ڈیرل ہیئر بحال اورانضمام حیران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی نے متنازعہ آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر کو ایک بار پھر ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کی اجازت دے دی ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق اور پاکستان کرکٹ بورڈ کےسابق چیئرمین شہریارخان نے اس فیصلے کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس پر سخت مایوسی ہوئی ہے۔ آئی سی سی کے ایگزیکٹیو بورڈ کے دو روزہ اجلاس میں جو منگل کو دبئی میں ختم ہوا ڈیرل ہیئر کو دوبارہ ایلیٹ پینل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ ڈیرل ہیئر کا آئی سی سی سے معاہدہ اسی ماہ ختم ہونے والا ہے۔ ڈیرل ہیئر نے اگست 2006 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اوول ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کیا تھا جو ثابت نہیں ہوسکا۔ آئی سی سی نے چیف میچ ریفری رنجن مدوگلے کے ذریعے اس واقعے کی تحقیقات کی تھی جنہوں نے پاکستانی کپتان انضمام الحق کو کھیل کی ساکھ متاثر کرنے پر چار ون ڈے میچز کی پابندی سنائی تھی۔ تاہم آئی سی سی نے ڈیرل ہیئر کو امپائرز کے ایلیٹ پینل سے باہر کر دیا تھا اور انہیں صرف ایسوسی ایٹ ممالک کے میچز سپروائز کرنے کی اجازت تھی۔ ڈیرل ہیئر کے بارے میں آئی سی سی نے یہ کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی میچز میں امپائرنگ کے لئے موزوں نہیں ہیں لیکن اب انہیں اچانک دوبارہ ایلیٹ پینل میں شامل کرلیا گیا ہے۔ آئی سی سی کے بورڈ اجلاس میں کسی بھی فیصلے کے لئے ٹیسٹ رکنیت کے حامل سات ممالک کے ووٹ ضروری ہوتے ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ڈیرل ہیئر کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے ہی حلیفوں کی حمایت حاصل نہ ہوسکی اور فیصلہ ڈیرل ہیئر کے حق میں ہوگیا۔ اوول ٹیسٹ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے ڈیرل ہیئر کو دوبارہ ایلیٹ پینل میں شامل کئے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انضمام الحق نے پنچکولا سے جہاں وہ اس وقت آئی سی ایل کھیلنے میں مصروف ہیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسے ایک غیرمنصفانہ فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ ڈیرل ہیئر کی کرکٹ سے دیانتداری تو ان کے اس بیان سے ظاہر ہوگئی تھی کہ انہوں نے پانچ لاکھ ڈالرز کے عوض امپائرنگ چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ انضمام الحق نے کہا کہ ہیئر کے بارے میں فیصلہ تو آئی سی سی کی جیوری نے دیا اب اسے تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہےکہ اس جیوری کی بھی کوئی وقعت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت یہ فیصلہ کرکے میلکم اسپیڈ نے آسٹریلوی ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ اوول ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ کا الزام ثابت نہ ہونے پر اس میچ کا نتیجہ تبدیل کرانے کی ضرورت تھی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ ایسا نہ کرسکا اور اب ہیئر کی بحالی پر بھی اگر پاکستان کرکٹ بورڈ خاموش رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ایک کمزور اور خاموش تماشائی کرکٹ بورڈ ہے، اس کے برعکس بھارتی بورڈ نے اپنے کھلاڑی ہربھجن سنگھ کے معاملے میں سخت موقف اختیار کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریارخان نے بھی ڈیرل ہیئر کو بحال کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب تک اس معاملے میں خاموش تھے لیکن اب اس بارے میں حقائق سامنے لائیں گے۔ شہریار خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین ہی بتاسکتے ہیں کہ انہوں نے آئی سی سی کے اجلاس میں ہیئر کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا لیکن ان کے لئے یہ فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے جس پر انہیں یقین نہیں آ رہا۔ |
اسی بارے میں ’ڈیرل کا تقرر سب سے بڑی غلطی‘21 August, 2006 | کھیل انضمام سماعت: کارروائی مکمل27 September, 2006 | کھیل انضمام، ٹیمپرنگ کے الزام سے بری28 September, 2006 | کھیل کرکٹ ماہرین نے پانسہ پلٹ دیا 29 September, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئرکا نسلی امتیاز کا الزام واپس25 February, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||