BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 September, 2008, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سینیئر کھلاڑی آرام کر رہے ہیں‘

ہاکی
پاکستانی ہاکی ٹیم بیجنگ اولمپکس میں آٹھویں نمبر پر آئی تھی
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے آئندہ ماہ ہیمبرگ میں ہونے والے چار قومی ہاکی ٹورنامنٹ کے تیاری کیمپ کے لیے جن سینتیس کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے ان میں بیجنگ اولمپکس میں آٹھویں پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کے کپتان ذیشان اشرف، محمد ثقلین، ریحان بٹ اور سلمان اکبر شامل نہیں ہیں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری آصف باجوہ نے یہ ماننے سے انکار کردیا ہے کہ ان سینیئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کردیا گیا ہے بلکہ وہ اسے روٹیشن پالیسی کے تحت ان کھلاڑیوں کو دیا گیا ’آرام‘ قرار دے رہے ہیں۔

چار قومی ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان، جرمنی، ملائشیا اور بیلجیئم کی ٹیمیں حصہ لیں گی اور اس کی تیاری کے لیے قومی کیمپ کراچی کے ہاکی کلب آف پاکستان سٹیڈیم میں پانچ ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ منیجر ذکاء الدین اور کوچ نوید عالم کے استعفوں کے بعد ٹیم کی کوچنگ جونیئر ٹیم کے کوچ جہانگیر بٹ، دانش کلیم اور کامران اشرف کے سپرد کردی گئی ہے جن کی کوچنگ میں پاکستان کی جونیئر ٹیم حالیہ جونیئر ایشیا کپ میں غیرمتاثر کن کارکردگی دکھاتے ہوئے تیسرے نمبر پر آئی تھی۔

آصف باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیئر کھلاڑی بیجنگ اولمپکس تک بہت زیادہ ہاکی کھیل چکے ہیں لہذا پاکستان ہاکی فیڈریشن روٹیشن پالیسی کے تحت انہیں آرام دے کر جونیئر کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہتی ہے تاہم انہوں نے یہ واضح کردیا کہ سلیکشن کے سلسلے میں ایک پالیسی تیار کی جا چکی ہے جسے منظوری کے بعد سامنے لایا جائے گا۔ ’ کوئی بھی کھلاڑی اس معیار پر پورا نہیں اترا تو اسے منتخب نہیں کیا جائے گا۔‘

آصف باجوہ نے کہا کہ ہر کھلاڑی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ وہ کتنا عرصہ اور کس معیار کی ہاکی کھیل سکتا ہےاور سینئر کھلاڑی اپنے مستقبل کے بارے میں خود بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ متعدد سابق اولمپئنز پاکستان ہاکی فیڈریشن پر زور دے رہے ہیں کہ سینیئر کھلاڑیوں کو فارغ کرکے مستقبل کی تیاری کے ضمن میں نوجوان کھلاڑیوں پر توجہ دی جائے۔

آصف باجوہ نے جونیئر ٹیم کی ناکام منیجمنٹ کو سینئر ٹیم کی ذمہ داری سونپنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہیمبرگ ماسٹر ٹورنامنٹ کے لیے زیادہ تر جونیئر ٹیم کے کھلاڑی منتخب ہونگے لہذا سینیئر ٹیم کی منیجمنٹ کے استعفے کے بعد جونیئر ٹیم کی منیجمنٹ کو ان کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جونیئر ٹیم کا معاملہ بہت حساس ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ تبدیلی برائے تبدیلی ہو۔ چونکہ یہ منیجمنٹ کافی عرصے سے کام کر رہی ہے اور جونیئر ورلڈ کپ میں اب صرف نو ماہ باقی رہ گئے ہیں لہذا اس مرحلے پر کوئی بھی فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کے لیے غیرملکی کوچ کی تقرری کے بارے میں آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ مختلف آپشنز موجود ہیں۔ اس سلسلے میں وہ سابق کھلاڑیوں سے مشاورت لے رہے ہیں اور پاکستانی ہاکی کی بہتری کے لیے فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن دو مرتبہ غیرملکی کوچ کی خدمات حاصل کرچکی ہے ۔ ہالینڈ کے جورسما کی موجودگی میں پاکستان نے1994 کا ورلڈ کپ جیتا تھا البتہ ہالینڈ ہی کے رولینٹ آلٹمینز کے ہوتے ہوئے پاکستانی ٹیم قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد