20۔ٹوئنٹی کا نشہ، 2010کا انتظار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں اس وقت ہر ایک شخص جس نشے میں ڈوبا ہے وہ انڈین پرئیمر لیگ اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا نشہ۔ انڈین پرئمیر لیگ اپنے اختتام پر پہنچ رہی ہے اور اسی کے ساتھ ہندوستان میں کرکٹ کا ایک باب کامیابی کے طور پر ختم ہوجائے گا۔ ہندوستان میں ہر شخص ٹوئنٹی ٹوئنٹی کریزی ہوگیا ہے۔ اس کرکٹ میں بالی ووڈ ہے، گلیمر ہے اور کرکٹ بھی ہے۔ نئے ہندوستان کے لیے ایک زبردست’کومبینشن ‘ ہے۔ ٹی وی دیکھتے وقت آئی پی ایل کے ڈرامے کو ایک منٹ دیکھنے کے بعد میں نے ٹی وی چینل بدلا تو دوسرے چینل پر انگلینڈ میں لورڈز کے میدان میں انگلینڈ اور نیوزیلینڈ کے درمیان ٹیسٹ جاری تھا مجھے ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ میں 19ویں صدی میں چلا گیا ہوں۔ ٹیسٹ کھلاڑیوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور جس گیند سے کھیل رہے تھے وہ لال رنگ کی بھی اور ابھی بھی کوئی ڈرنکس کی ٹرالی لے کر میدان میں داخل ہوا ہے۔ مجھے لگا جیسے ابھی لمبی گھنی ڈھاڑی والے مشہور کرکٹر ڈبلو جی گریس پولین سے باہر آئیں گے۔ لیکن شاید ہی میرے علاوہ کوئی اور اس وقت ہندوستان میں ایک چینل سے دوسرے چینل پر اس طرح کرکٹ دیکھ رہا ہوا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ پورا ہندوستان تو آئی پی ایل سے چپکا ہوا ہے۔
آئی پی ایل کے دوران ٹی وی کی ریٹنگ اوپر چلی جاتی ہے۔ ایسا ہو بھی کیوں نہ سبھی تو آئی پی ایل دیکھ رہے ہیں۔ پہلے تو سب آئی پی ایل ٹی وی پر دیکھتے ہیں اور پھر اگلے دن اخبار میں لیگ سے جڑی چٹ پٹی خبریں پڑھتے ہیں۔ اخبارات ان خبروں سے بھریں ہوئے ہیں۔ ایک ایک اخبار نے تین تین صفحے صرف آئی پی ایل کے لیے مخصوص کر دیئے ہیں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ آئی پی ایل میں کچھ خاص کرکٹ دیکھنے کو بھی ملی اور ڈرامہ بھی ہوا ہے۔ آئی پی ایل میں ہم نے دیکھا کہ ایک کھلاڑی نے دوسری ٹیم کے کھلاڑی کو تھپڑ مارا اور تھپڑ کھانے والا خوب رویا اور یہ خبر میڈیا میں جم کر بحث کا موضوع بنی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بالی وڈ کی فلمیں دن با دن ناشائستہ ہوتی جا رہی ہیں وہیں ہندو تہذیب کا حوالہ دیتے ہوئے بعض تنظیموں اور افراد نے آئی پی ایل پی ایل کی چئر لیڈرز کو ’فحش‘ کپڑے پہننے پر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اور اب یہ بات سامنے آئی ہے ایک سینئر پولیس اہلکار نے ایک ٹیم کے مالک کے خلاف اس لیے شکایت درج کی ہے کیونکہ اس مالک نے پولیس افسر سے تیز آواز میں بات کی تھی۔ اس سے کچھ واضح ہو یا نہ لیکن ایک بات صاف ہے کہ ہندوستانی پولیس کے بھی کچھ جذبات ہیں۔ خوش قسمتی سے میں ان میں سے کسی بھی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا کیونکہ مجھے ایک راز پتہ ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ آئی پی ایل جلد ہی ختم ہونے والا شوق ہے اور جو دوسرا نمبر دلی کے افراد پر جادو کرنے والا ہے وہ 2010 ۔ یہ وہ سال ہے جب دلی کومن ویلتھ گمیز منعقد کرے گا۔ ویسے تو اس برس کے بارے میں کچھ بھی خاص نہیں ہے لیکن اگر کچھ ہو بھی تو اس کا اندازہ شاید ان افراد کو نہ ہو جو دلی میں نہیں رہ رہے ہیں۔
میرے نئے گھر میں جن کوئی بھی خرابی ہوتی ہے اور میں مرمت کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ یہ سب کب ٹھیک ہوگا تو اس کا جواب ہوتا ہے 2010 میں۔ 2010 وہ برس ہے جب دلی ایک فرسٹ کلاس شہر بن جائے گا۔ یہ وہ برس ہوگا جب شہر میں بجلی کی کٹوتی نہیں ہوگی، پانی کی قلت نہیں ہوگی، آلودگی کم ہوگی، شہر میں پیڑ زیادہ ہونگے، اور سبھی شہریوں کے چہرے پر مسکان ہوگی۔ جب میں دلی کے ائیرپورٹ پر ویزا چیک کرانے کے لئے لمبی قطار میں کھڑا ہوتا ہوں تو مجھے ایک سائن بورڈ دکھتا ہے جو کہتا ہے ’ Inconvenience is regretted ‘ یعنی پریشان کے لیے افسوس ہے۔ تو میں سوچتا ہوں چلو کا ہے کا پریشان ہونا 2010 تک تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ دلی میں گزشتہ دنوں میں مون سون سے پہلے ہی کافی بارش ہوئیں۔ بارش سے گرمی سے راحت ضرور ملی لیکن اس کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ شہر کی نالیاں جسے پھٹ گئی ہوں، سڑکیں رکے ہوئے پانی سے بھری پڑی تھیں اور ٹریفک جام عام بات بن گئی تھی۔ لیکن اس میں فکر کی کیا بات ہے 2010 تک تو شہر کی سڑکیں اے کلاس ہوجائیں گی۔فلائی اوورز ہوں گے، ہائی ویز ہوں گے، نئے فٹ پاتھ ہوں گے اور ہاں شہر کی سڑکوں پر سر عام گھومنے والی گائیں اور بھکاریوں کو ختم کردیا جائے گا۔ چلئے بہت بڑھیا کہ بھکاری نہیں ہونگیں۔ لیکن ان کے دن کم رہ گئے ہيں کیونکہ 2010 تک وہ نہیں رہیں گے۔ یہ آپ کے سوچ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں لیکن 2010 کے گیمز کی تیاریوں کے نام پر دلی میں دو چیزیں ہورہی ہیں یا تو دلی کو صاف کیا جارہا ہے یا پھر غریبی کو مزید جرائم خيز بنایا جا رہا ہے یعنی اگر آپ غریبوں کو ایسے ہٹاؤ گے تو جرم تو بھڑےگا۔ جب میں گھر سے کام کے لیے نکلتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ایک بڑی سے عمارت کو اس لیے منہدم کردیا گیا ہے کیونکہ حکومت کا حکم ہے کہ اسے توڑا جائے یا پھر کسی رہائشی علاقے میں منہدم کی جانے والی دکان کے لیے 2010 کے منصوبے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دلی تیزی سے بدل رہا ہے اور یہ تبدیلی آپ کو ہر ایک چيز میں نظر آئے گی۔ میرے دفتر میں چل رہے تعمیراتی کام کی وجہ سے میں گھر سے کام کر رہا ہوں اور میرے گھر کا انٹرٹنٹ مجھے تنگ کر رہا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ میرے علاقے میں بہتر انٹرنٹ سروس دینے والی کمپنیاں ابھی نہیں آئیں گی۔ شاید 2010 میں آئیں۔ |
اسی بارے میں پریمیئر لیگ میں بالی وُڈ کی چمک دمک19 April, 2008 | کھیل چیئر لیڈرز کو ’فحاشی‘ پر تنبیہ25 April, 2008 | کھیل ہربھجن سنگھ آئی پی ایل سے باہر28 April, 2008 | کھیل شعیب پر پابندی کا فیصلہ معطل04 May, 2008 | کھیل شعیب، جمعرات کو میچ کا امکان05 May, 2008 | کھیل جےپور: آیی پی ایل کا میچ سنیچر کو15 May, 2008 | انڈیا نیل آئی پی ایل کھیلیں گے17 May, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||