BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2008, 10:14 GMT 15:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوتھ گیمز، پاکستان کی شرکت

پول
پاکستان ایتھلیٹکس، سوئمنگئ ٹیبل ٹینس، ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ کی ٹیمیں بھیجے گا
پاکستان تیسرے یوتھ کامن ویلتھ گیمز کے پانچ کھیلوں میں حصہ لے گا جو بھارت کے شہر پونے میں بارہ سے اٹھارہ اکتوبرتک منعقد ہونے والے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان پہلی مرتبہ ان مقابلوں میں حصہ لے رہا ہے۔ پہلے یوتھ کامن ویلتھ گیمز سنہ دو ہزار میں ایڈنبرا اسکاٹ لینڈ میں ہوئے تھے جن میں 14 ممالک نے شرکت کی تھی۔

چار سال بعد منعقدہ دوسرے یوتھ کامن ویلتھ کی میزبانی آسٹریلیا کے شہر بینڈیگو نے کی جس میں شریک ملکوں کی تعداد24 تھی۔

اب تیسرے یوتھ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان سمیت 71 ممالک کے تیرہ سو سے زائد کھلاڑی شریک ہونگے۔

پاکستان نے جن کھیلوں میں انٹری بھیجی ہے ان میں ایتھلیٹکس، سوئمنگئ ٹیبل ٹینس، ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ شامل ہیں۔ ایتھلیٹکس، سوئمنگ اور ٹیبل ٹینس میں پاکستان کی خواتین بھی حصہ لیں گی۔

منتظمین کی طرف سے شریک کھلاڑیوں کی تعداد محدود رکھے جانے کے سبب سولہ کھلاڑیوں اور چار آفیشلز پر مشتمل دستہ پونے جائے گا۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) عارف حسن کو سب سے زیادہ امید ریسلنگ میں ہے۔ عارف حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلوانوں کو تربیت کے لئے ایران بھیجا جارہا ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ یوتھ کامن ویلتھ گیمز میں اچھے نتائج دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال بنگلہ دیش میں منعقد ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز کی تیاری کے لئے تربیتی کیمپس فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے فی الحال بند ہیں لیکن جلد ہی فنڈز ملنے پر کھلاڑیوں کی تربیت شروع ہوجائے گی۔ اگر یہ بروقت نہ ہوا تو پھر کولمبو جیسے نتائج ڈھاکہ میں حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے پی او اے کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو پاکستان نے کھٹمنڈو میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز میں صرف دس طلائی تمغے حاصل کئے تھے۔ چار سال بعد اسلام آباد میں یہ تعداد اڑتیس ہوگئی لیکن سب سے عمدہ کارکردگی دو ہزار چھ کے کولمبو گیمز میں رہی جہاں پاکستان نے چوالیس طلائی تمغے حاصل کئے اس کی وجہ یہ تھی کہ کھلاڑیوں کی ٹریننگ پر بہت پیسہ خرچ ہوا اور اس کے مطلوبہ نتائج بھی سامنے آئے۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان اسپورٹس ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے سب سے زیادہ رقم غیرملکی کوچز اور سازوسامان پر خرچ کی گئی جس کا نتیجہ پاکستان کی جونیئر والی بال ٹیم کی کارکردگی کی شکل میں سامنے ہے جس نے ایشین مقابلوں میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی ورلڈ جونیئر ایونٹ کے لئے پہلی مرتبہ کوالیفائی کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد