مناء رانا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | ٹؤنٹی ٹؤنٹی کرکٹ کو کرکٹ نہیں سمجھتا: عمران خان |
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اس وقت تک تسلسل کے ساتھ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتی جب تک کہ پاکستان کا ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ درست نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کے لیے اکلوتا عالمی کپ جیتنے والے سابق کپتان نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں کہا کہ یہ سال پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا کارکردگی کے لحاظ سے برا ترین سال ثابت ہوا۔ ان کے بقول سنہ دو ہزار سات کے آغاز میں پاکستان کی ٹیم نے عالمی کپ میں اب تک ہونے والے تمام عالمی کپ سے بری کاردگی دکھائی اور ایک بالکل نا تجربہ کار (آئرلینڈ) ٹیم سے ہار کر پہلے راؤنڈ سے ہی باہر ہو جانا ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ پاکستان کی ٹیم جو سنہ دو ہزار سات میں پہلے ٹؤنٹی ٹؤنٹی عالمی کپ کی رنرز اپ ٹیم ہے، اس کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ ٹؤنٹی ٹؤنٹی کرکٹ کو کرکٹ نہیں سمجھتے کیونکہ یہ چانس کا کھیل ہے اور اس میں کوئی بھی کمزور ٹیم بڑی ٹیم کو ہرا سکتی ہے، لہذٰا اس میں اچھی کارکردگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ’اصل کرکٹ تو ٹیسٹ کرکٹ ہے جس پر دنیا کی ٹیموں کی درجہ بندی ہوتی ہے اس کے بعد ون ڈے کرکٹ کا نمبر آتا ہے۔ ‘ پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ’سال کے خاتمے پر پہلے جنوبی افریقہ کی ٹیم سے ہوم سیریز ہارنا اور پھر انڈین ٹین سے کئی برسوں بعد بھارت میں ون ڈے سیریز میں شکست ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی ٹیم میں بہت کمی ہے۔‘  | | | جیف لاسن کو عمران خان نے با صلاحیت قرار دیا |
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ڈومیسٹک کرکٹ اتنا غیر منظم ہے اور یہی بات پاکستان کی ٹیم میں نظرآتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’اصل میں پاکستان کو اپنا کرکٹ کا ڈھانچہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اتنےچئرمین تبدیل ہوئے لیکن کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ کئی سالوں سے جاری اس کرکٹ ڈھانچے کو بدلے بغیر پاکستان کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم نہیں بن سکتی۔‘ عمران کے مطابق پاکستان میں کرکٹ کاجتنا خام ٹیلنٹ ہے اتنا کسی اور ملک کے پاس نہیں لیکن بُرے ڈھانچے کے سبب یہ ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔’ مثلاً مصباح الحق کی مثال سامنے ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کے باوجود انہیں اتنے سال ٹیم سے باہر رکھاگیا کیونکہ ٹیلنٹ کو پہچاننے کا کوئی طریقہ موجود ہی نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک میں کپتانی کی صلاحیتیں موجود ہیں لیکن ابھی بھی ان کی ٹیم میں پوزیشن مستحکم نہیں اور ابھی انہیں خود کو ریکارڈ بنا کر پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔’جس کپتان کی ٹیم میں پوزیشن ہو اس میں خود اعتمادی ہوتی ہے۔‘ پاکستان کی ٹیم کو فاسٹ بالنگ کے شعبے میں در پیش مسائل کی بابت سابق فاسٹ بالر کا کہنا تھا کہ فٹ نس کے مسائل نے پاکستان کی ٹیم کو اس شعبے میں کمزور کر دیا ہے اور اس مسئلے سے بھی جان چھڑانی ہے تو کرکٹ کا ڈھانچہ درست کرنا ہی اس کا حل ہے۔ پاکستان کی ٹیم کے نئے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کو عمران خان نے با صلاحیت قرار دیا اور ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیم کے کھلاڑی زخمی ہوں اور ان فٹ ہوں تو کوچ کیا کر سکتا ہے۔
|