آسٹریلیا کے دہرے معیار پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق کپتانوں نے دلی کے بم دھماکوں کے باوجود آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے بھارت جانے کے فیصلے کو اس کی ’من مانی‘ اور ’پیسے کی چمک‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ان کپتانوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا نے سکیورٹی کو بنیاد بنا کر نہ صرف دورۂ پاکستان ملتوی کر دیا بلکہ دوسرے ملکوں پر اثر انداز ہو کر چیمپئنز ٹرافی کو بھی پرے دکھیل دیا، لیکن اسے بھارت میں بم دھماکے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ سابق کپتان وقار یونس نے سڈنی سے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ کرکٹ اب پیسے کا کھیل ہو کر رہ گیا ہے۔ بھارت چونکہ کرکٹ کی بہت بڑی منڈی کی شکل اختیار کر چکا ہے اور وہاں پیسے کی چمک موجود ہے لہذا آسٹریلیا کو وہاں بم دھماکوں کے باوجود کھیلنے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سکیورٹی کے بارے میں آسٹریلیا نے خوب شور مچایا لیکن اب اسی طرح کے حالات بھارت میں بھی ہیں لیکن’سب اچھا ہے کہہ کر ان کی ٹیم وہاں کھیلنے جا رہی ہے۔‘
وقار یونس نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی میں آواز بلند کرنی ہوگی کیونکہ اس صورتحال میں پاکستانی کرکٹ بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ ’اگر اب بھی پاکستان کرکٹ بورڈ نے جارحانہ انداز اختیار نہ کیا تو آنے والے دنوں میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ ختم ہوکر رہ جائے گی۔ اس سلسلے میں ایشیائی کرکٹ بورڈز کو بھی پاکستان کا ساتھ دینا ہوگا۔‘ اپنے دور کے مایہ ناز بیٹسمین جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم اپنی بین الاقوامی ساکھ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانی کر رہی ہے اور اپنی ڈکٹیشن پر کرکٹ کھیل رہی ہے جس کا آئی سی سی کو نوٹس لینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ بھارت میں بہت بڑی سپانسرشپ ہے لہذا آسٹریلیا کی جرات نہیں کہ وہ وہاں کا دورہ کرنے سے انکار کر سکے۔ سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی مدد کرنی چاہیئے کیونکہ آئی سی ایل کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی بی سی سی آئی کی غیر ضروری حمایت میں بہت آگے جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آسٹریلیا کا دوہرا معیار ہے کہ ایک جیسی ہی حالت میں وہ دو مختلف قسم کے فیصلے کر رہا ہے۔
انضمام نے کہا کہ بھارت میں بم دھماکوں کے باوجود آسٹریلوی کرکٹ حکام نے سکیورٹی کا کوئی اہلکار وہاں نہیں بھیجا جبکہ پاکستان میں بار بار یہ عمل دہرایا جاتا رہا ہے اور حکومتی سطح پر واضح یقین دہانیوں کے باوجود نہ صرف دورہ ختم کر دیا گیا بلکہ چیمپئنز ٹرافی کو بھی متاثر کر ڈالا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی محض بہانہ ہے اصل میں یہ سماجی معاملہ ہے چونکہ غیرملکی کرکٹرز کو پاکستان میں بہت سی چیزوں کا پابند ہونا پڑتا ہے لہذا وہ یہاں آنے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس شہر میں سات دھماکے ہوجائیں آسٹریلوی ٹیم وہاں جائے۔ یہ اس کا دہرا معیار ہے۔ سابق کپتان وسیم باری کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈز کو ایشیا میں سکیورٹی کے بارے میں یکساں پالیسی اپنانی چاہیئے کیونکہ یہاں حالات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو تنہا قدم اٹھانے کے بجائے یہ معاملہ ایشین کرکٹ کونسل کے پلیٹ فارم پر لے جانا چاہیئے تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹا جا سکے۔ جب اس ضمن میں ایشین کرکٹ کونسل کے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے سیکریٹری اشرف الحق سے کوالالمپور رابطہ کر کے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے صرف اس رسمی جواب پر اکتفا کیا کہ بھارت اور پاکستان دونوں اے سی سی کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس بارے میں کچھ سوچا نہیں گیا لیکن جیسے ہی بھارتی کرکٹ بورڈ سے اس بارے میں بات ہوگی وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ | اسی بارے میں من پسند دورے، آئی سی سی ایکشن لے18 September, 2008 | کھیل آسٹریلیا دہرا معیار نہ اپنائے: نغمی16 September, 2008 | کھیل آسٹریلیائی دورہ، سیکیورٹی خدشات15 September, 2008 | کھیل ’سکیورٹی جائزہ باریک بینی سے‘14 September, 2008 | کھیل ’بورڈ کچھ کر سکا، نہ کرسکے گا‘12 September, 2008 | کھیل چیمپئینز لیگ، اگلا سیزن آئندہ برس08 September, 2008 | کھیل ’شائقین کو دلچسپ کرکٹ ملے گی‘18 September, 2008 | کھیل اوول ٹیسٹ کا نتیجہ تبدیل03 July, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||