BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 September, 2008, 17:01 GMT 22:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ٹورنامنٹ طے پانے سے اطمینان ہوا‘

شعیب ملک
’بدقسمتی سے اس سال ابھی تک ہمیں کوئی ٹیسٹ میچ کھیلنے کو نہیں ملا‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے کینیڈا میں چار ملکی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد کے حتمی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں برس میں عالمی کرکٹ سے بڑی حد تک محروم رہنے والی پاکستانی ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ کا انعقاد خوش آئند ہے۔

کینیڈا میں ہونے والا یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ پہلے اگست میں ہونا تھا لیکن اسے ناگزیر وجوہات کی بناء پر ملتوی کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں ٹورنامنٹ میں شامل کی جانے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس سے باہر ہوگئی اور اس کی جگہ میزبان کینیڈا کو شامل کیا گیا اور اب یہ مقابلے دس سے تیرہ اکتوبر کے درمیان ہوں گے۔

فلم کا تجربہ
 شعیب ملک نے کہا کہ چونکہ انہیں اشتہارات وغیرہ میں کام کرنے کا تجربہ تھا اس لیے فلم میں کام کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوئی۔ جنوبی افریقہ میں فلمبند کی جانے والی اس فلم میں پاکستان سے شعیب ملک کے علاوہ کامران اکمل، راؤ افتخار اور سہیل تنویر نے کام کیا ہے
شعیب ملک جنوبی افریقہ سے ایک فلم میں کام کرنے کے بعد دو ساتھی کرکٹروں کے ہمراہ اتوارکو پاکستان واپس پہنچے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’چیمپئنزٹرافی کے ملتوی ہونے سے ہمیں بہت مایوسی ہوئی تھی کیونکہ اگر یہ ٹورنامنٹ اس سال ہوتا تو اس سے بہت سے سیاح پاکستان آتے جس سے پاکستان کا تاثر باہر کی دنیا میں بہتر ہوتا‘۔

شعیب ملک نے کہا کہ ’دنیا کے کام رکتے نہیں ہیں اور اب کینیڈا کے اس ٹورنامنٹ کا طے پانا پاکستان کی ٹیم کے لیے بہت خوش آئند ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں موجود ایشین کمیونٹی سے انہیں کافی سپورٹ ملنے کی امید ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ وہ بہترین کرکٹ کھیلیں جس سے وہاں کے شائقین محظوظ ہوں۔

شعیب ملک نے کہا کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کسی ٹیم کو کمزور نہیں سمجھا جا سکتا اس لیے وہ زمبابوے کی ٹیم کو کمزور نہیں سمجھتے اور تمام ٹیموں میں سخت مقابلہ ہو گا۔

پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ’ ویسٹ انڈیز کے ساتھ تین ایک روزہ میچوں کی سیریز ابوظہبی میں طے ہو چکی ہے اور اب پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے ساتھ پاکستان میں ٹیسٹ میچ منعقد کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر یہ ٹیسٹ میچ بھی طے پا گئے تو یہ ہماری ٹیم کے لیے بہت اچھا ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ اصل کرکٹ تو ٹیسٹ کرکٹ ہے جس میں کسی کرکٹر کی اصل صلاحیت کا پتہ چلتا ہے تاہم ’بدقسمتی سے اس سال ابھی تک ہمیں کوئی ٹیسٹ میچ کھیلنے کو نہیں ملا۔ ہم نے آخری ٹیسٹ میچ بھارت کے ساتھ گزشتہ سال بنگلور میں کھیلا تھا‘۔

جنوبی افریقہ میں وکٹری نامی فلم میں کام کرنے کو شعیب ملک نے ایک اچھا تجربہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سے متعلق فلم تھی جس میں دنیا بھر کے پینتیس کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

شعیب ملک نے کہا کہ چونکہ انہیں اشتہارات وغیرہ میں کام کرنے کا تجربہ تھا اس لیے فلم میں کام کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوئی۔ جنوبی افریقہ میں فلمبند کی جانے والی اس فلم میں پاکستان سے شعیب ملک کے علاوہ کامران اکمل، راؤ افتخار اور سہیل تنویر نے کام کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد