مصباح بھارتی بالرز کے سامنے جم گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے خلاف دِلّی میں پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن تیزی سے وکٹیں گنوانے کے بعد مصباح الحق کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر دو سو دس رنز بنائے۔ فیروز شاپ کوٹلہ گراؤنڈ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان 142 رنز پر آٹھ وکٹیں گنوا چکا تھا۔ لیکن اس کے بعد مصباح الحق اور محمد سمیع نے بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکور دو سو دس تک پہنچا دیا۔ اس دوران مصباح الحق نے اکہتر رنز بنائے جبکہ محمد سمیع بیس رنز بنا چکے ہیں۔ انڈیا کی جانب سے انیل کمبلے کامیاب ترین بالر رہے۔ انہوں نے تین جبکہ ظہیر خان نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی طرف سے بیٹنگ کا آغاز سلمان بٹ اور یاسر حمیدنے کیا۔ تیرہ کے سکور پر سلمان بٹ ظہیر خان کی گیند پر بولڈ ہو گئے اور اس کے بعد پینتیس کے سکور پر یونس خان بھی ظہیر خان کا نشانہ بن گئے۔ یاسر حمید انسٹھ کے سکور پر انیل کمبلے کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ تیراسی کے مجموعی سکور پر پانچ وکٹیں گنوانے کے بعد پاکستانی ٹیم نے کچھ وقفہ کے لیے بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کے سکور میں انتالیس رن کا اضافہ کیا۔
مایہ ناز لیگ سپنر انل کمبلے دلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان پر پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ سے قومی ٹیم کی کپتانی کا آغاز کیا ہے۔ یہ وہی میدان ہے جہاں 1999 میں انہوں نے پاکستان کے خلاف ایک ہی اننگز میں دس وکٹیں لے کر جم لیکر کا عالمی ریکارڈ برابر کیا تھا۔ گزشتہ ستائیس برسوں ميں ہندوستان نے اپنی سرزمین پر پاکستان کے خلاف ایک بھی ٹیسٹ سریز نہیں جیتی ہے۔ دوسری جانب حالیہ ون ڈے سیریز کے دوران پاکستان کے کھلاڑیوں کی بیٹنگ پر کافی نکتہ چینی کی گئی ہے جس کے سبب ان پر کافی دباؤ ہے۔ انڈیا کی طرف سے فاسٹ بالرز آر پی سنگھ اور شری سنتھ کی جگہ ٹیم میں مناف پٹیل اور ایشانت شرما کو شامل کیا گیا ہے۔ یوراج سنگھ بھی ٹیم میں شامل نہیں۔ پاکستانی ٹیم کے بلّے بازوں کی خراب کارکردگی ایک مسئلہ ہے لیکن شعیب اختر، دانیش کنیریا اور محمد سمیع بھارتی کھلاڑیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ محمد آصف اور عمر گل زخمی ہونے کے باعث ٹیم میں شامل نہیں۔ |
اسی بارے میں ہردوسرے سال انڈیا سے سیریزکامشورہ04 November, 2007 | کھیل ’نائٹ کلب جانا انہونی بات نہیں‘24 February, 2005 | کھیل سرد موسم میں گرمادینے والا میچ18 September, 2004 | کھیل ’ ڈرا جو جیت سے کم نہیں تھا‘05 March, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||