BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 November, 2007, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کرکٹ میں جوش کے بغیر مزا نہیں‘

شیعب اختر
شیعب اختر بھارتی صحافیوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس وقت بھارتی ٹیم اچھی فارم میں ہے لیکن پاکستان ٹیم بھی اچھی تیاری میں ہے ۔

کپتان شعیب ملک کے مطابق کرکٹ میں جوش کے بغیر مزا نہیں ہے اور انہیں امید ہے کہ بھارت کے ساتھ عمدہ مقابلہ ہوگا۔

دلی پہنچنے پر پاکستانی ٹیم کا زبردست استقبال ہوا اور پریس کانفرنس میں ٹیم کے کپتان شعیب ملک اور کوچ جیف لاسن نے بھارت کے ساتھ سیریز کو جوش وخروش سے بھر پور بتایا۔

شعیب ملک کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ ہر میچ دلچسپ ہوتا ہے اور انڈیا کے ساتھ کھیلنے میں انہیں بہت مزا آتا ہے۔’ٹوئنٹی 20 کی ہار ایک تاریخ بن چکی ہے اور اب اس سیریز پر ہماری توجہ ہے، میرے خیال میں برصغیر کی پچوں پر تین سو رنز بن جاتے ہیں تو جو زیادہ صبر کا مظاہرہ کرےگا اسے فائدہ ہوگا اور ذرا سی بھی غلطی ہار کا سبب بن سکتی ہے، ویسے مہمان ٹیم کو تھوڑا ہوم ایڈوانٹیج ضرور ہوتا ہے۔‘

کوچ جیف لاسن سے جب یہ سوال کیا گیا کہ بھارت اور پاکستان کے تقریباً سبھی سابق کھلاڑیوں نے اس سیریز کے لیے انڈیا کو فیورٹ بتایا ہے تو کیا انہوں نے اس کے لیے کوئی خاص حکمت عملی تیار کی ہے۔ جیف لاسن نے کہا: ’ یہ سابق کھلاڑیوں کی رائے ہے جسے میں اہمیت نہیں دیتا۔ میرے خیال سے پچاس اوورز کے کھیل میں سوجھ بوجھ کی ضرورت ہے اور فیورٹ وہی ہے جو دباؤ کو اچھی طرح برداشت کر پائےگا۔‘

جیف لاسن نے کہا:’ ہمارا مڈل آرڈر بہت اچھا ہے اور اگر ہم نے آغاز اچھا کیا اور ہماری اوپننگ جوڑی مستقل اچھا سکور کرتی رہی تو ہم بڑے سکورز کر سکتے ہیں اور ہمیں اگلے پانچ میچوں میں اسی طرح کی اچھی کار کردگی کی امید ہے۔‘

شعیب ملک کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارتی بلے باز یوراج سنگھ بہت اچھا کھیل رہے ہیں’ آر پی سنگھ بہت اچھے بالر ہیں لیکن ان کے لیے ہمارے پاس بھی منصوبہ ہے اور ہم انہیں پریشان کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ میں تناؤ بہت ہوتا ہے اور وہ اس سے کس طرح نمٹیں گے تو انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا’ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کوئی ٹینشن ہے کیونکہ میں بھی اردو بولتا ہوں اور آپ بھی اردو ہی بولتے ہیں۔ بھارت میں کھیلنا بہت اچھا لگتا ہے لوگ ہمیں بڑی تعداد میں دیکھنے آتے ہیں ‘۔

صحافیوں کو سب سے زیادہ دلچسی شعیب اختر کی واپسی پر تھی۔ سوال یہ تھا کہ ان کی واپسی سے بھارت پریشان ہوگا یا خود پاکستانی ٹیم۔

اس پر جیف لاسن نے کہا: ’ایئر پورٹ پر انہیں دیکھ پر میں بہت متاثر ہوا کہ انہوں نے سلیقے کے بال کٹوائے تھے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ اچھی شروعات ہے۔ پچھلے میچ میں شعیب نے چار وکٹیں لی تھیں اور ہمیں پتہ ہے کہ اگر انہیں اچھی طرح ہینڈل کیا گیا تو وہ سیریز میں سب سے طاقت ور کھلاڑی بن کر ابھر سکتے ہیں، یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اچھا کھیلیں اور وہ کریں جو ٹیم کو ان سے چاہیے۔‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم یکم نومبر کو بھارت کے بیالیس روزہ دورے پر دلی پہنچی ہے۔ اس دوران پہلے وہ پانچ ایک روزہ میچ کھیلے گی اور پھر تین ٹیسٹ میچ ہوں گے۔

پہلا ون ڈے میچ پانچ نومبر کوگوہاٹی میں کھیلا جائےگا اور دوسرا آٹھ نومبر کو موہالی میں جبکہ باقی تین میچ بالترتیب کانپور،گوالیار اور جے پور میں ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد