BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2008, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چار سال مزید کھیلناہے: شعیب

شعیب اختر
ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں چار سو وکٹیں حاصل کرنی ہیں: شیعب اختر
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اختر کو یقین ہے کہ ابھی ان کی چار سال کی کرکٹ باقی ہے اور وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں چار سو وکٹوں پر نظریں رکھے ہوئے ہیں۔

شعیب اختر ان دنوں پنٹنگولر کرکٹ ٹورنامنٹ میں فیڈرل ایریاز کی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور سلیکٹر سلیم جعفر کی اس تجویز کے قابل عمل بنائے جانے پر بہت خوش ہیں کہ تمام ہی سینیئر کرکٹرز کو اس ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں کی کپتانی سپرد کی گئی ہے۔

شعیب اختر نے نیشنل سٹیڈیم میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو معیاری بنانے کے لیے تمام سینئر کرکٹرز کی اس میں شرکت ضروری ہے۔

شعیب اختر کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی دنیا کے تیز ترین بولر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب بھی ان کی تین چار سال کی بین الاقوامی کرکٹ باقی ہے اور وہ2011ء ورلڈ کپ کھیل سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں چار سو وکٹیں مکمل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ وہ138 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 219وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ 46ٹیسٹ میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد178 ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے وہ ابوظہبی میں ان فٹ ہوگئے اور پہلا میچ نہ کھیل سکے لیکن اگلے دونوں میچوں میں وہ فٹ تھے لیکن ٹیم کامبی نیشن متاثر نہ ہو اس لئے خود ہی ان میچوں میں نہیں کھیلے۔

شعیب اختر نے کہا کہ دنیا کے تمام ہی بولرز فٹنس مسائل سے دوچار رہے ہیں لیکن وہ اس لئے زیادہ خبروں میں رہے ہیں کیونکہ لوگوں کی توقعات ان سے ہمیشہ زیادہ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسوقت وہ اپنی فٹنس کے لئے زبردست محنت کررہے ہیں اور پچھلے کچھ عرصے میں انہوں نے دس پندرہ کلو وزن کم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے کریئر کو طول دینے کے لئے ضروری ہے کہ وہ منتخب اہم میچوں میں کھیلیں جس کی حکمت عملی پاکستان کرکٹ بورڈ نے وضع کی ہے۔
شعیب اخترنے آئی پی ایل کی طرز پر پاکستان میں پی پی ایل کے انعقاد کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسے منظم طریقے سے منعقد کیا گیا تو یہ ایک زبردست کامیابی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم بھارت کھیلنے گئی ہے جو اچھی بات ہے لیکن غیرملکی ٹیموں کو پاکستان بھی آنا چاہئے کیونکہ یہاں کرکٹ اور کرکٹرز کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

شعیب اختر نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کو اس سال ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کو نہیں ملی لیکن انہیں امید ہے کہ جلد یہ جمود ٹوٹے گا۔
شعیب اختر نے کہا کہ پاکستان میں اسوقت کئی باصلاحیت فاسٹ بولر ہیں لیکن ایک سو پچاس کلومیٹر کی رفتار سے بولنگ کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی قیادت کی انہیں کبھی بھی خواہش نہیں رہی ہے لیکن ان کے ساتھی سینئر کرکٹرز کی رائے ہے کہ شعیب کو یہ ذمہ داری سونپی جائے تو یہ ان کے اور پاکستانی کرکٹ کے لئے بہتر ہوگا

شعیب آل کلئیر
شعیب کا ڈوپ ٹیسٹ کلئیر آیا ہے۔
شعیب اختر شعیب کی اپیل
شعیب کی پابندی معطل،جرمانہ برقرار
کرکٹرز پر جرمانہ
ٹیم ڈسپلن کی خلاف ورزی
اسی بارے میں
’شعیب کھیل سکتے ہیں‘
23 September, 2008 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد