BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 October, 2008, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمالی ہاکی فیڈریشن سےمستعفی

 میر ظفراللہ خان جمالی
اب دوبارہ سیاست میں حصہ لوں گا:جمالی
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر ظفراللہ خان جمالی نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعلان پیر کو ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

میرظفراللہ جمالی نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا کہ جونیئر ٹیم کے چیف کوچ جہانگیر بٹ اور کوچ کامران اشرف بھی ان کے ساتھ مستعفی ہو رہے ہیں۔

ظفر اللہ جمالی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ان کا استعفٰی سابق اولمپئنز اور خواتین کھلاڑیوں کے دباؤ کا نتیجہ ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مظاہرے پاکستانی ہاکی کے لیے خطرناک رجحان ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ انہوں نے ہاکی کے معاملات ون مین شو کی طرز پر چلائے۔ ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ سنہ 1996 کے اٹلانٹا اولمپکس سے قبل کھلاڑیوں سے بغاوت کرائی گئی اور اب بیجنگ اولمپکس سے قبل سیکریٹری تبدیل کر دیا گیا اور دونوں مرتبہ اتفاق ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور انہوں نے سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ ’اس صورتحال کے آپ ذمہ دار ہیں کوئی اور نہیں‘۔

میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ خالد محمود کو سیکرٹری کے عہدے سے ہٹانے سے معاملات خراب ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پچیس اپریل کو اور پھر دوبارہ وزیراعظم اور صدر کو یہ کہہ چکے تھے کہ انہیں اس ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا جائے اور انہیں دونوں مرتبہ یہ کہا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھاتے رہیں۔

میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ انہوں نےگزشتہ الیکشن میں صرف اور صرف ہاکی کو وقت دینے کے لیے حصہ نہیں لیا تھا تاہم اب وہ دوبارہ سیاست میں حصہ لیں گے۔

 بیجنگ اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد میر ظفراللہ جمالی پر صدر کا عہدہ چھوڑنے کا زبردست دباؤ تھا اور وفاقی وزیر کھیل نجم الدین خان نے ان سے فوری طور پر استعفے کا مطالبہ کیا تھا جسے میرظفراللہ جمالی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ انہیں اس عہدے سے ہٹانے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے جو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ پی ایچ ایف کے صدر بنے تھے تو فیڈریشن کے پاس صرف بارہ، چودہ لاکھ روپے تھے حالانکہ وزیراعظم کی حیثیت سے انہوں نے پی ایچ ایف کے سابق صدر جنرل ( ریٹائرڈ) عزیز خان کو دس کروڑ روپے دیے تھے۔انہوں نے کہا کہ آج جب وہ پی ایچ ایف سے جارہے ہیں تو اس کے پاس پانچ کروڑ انتالیس لاکھ اکہتر ہزار روپے ہیں۔

واضح رہے کہ انیس ماہ وزیراعظم رہنے والے میرظفراللہ جمالی اگست2006ء میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بنے تھے تاہم بیجنگ اولمپکس سے قبل سابق اولمیپئن خالد محمود کو ہٹا کر آصف باجوہ کو پی ایچ ایف کا سیکرٹری بنائے جانے پر وہ سخت ناراض تھے۔

خود ان کی جگہ پیپلزپارٹی پنجاب کے سرکردہ رہنما اور سابق اولمپئن قاسم ضیاء کو پی ایچ ایف کا صدر بنائے جانے کی قیاس آرائیوں نے پاکستانی ہاکی میں بےیقینی کی صورتحال پیدا کر رکھی تھی۔

بیجنگ اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد میر ظفراللہ جمالی پر صدر کا عہدہ چھوڑنے کا زبردست دباؤ تھا اور وفاقی وزیر کھیل نجم الدین خان نے ان سے فوری طور پر استعفے کا مطالبہ کیا تھا جسے میرظفراللہ جمالی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ انہیں اس عہدے سے ہٹانے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے جو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن ہیں۔

میر ظفراللہ جمالی نے بیجنگ اولمپکس کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کی تھی جس سے بظاہر یہ معلوم ہورہا تھا کہ وہ حکومت کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن دوسری جانب سابق کھلاڑیوں نے’گو جمالی گو‘ کے نعروں میں انہیں ہٹانے کی مہم شروع کر دی۔

چند روز قبل خواتین کھلاڑیوں نے لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں ان کے خلاف اس لیے مظاہرہ کیا کہ انہوں نے خواتین ٹیم کو ایشیا کپ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی۔ میر ظفراللہ جمالی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ انہوں نے ویمنز ونگ سے کھلاڑیوں اور آفیشلز کی تفصیلات طلب کی تھیں جس پر ونگ نے ناراضگی ظاہر کی تھی اور بعدازاں وہ ٹورنامنٹ ہی ملتوی ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد