کھیلنے پر پابندی، شعیب کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بالر شعیب اختر پر پانچ سال کی پابندی کے خلاف اپیل سننے والا ایپلٹ ٹربیونل شعیب کی سزا معطل کرنے کی ایک درخواست کی سماعت اتوار کو کرےگا۔ اسی دوران لاہور کی ایک سول عدالت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے شعیب اختر کے خلاف 22 کروڑ روپے ہرجانے کے دعوے کی ابتدائی سماعت سنیچر کو ہوئی۔ ایپلٹ ٹربیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ آفتاب فرخ نے بی بی سی کو بتایا کہ شعیب اختر کو چونکہ بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئي نے پی سی بی کی جانب سے شعیب کو ملک سے باہر کھیلنے کی آزادی کے باوجود آئی پی ایل میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی ہے اس لیے اس فیصلے کوعبوری طور پر معطل کرنے کی درخواست پر غور ہو گا جبکہ پابندی پر اصل اپیل کی سنوائی جون ہی میں ہو گی۔ آفتاب فرخ کا کہنا تھا کہ فیصلے کو معطل کرنے کے لیے کئی باتوں کو مد نظر رکھا جائے گا اور اہم بات یہ ہوگی کہ اس فیصلے سے فریقین میں سے کس کا ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے اور کس کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل حسین کے مطابق شعیب اختر کے خلاف سول جج حنا مظفر کی عدالت میں شعیب اختر پر ہرجانے کے دعوے کی ابتدائی سماعت پر ایک اور درخواست دی گئی ہے جس میں شعیب اختر کو اپنی غیر منقولہ جائداد کو فروخت اور منتقل کرنے سے منع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ تفضل حسین رضوی کے مطابق بعض صورتوں میں اگر مدعا الیہ کو ڈر ہو کہ ہرجانے کے دعوے کا فیصلہ اس کے خلاف ہو سکتا ہے تو وہ اپنی جائیداد فروخت کر کے رقم ملک سے باہر بھیج کر محفوظ کر سکتا ہے۔ ابتدائی سماعت میں شعیب اخِتر کو اس دعوے کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے شعیب اختر کو نظم وضبط کی خلاف ورزی کرنے پر دو اپریل کو پانچ سال کی پابندی کی سزا سنائی تھی۔
سزا کے حکم کے بعد شعیب اختر کوکرکٹ شائقین اور کئی سیاست دانوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین پر ایک نجی ٹیلی ویژن میں آئی پی ایل کے کنٹریکٹ کروانے پر کمیشن لینے کا الزام لگایا اور یہ بھی کہا کہ اکستان کی ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں نے انہیں کمیشن دیا ہے اور چونکہ انہوں نے نے انکار کیا اس لیے مجھے پاپندی کی سزا دی گئی ہے۔ شعیب اختر کے اس بیان کے بعد کرکٹ بورڈ نے انہیں بیس کروڑ روپے کے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا اور چودہ دن کی لازمی مدت ختم ہونے پر بائیس کروڑ کا دعوی دائر کر دیا گیا۔ ایک طرف پی سی بی کے وکیل تفصل حسین یہ کہتے ہیں کہ شعیب اختر کو آئی پی ایل میں کھیلنے کے لیے اجازت دے کر چئرمین پی سی بی نے فراخ دلی کا ثبوت دیا ہے تو دوسری جانب ان کی جانب سے معافی مانگے جانے کے بعد بھی اتنی بڑی رقم کا دعوٰی کر دیا تو یہ دوہرے معیارات کیوں؟ تفضل حسین رضوی کا کہنا تھا کہ جہاں تک بائیس کروڑ کے جرمانے کا تعلق ہےتو شعیب اختر نے جو غلط کام کیے ہیں ان کی سزا توملنی چاھیے اور شعیب اختر نے پی سی بی کے چئرمین پر غلط الزامات لگا کر ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا ہے جو ناقابل معافی ہے۔تفضل حسین رضوی نے کہا کہ اگر ڈاکٹر نسیم اشرف یہ مقدمہ جیت گئے تو وہ اس رقم کو خیراتی کاموں اور کرکٹ کی ترقی پر خرچ کریں گے۔ | اسی بارے میں شعیب اختر پر پانچ برس کی پابندی01 April, 2008 | کھیل پابندی کے خلاف شعیب کی اپیل04 April, 2008 | کھیل شعیب اخبارات کی شہ سرخیوں میں02 April, 2008 | کھیل مجھےچُن کر نشانہ بنایا گیا: شعیب02 April, 2008 | کھیل شعیب کیس: اپیل کمیٹی کی تشکیل08 April, 2008 | کھیل ’شعیب کو صفائی کا پورا موقع ملےگا‘15 April, 2008 | کھیل آئی سی سی: شعیب سے تحقیقات08 April, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||