BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 September, 2008, 21:08 GMT 02:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جمالی کو اب چلے جانا چاہیے‘

میر ظفر اللہ جمالی
میر ظفر اللہ جمالی استعفٰی کے مطالبات رد کرتے آئے ہیں
پاکستان کے متعدد سابق ہاکی کھلاڑیوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میرظفراللہ جمالی کے استعفے یا انہیں برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم کی حالیہ خراب کارکردگی میں میرظفراللہ جمالی کے مبینہ ’ون مین شو‘ کا ہاتھ ہے۔

سابق اولمپئنز اور انٹرنیشنل کھلاڑیوں کا یہ مطالبہ کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ اجتماع میں سامنے آیا جس میں شریک سابق کھلاڑیوں میں حسن سردار، اخترالاسلام، رشید الحسن، وسیم فیروز، ناصر علی، سلیم شیروانی، قمر ضیاء، ممتاز حیدر، صفدر عباس، عارف بھوپالی، محمد انیس، آصف احمد، نسیم مرزا، محمد شفیق، ثناءاللہ اور محمد علی شامل تھے۔

حسن سردار نے کہا کہ میرظفراللہ جمالی نے صرف سکول کالج کی حد تک ہاکی کھیلی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اہم عہدوں پر فائز کیا گیا جس کا انجام برا ہی ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ اولمپکس سے قبل بھی پاکستانی ٹیم کو ایشین گیمز میں چین جیسی ٹیم سے شکست ہوئی لیکن کوئی سبق نہیں سیکھا گیا بلکہ بیجنگ اولمپکس سے قبل وکٹری اسٹینڈ تک پہنچنے کے بلند بانگ دعوے کیے گئے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکرٹری اخترالاسلام نے کہا کہ’پاکستانی ہاکی کو بڑی سرجری کی ضرورت ہے ۔ اس کے آئین میں ردوبدل کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی ایسوسی ایشن کا عہدیدار فیڈریشن کو بلیک میل نہ کر سکے‘۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ اولمپکس کے بعد تمام آفیشلز نے استعفے دے دیے جبکہ میر ظفر اللہ جمالی کو اس سلسلے میں پہل کرنی چاہیے تھی۔

 پاکستانی ہاکی کو بڑی سرجری کی ضرورت ہے ۔ اس کے آئین میں ردوبدل کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی ایسوسی ایشن کا عہدیدار فیڈریشن کو بلیک میل نہ کر سکے
اختر الاسلام

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈوائزری بورڈ کے سابق رکن منصور خان نے کہا کہ فیڈریشن کے مالی معاملات بہتر کرنے ہونگے اس کے بغیر قومی ہاکی ترقی نہیں کر سکتی۔ سابق اولمپئن وسیم فیروز کا کہنا تھا کہ ہاکی میں سیاست نے کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

سابق انٹرنیشنل محمد شفیق نے کہا کہ پاکستان اس وقت بین الاقوامی ہاکی کے دھارے سے کٹ چکا ہے اور بین الاقوامی فورم پر پاکستان کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔

سابق کپتان ناصر علی نے کہا کہ بیجنگ اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد جمالی کے لیے اخلاقی طور پر کوئی جواز نہ تھا کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہتے۔

واضح رہے کہ میرظفراللہ جمالی اپنے استعفے کے تمام مطالبات مسترد کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری وزیراعظم نے کی ہے اور وہی انہیں ان کے عہدے سے ہٹاسکتے ہیں ۔ ان کی جگہ قاسم ضیا کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر بنائے جانے کی قیاس آرائیاں بیجنگ اولمپکس سے پہلے سے جاری تھیں تاہم اولمپکس کے بعد میرظفراللہ جمالی کی وزیراعظم گیلانی سے ملاقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت کا اعتماد حاصل کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد