شعیب: آئی سی سی کی پوچھ گچھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے فاسٹ بولر شعیب اختر کے ان انکشافات کا نوٹس لیتے ہوئے ان سے پوچھ گچھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں انہوں نے کہا ہے کہ میچ فکسنگ مافیا نے انہیں بھی پرکشش پیشکشیں کیں جنہیں انہوں نے ٹھکرا دیا۔ آئی سی سی کے کمیونیکیشن منیجر سمیع الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ نے شعیب اختر کے مذکورہ انٹرویو کا بغور جائزہ لیا ہے اور جلد ہی شعیب اختر سے اس کی وضاحت طلب کی جائے گی‘۔ واضح رہے کہ شعیب اختر نے ایک ٹی وی چینل پر یہ انکشاف کیا تھا کہ2003 میں جوہانسبرگ میں انہیں میچ فکسنگ کے لئے نوٹوں سے بھرا بریف کیس پیش کیا گیا لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ وہ محب وطن ہیں اور ملک کو بیچنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ سمیع الحسن نے کہا کہ گو کہ ابھی تک آئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ یا شعیب اختر سے اس بارے میں بات نہیں کی ہے لیکن جلد ہی قواعد و ضوابط کے مطابق ایسا کیا جائے گا۔
سمیع الحسن کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کے تحت اگر کسی کرکٹر کو میچ فکسنگ یا کسی منفی سرگرمی میں ملوث ہونے کی پیشکش ہوتی ہے تواس پر لازم ہے کہ وہ اپنے کپتان، ٹیم منیجمنٹ، کرکٹ بورڈ یا آئی سی سی کو اس بارے میں ضرور آگاہ کرے۔، آئی سی سی اس بات کا جائزہ لے گی کہ جب شعیب اختر کو اس طرح کی پیشکش ہوئی تو کیا انہوں نے ان میں سے کسی کو اس کی اطلاع دی یا نہیں؟۔ واضح رہے کہ میچ فکسنگ کی پیشکش کے بارے میں اپنے کرکٹ بورڈ یا آئی سی سی کو باخبر نہ رکھنے والے کرکٹر کے لئے ایک سے پانچ سال تک کی پابندی کی سزا رکھی گئی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ شعیب اختر نے نہ صرف کیمرے کے سامنے بک میکرز کی مبینہ پیشکش کا انکشاف کیا ہے بلکہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے آف دی ریکارڈ بھی کچھ ایسی باتیں کہہ ڈالیں جو بعد میں ان سے منسوب کر کے ایک صحافی نے بھارتی ٹی وی چینلز پر کہہ ڈالیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے بھی شعیب اختر کے ان انکشافات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد اب شعیب اختر اس طرح کی باتیں کیوں کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میچ فکسنگ کے قضیے نے پاکستانی کرکٹ کو پہلے ہی بہت بدنام کردیا اب اس بحث کو ختم ہوجانا چاہیے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ہر سیریز سے قبل آئی سی سی کرکٹرز کو کہتی ہے کہ اگر انہیں کوئی آفر ہوتی ہے تو اس بارے میں ضرور بتائیں اورگزشتہ پانچ سال سے پاکستانی کرکٹ ٹیم اس طرح کے کسی الزام کے بغیر عمدہ کارکردگی دکھاتی آئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو شعیب اختر سے ضرور پوچھ گچھ کرنی چاہیے کہ اگر انہیں اس طرح کی کوئی آفر ہوئی تو وہ خاموش کیوں بیٹھے رہے؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پانچ سالہ پابندی کے فیصلے نے شعیب اختر کو مظلوم اور ہیرو بنا دیا ہے۔ اس فیصلے پر ہونے والے احتجاج میں کرکٹرز کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں کی آواز بھی شامل ہوچکی ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شعیب اختر جذباتیت میں ایک سے زائد محاذ کھول چکے ہیں۔ ان کے اس الزام کے بعد کہ بقول ان کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین آئی پی ایل میں کھیلنے کے عوض اپنا حصہ طلب کرتے رہے ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے انہیں بیس کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے اور اب میچ فکسنگ کے انکشافات سے آئی سی سی بھی حرکت میں آگئی ہے۔ | اسی بارے میں پابندی کے خلاف شعیب کی اپیل04 April, 2008 | کھیل شعیب کو 20 کروڑ ہرجانے کے نوٹس03 April, 2008 | کھیل آئی پی ایل نے بھی پابندی لگا دی03 April, 2008 | کھیل مجھےچُن کر نشانہ بنایا گیا: شعیب02 April, 2008 | کھیل شعیب پر پابندی غیر قانونی: وکلاء02 April, 2008 | کھیل شعیب اختر پر پانچ برس کی پابندی01 April, 2008 | کھیل ’سنٹرل کنٹریکٹ سے فرق نہیں پڑتا‘ 01 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||