل عمل بنائے جانے پر بہت خوش ہیں کہ تمام ہی سینیئر کرکٹرز کو اس ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں کی کپتانی سپرد کی گئی ہے۔ شعیب اختر نے نیشنل سٹیڈیم میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو معیاری بنانے کے لیے تمام سینئر کرکٹرز کی اس میں شرکت ضروری ہے۔ شعیب اختر کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی دنیا کے تیز ترین بولر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب بھی ان کی تین چار سال کی بین الاقوامی کرکٹ باقی ہے اور وہ2011ء ورلڈ کپ کھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں چار سو وکٹیں مکمل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ وہ138 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 219وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ 46ٹیسٹ میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد178 ہے۔ شعیب اختر نے کہا کہ دنیا کے تمام ہی بولرز فٹنس مسائل سے دوچار رہے ہیں لیکن وہ اس لئے زیادہ خبروں میں رہے ہیں کیونکہ لوگوں کی توقعات ان سے ہمیشہ زیادہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت وہ اپنی فٹنس کے لئے زبردست محنت کررہے ہیں اور پچھلے کچھ عرصے میں انہوں نے دس پندرہ کلو وزن کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کریئر کو طول دینے کے لئے ضروری ہے کہ وہ منتخب اہم میچوں میں کھیلیں جس کی حکمت عملی پاکستان کرکٹ بورڈ نے وضع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم بھارت کھیلنے گئی ہے جو اچھی بات ہے لیکن غیرملکی ٹیموں کو پاکستان بھی آنا چاہئے کیونکہ یہاں کرکٹ اور کرکٹرز کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ شعیب اختر نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کو اس سال ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کو نہیں ملی لیکن انہیں امید ہے کہ جلد یہ جمود ٹوٹے گا۔ |
اسی بارے میں ’شعیب کھیل سکتے ہیں‘23 September, 2008 | کھیل ’ٹورنامنٹ طے پانے سے اطمینان ہوا‘ 14 September, 2008 | کھیل یونس قومی ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں نہیں18 September, 2008 | کھیل شعیب کا کاؤنٹی کا پہلا میچ03 September, 2008 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||