BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 February, 2008, 22:02 GMT 03:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسٹریلوی ٹیم کا دورہ خطرے میں

پاکستان سکیورٹی
پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے
آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کو سکیورٹی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ وہ آسٹریلوی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجیں جس سے ان خدشات کو تقویت پہنچی ہے کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کا دورۂ پاکستان منسوخ ہو جائے گا۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو مارچ اپریل میں تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے پاکستان کا دورہ کرنا ہے لیکن کچھ کرکٹرز نے سکیورٹی کے خدشات کو جواز بناکر پاکستان کے دورے کے سلسلے میں تحفظات ظاہر کئے ہیں اور اب آسٹریلوی کرکٹ بورڈ بھی اس دورے کو منسوخ کرنے کی بات کر رہا ہے۔

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کریگ او کونرز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹرنسیم اشرف کو خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کا خواہاں ہے لیکن انہیں سکیورٹی ماہرین نے جو بریفنگ دی ہے اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے گریز کیا جائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا خط ملا ہے جس میں آسٹریلوی ٹیم کے دورے سے قبل سکیورٹی وفد پاکستان بھیجنے کی افادیت کے بارے میں بھی استفسار کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ انہوں نے اس خط کے جواب میں کہا ہے کہ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ وہ عام انتخابات کے بعد ممکن ہو تو پچیس فروری کو اپنا سکیورٹی وفد پاکستان بھیج کر سکیورٹی کے بارے میں تسلی کر سکتا ہے۔

وفد کو پھر بھیجیں
 آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ وہ عام انتخابات کے بعد ممکن ہو تو پچیس فروری کو اپنا سکیورٹی وفد پاکستان بھیج کر سکیورٹی کے بارے میں تسلی کر سکتا ہے
ڈاکٹر نسیم اشرف

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے مطابق پاکستان کرکٹ کے لئے محفوظ ملک ہے انہوں نے آسٹریلوی ہم منصب کو یاد دلایا ہے کہ انگلینڈ میں ہونے والے دھماکوں کے وقت آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے میچز جاری رکھے تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ خوش اسلوبی سے مکمل کر کے جا چکی ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ اگرآسٹریلوی کرکٹ ٹیم پاکستان نہیں آئی تو پاکستان بھی آسٹریلیا کا جوابی دورہ نہ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دریں اثناء آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کو بچانے کی آخری کوشش کے طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام ملائشیا میں انڈر ورلڈ کپ کے موقع پر آسٹریلوی کرکٹ حکام سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلوی ٹیم کے پاکستان آنے سے انکار کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان سے بچنے کے لئے پہلے ہی اس سیریز کی انگلینڈ کے ایک ادارے سے انشورنس کرالی ہے۔

پاکستانی کرکٹ حلقےاس نکتے کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ سکیورٹی وفد بھی پاکستان بھیجنے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے پوچھ رہا ہے جبکہ عام طور پر کسی دورے سے قبل سکیورٹی وفد اس ملک میں جاکر امن وامان کی صورتحال اور دیگر سہولتوں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ کرکٹ بورڈ کو دے دیتے ہیں لیکن اپنے سکیورٹی وفد کو پاکستان بھیجنے کے بارے میں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کی سرد مہری یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کے دورے پر آسٹریلوی ٹیم کو نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔

ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آسٹریلوی کرکٹرز پاکستان کے دورے کے بجائے آئی پی ایل کی چکاچوند دولت میں زیادہ دلچسپی رکھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد