برتری خاتمے کیلیے مزید 117 درکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلور میں انڈیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر بھارت نے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر تین سو تیرہ رن بنا لیے ہیں جبکہ اسے آسٹریلیا کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید ایک سو سترہ رن درکار ہیں۔ جب تیسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو بھارت کی جانب سے انیل کمبلے اور ظہیر خان کریز پر موجود تھے۔ ان دونوں بلے بازوں کے درمیان آٹھویں وکٹ کے لیے چھیاسٹھ رن سے زائد کی شراکت ہو چکی ہے۔ بھارت کے آؤٹ ہونے والے آٹھویں کھلاڑی ہربھجن سنگھ تھے جو چوّن رن بنانے کے بعد شین واٹسن کا شکار بنے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہر بھجن کی پانچویں جبکہ آسٹریلیا کے خلاف تیسری نصف سنچری تھی۔ ہربھجن سنگھ اور ظہیر خان نے بھارت کے لیے آٹھویں وکٹ کی شراکت میں اسّی رن بھی بنائے۔ ہربھجن کے علاوہ دیگر بلے بازوں میں سے راہول ڈراوڈ نے بھی نصف سنچری سکور کی جبکہ اپنی آخری ٹیسٹ سیریز کھیلنے والے سورو گنگولی اور وریندر سہواگ نے بالترتیب سینتالیس، پینتالیس رنز کی اننگز کھیلیں۔
تیسرے دن کے کھیل میں بھارتی بلے باز بڑی شراکت داریاں قائم کرنے میں ناکام رہے اور پہلی وکٹ کے لیے سہواگ اور گمبھیر جبکہ آٹھویں وکٹ کے لیے ہربھجن اور ظہیر کی شراکت کے علاوہ کوئی بھی قابلِ ذکر پارٹنر شپ نہ بنائی جا سکی۔ آسٹریلیا کی جانب سے جانسن نے چار، شین واٹسن نے دو جبکہ بریٹ لی اور مائیکل کلارک نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ اس سے قبل میچ کے دوسرے دن آسٹریلیا کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں چار سو تیس رن بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔آسٹریلوی اننگز کی خاص بات کپتان رکی پونٹنگ اور مائیک ہسی کی سنچریاں تھیں۔ انڈیا: آسٹریلیا: |
اسی بارے میں بنگلور: دوسرا دن ہسی کے نام10 October, 2008 | کھیل گنگولی کا ٹیسٹ کرکٹ کو’الوداع‘07 October, 2008 | کھیل گنگولی بھارتی سکواڈ میں شامل01 October, 2008 | کھیل ڈراوڈ اور گنگولی ون ڈے سے باہر20 January, 2008 | کھیل یوراج کی چھٹی اور دھونی کو چھٹی08 July, 2008 | کھیل مناف، ایشانت اندر، سنگھ باہر09 April, 2008 | کھیل عرفان پٹھان کی ٹیم میں واپسی30 January, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||