آئی سی سی: شعیب سے تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے فاسٹ بولر شعیب اختر کے میچ فکسنگ سے متعلق بیان پر اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہیں تاہم آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ اس بارے میں کچھ کہنے سےگریز کر رہے ہیں۔ شعیب اختر نے گزشتہ دنوں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پانچ سالہ پابندی عائد کیے جانے کے بعد شدید ردعمل ظاہرکرتے ہوئے ٹی وی پر ایک انٹرویومیں کہا تھا کہ انہیں مبینہ طور پر2003 میں جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران اور بھارت میں میچ فکسنگ مافیا نے بھاری رقم کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے ٹھکرا دیا تھا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ کے افسر ایلن پیکاک نے پاکستان آ کر شعیب اختر سے پوچھ گچھ کی ہے تاہم ان کی آمد اور تحقیقاتی عمل کو اینٹی کرپشن یونٹ کی پالیسی کے مطابق انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن یونٹ کے تحقیقاتی افسر نے شعیب اختر کے اس انکشاف کی روشنی میں یونس خان اور عمرگل سے بھی بات کی ہے۔ یونس خان بھارت کے دورے میں نائب کپتان تھے اور شعیب ملک کے ان فٹ ہوجانے کے بعد انہوں واضح رہے کہ آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کے مطابق اگر کوئی کرکٹر میچ فکسنگ کے بارے میں اسے کی جانے والی پیشکش سے اپنے کرکٹ بورڈ یا آئی سی سی کو بروقت مطلع نہیں کرتا تو اسے ایک سے پانچ سال کی پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ شعیب اختر سے اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اگر انہیں اس قسم کی کوئی پیشکش کی گئی تھی تو وہ اتنا عرصہ خاموش کیوں رہے۔ | اسی بارے میں شعیب: آئی سی سی کی پوچھ گچھ04 April, 2008 | کھیل پابندی کے خلاف شعیب کی اپیل04 April, 2008 | کھیل آئی پی ایل نے بھی پابندی لگا دی03 April, 2008 | کھیل مجھےچُن کر نشانہ بنایا گیا: شعیب02 April, 2008 | کھیل شعیب اختر پر پانچ برس کی پابندی01 April, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||