اور اب دوسرے کوچ بھی مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولمپکس میں آٹھویں پوزیشن پر آنے والی پاکستان ہاکی کی ٹیم کے کوچ نوید عالم نے بھی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ اس سے قبل ٹیم کے چیف کوچ اور مینجر خواجہ ذکا الدین نے بیجنگ سے واپس آتے ہی ائیر پورٹ پر اپنے استعفے کا اعلان کر دیا تھا۔ نوید عالم نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے قوم سے بہتر نتائج نہ دینے پر معافی مانگی۔ انہوں نے روایت کے بر عکس ٹیم کے جونیر اور سئنیر کھلاڑیوں اور مینجمنٹ کسی کو بھی اس شکست کے لیے قصور وار نہیں کہا۔ 1994 کا عالمی کپ جیتنے والی پاکستان کی ٹیم کے رکن نوید عالم نے کہا کہ کھلاڑیوں نے محنت کی اور وہ انہیں شکست کے لیے مورد الزام نہیں ٹہھراتے۔ نوید عالم نے کہا کہ مخالف ٹیم کے گول پوسٹ پر پہنچ کر یقینی گول مس کرنا شکست کی ایک وجہ ہے جبکہ انہوں نے ایمپائرنگ کو بھی ٹیم کی شکست کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ نوید عالم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن میں نمائندگی نہ ہونے کے سبب پاکستان کی ٹیم کو ناقص ایمپائرنگ کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ نوید عالم نے کہا کہ ہمارے میچوں میں نیوٹرل ایمپائر نہیں لگائے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معمولی غلطی پر میدان سے باہر نکالنے تک کی سزا دی گئی اور وہ بھی ایسے موقعے پر جس وقت ہماری ٹیم اچھا کھیل رہی ہوتی تھی۔انہوں نے کہا کہ یورپی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے بہت بڑے فاؤل کرنے پر انہیں تنبیہ تک نہیں کی جاتی تھی۔ نوید عالم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اس معاملے پر غور کرنا چاھیے اور انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن میں اپنی زیادہ نمائندگی کے لیے بہت زیادہ کوشش کی جائےتاکہ انٹرنیشنل مقابلوں میں ٹیم کو ایسے حالات کا سامنا نہ ہو۔ بیجنگ اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم کے چیف کوچ و مینیجر خواجہ ذکاء الدین نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔ انہوں نے اس بات کا اعلان پیر کی شب بیجنگ سے وطن واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر صحافیوں سےگفتگو کے دوران کیا۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان کے مطابق خواجہ ذکاء الدین نے اپنے استعفے کے بارے میں فیڈریشن کو باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا ہے۔ خواجہ ذکاء الدین نے کہا کہ چھ ماہ میں ٹیم کی تیاری کے لیے وہ جو کچھ کر سکتے تھے انہوں نے کرنے کی کوشش کی۔ اکہتر سالہ خواجہ ذکاء الدین کو اسی سال جنوری میں اصلاح الدین کی جگہ پاکستانی ہاکی ٹیم کا چیف کوچ اور مینیجر مقرر کیا گیا تھا تاہم ان کی کوچنگ میں پاکستانی ٹیم بیجنگ اولمپکس میں آٹھویں نمبر پر آئی جو اولمپکس کی تاریخ میں اس کی بدترین کارکردگی ہے۔ ذکاء الدین سنہ 1984 کا لاس اینجلس اولمپکس اور 1982 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کوچ بھی رہ چکے ہیں۔وہ اس ٹیم میں بھی شامل تھے جس نے1960 کے روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ | اسی بارے میں بیجنگ سے خالی ہاتھ واپسی25 August, 2008 | کھیل جمالی مستعفی ہوجائیں: وزیرکھیل21 August, 2008 | کھیل ہاکی:مقابلہ ساتویں پوزیشن کے لیے19 August, 2008 | کھیل پاکستان:میڈل کی آخری امید ختم17 August, 2008 | کھیل پاکستانی ہاکی ٹیم ایک اور ناکامی15 August, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||