’دورۂ پاکستان حالات سے مشروط‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کا خیال ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کا انحصار پاکستان میں عام انتخابات کے بعد کے حالات پر ہوگا۔ جیف لاسن جو بھارت کے خلاف سیریز کے بعد کرسمس منانے آسٹریلیا چلے گئے تھے بدھ کی شب پاکستان واپس پہنچے ہیں۔ ان کی آمد نے ان قیاس آرائیوں کو بھی ختم کردیا ہے جو پاکستان میں سکیورٹی کے خدشات کے ضمن میں ان کی واپسی میں تاخیر کے بارے میں کی جارہی تھیں۔ انہوں نے قائداعظم ٹرافی کے فائنل کے موقع پر جمعرات کو نیشنل اسٹیڈیم میں یونس خان سمیت پاکستانی کرکٹ ٹیم کے متعدد کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جیف لاسن کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں ابھی کافی وقت ہے اور اس مرحلے پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عام انتخابات کے بعد کے حالات پر اس سیریز کا انحصار ہوگا۔ جیف لاسن نے کہا کہ ان کی پاکستان واپسی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ یہاں کے سکیورٹی حالات سے خوفزدہ نہیں ہیں اور خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں انہوں نے سکیورٹی اور آسٹریلوی ٹیم کے پاکستان کے دورے کے ضمن میں چند آسٹریلوی کرکٹرز اور کرکٹ آسٹریلیا کے حکام سے غیررسمی بات چیت کی تھی۔ جیف لاسن نے کہا کہ وہ فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور یہ فیصلہ کرکٹ آسٹریلیا نے کرنا ہے جو سکیورٹی کے ضمن میں بہت احتیاط سے جائزہ لے کر فیصلہ کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا کو کرکٹ کی اہمیت اور ملکوں کے درمیان تعلقات کا بھی بخوبی احساس ہے۔ وہ اپنا سکیورٹی وفد بھی پاکستان بھیجے گا۔ اس سوال پر کہ اگر آسٹریلوی کرکٹ ٹیم پاکستان نہیں آتی ہے تو کیا یہ سیریز آسٹریلیا میں یا نیوٹرل مقام پر ہونی چاہئے، جیف لاسن نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا کوچ اور کھلاڑیوں کا کام نہیں ہے بلکہ یہ خالصتاً انتظامی معاملہ ہے۔ جیف لاسن نے فاسٹ بولر شعیب اختر کا بھرپور انداز میں دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بیماری نے ان کی کارکردگی کو متاثر کیا۔ وہ جب فٹ تھے تو انہوں نے زبردست بولنگ کی۔ اگر وہ مکمل فٹ ہوتے تو پاکستانی ٹیم آخری ٹیسٹ جیت سکتی تھی۔ لاسن نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ شعیب اختر اپنا آخری ٹیسٹ کھیل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر میں اب بھی موثر بولر ہونے کی جھلک موجود ہے اور ایک فٹ شعیب اختر آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اہم کردار ادا کرینگے۔ لاسن نے کپتان شعیب ملک کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ وہ نوجوان ہے جس سے فوری طور پر اچھے نتائج کی توقع نہ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت آنے پر شعیب ملک ایک بہترین کپتان ثابت ہوگا۔ | اسی بارے میں پاک بھارت مقابلے ایشز سے ’بڑے‘01 November, 2007 | کھیل شعیب: آسٹریلوی کرکٹرز سے رابطہ01 January, 2008 | کھیل ’آسٹریلیا کا دورہ معول کے مطابق‘31 December, 2007 | کھیل ٹیم کوجارحانہ انداز اپنانا ہوگا: لاسن21 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||