’سنٹرل کنٹریکٹ سے فرق نہیں پڑتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کنٹریکٹ سے محروم رہنے والے فاسٹ بالر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ انہیں کرکٹ بورڈ کی جانب سے سنٹرل کنٹریکٹ نہ ملنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ تو بورڈ کی جانب سے ملنے والی ریٹینر شپ پر بھی دستخط نہیں کریں گے۔ شعیب اختر نے جمعہ کے روز قذافی سٹیڈیم لاہور میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ پریکٹس کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان کی ٹیم کے غیر ملکی کوچ جیف لاسن نے بلایا تھا۔ شعیب اختر نے کہا کہ مجھے ملک سے کھیلنے کے لیے سنٹرل کنٹریکٹ کی ضرورت نہیں ہے میرے لیے ملک کے لیے کھیلنا ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا ’میرے لیے پیسے کے لیے کھیلنا باعث شرم ہے اور نہ مجھے پہلے سنٹرل کنٹریکٹ لینے میں دلچسپی تھی نہ اب ہے اور نہ ہی میں ریٹینر شپ پر کبھی دستخط کروں گا۔‘ ’میں پٹینگولر ٹورنامنٹ کھیلوں گا، محنت کروں گا اور میں فٹ ہوں۔ اور اگر وہ کہتے ہیں کہ میں فٹ نہیں ہوں تو میں اپنی فٹنس ثابت کر دوں گا۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے کے لیے تیار ہیں اور یقیناً یہ سیریز مشکل ہو گی اور وہ اس میں کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے زمبابوے کے خلاف شعیب اختر کو سکواڈ کا حصہ نہیں بنایا۔ اس ضمن میں شعیب اختر کا کہنا تھا کہ وہ زمبابوے کے خلاف کھیل کر اپنی فارم برقرار رکھنا چاہتے تھے لیکن انہیں ڈراپ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو ان سے پہلے وسیم اکرم اور وقار یونس کے ساتھ بھی ہوتا رہا اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ پھر کھیلیں گے۔ شعیب اختر نے پی سی بی کے ایک آفیشل کے اس بیان کو مسترد کیا کہ شعیب اختر کا بورڈ سے رابطہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاہور کے علاقے ڈیفنس میں رہتے ہیں اور یہ سب کو معلوم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کو ان سے خود رابطہ کرنا چاہیے۔ ’جب بورڈ کو مجھے جنوبی افریقہ کے خلاف آخری میچ میں کھلانا تھا تو انہوں نے مجھے ڈھونڈ کر بلایا تھا۔‘ شعیب اختر نے کہا کہ انہیں بھارت میں فلموں میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی تھی جو انہوں نے منظور نہیں کی۔ ہو سکتا ہے کہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایسی کسی پیشکش پر غور کریں۔ قذافی سٹیڈیم لاہور میں پریکٹس کے بعد پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے کہا کہ قذافی سٹیڈیم میں صرف وہ کھلاڑی ہی نہیں آ سکتے جو ٹیم میں ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کسی پر پابندی عائد نہیں کی اور اگر شعیب اختر پریکٹس کے لیے آئے ہیں تو یہ ان کا استحقاق ہے۔ شعیب ملک نے فاسٹ بالر شعیب اختر کی فٹنس کو بہتر کہتے ہوئے کہا کہ ان کا وزن کچھ کم لگ رہا تھا اور وہ فٹ دکھائی دے رہے تھے اور ان کی آج بالنگ کروانے سے ہمارے بیٹسمینوں کو اچھی پریکٹس ملی۔ کپتان نے کہا کہ شعیب اختر پاکستان کا سرمایا ہیں۔ شعیب ملک نے کہا کہ زمبابوے کے خلاف اس سیریز سے ہماری ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے کے لیے اچھی تیاری ملی ہے۔اور نوجوان کھلاڑیوں کو اس سیریز میں آزمانے سے آسٹریلیا کے خلاف اچھے متبادل کھلاڑی بیک اپ کے لیے مل گئے ہیں۔ زمبابوے کے کوچ روبن براؤن اور کپتان ماسا کاٹزا نے بھی شیخوپورہ میں دو فروری کو ہونے والے پانچویں اور آخری ایک روزہ میچ کے سلسلے میں پریس کانفرنس کی۔ روبن براؤن کا کہنا تھا ’شیخوپورہ میں دس سال پہلے ہونے والے میچ میں زمبابوے نے پاکستان کو ہرایا تھا اور ہم وہ تاریخ دہرانے کی کوشش کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس سیریز میں ہارنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہماری ٹیم نے بہت عرصے کے بعد سیریز کھیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سیریز سے ہماری ٹیم کو سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ | اسی بارے میں ناکامیوں اور پریشانیوں کا سال24 December, 2007 | کھیل کرکٹ نہیں چھوڑ رہا: شعیب اختر13 January, 2008 | کھیل ’شعیب کا ٹخنہ سو فیصد ٹھیک نہیں‘16 January, 2008 | کھیل شعیب قربانی کا بکرا: عمران خان19 January, 2008 | کھیل فٹ باہر، ان فٹ کے لیے کنٹریکٹ28 January, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||