BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ ڈرا جو جیت سے کم نہیں تھا‘

وسیم راجہ
انیس سو تراسی کی سیریز میں وسیم راجہ نے کیریئر بیسٹ اننگز کھیلیں
انیس سو تراسی کے اوائل میں پاکستان میں ہونے والی سیریز کے صرف نو ماہ بعد بھارت میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی گئی ورنہ اس سے قبل ان دو روایتی حریفوں کے درمیان ہمیشہ طویل انتظار کے بعد سیریز ہوتی رہی تھی۔

پاکستان ٹیم عمران خان کی خدمات سے محروم تھی جو پنڈلی میں اسٹریس فریکچر کے سبب بولنگ کرنے سے قاصر تھے۔ قیادت کی ذمہ داری ظہیرعباس کے سپرد کردی گئی تھی اور ٹیم میں قاسم عمر ، شعیب محمد ، عظیم حفیظ ، عتیق الرحمن اور اقبال سکندر جیسے نئے کھلاڑی شامل تھے جو اس سے قبل ٹیسٹ نہیں کھیلے تھے۔ بھارتی ٹیم کے کپتان کپل دیو تھے۔

سیریز کے تینوں ٹیسٹ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے جسے ظہیرعباس اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں کہ وہ بھارت سے شکست کھائے بغیر لوٹے لیکن ان کی ضرورت سے زیادہ محتاط روی اور دفاعی حکمت عملی نے ناگپور میں پاکستان کو ممکنہ جیت سے دور رکھا۔

بنگلور میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 275 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ بھارتی ٹیم کے 85 کے سکور پر 6 کھلاڑی ہو گئے جس کے بعد راجر بنی نے ناقابل شکست 83 اورمدن لعل نے74 رنز بناکر اسے مشکلات سے نکالا۔ ان دونوں نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں 155 رنز کا اضافہ کیا۔

پاکستان کے طاہر نقاش پانچ وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے۔ مدثرنذر نے تین اور پہلاٹیسٹ کھیلنے والے عظیم حفیظ نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان ٹیم بھارت پر پہلی اننگز میں 13 رنز کی سبقت حاصل کرسکی۔ جاوید میانداد صرف ایک رن کی کمی سے شاندار سنچری مکمل نہ کرسکے۔ مدن لعل کی گیند پر کور میں ان کا خوبصورت کیچ متبادل فیلڈر سری کانت نے لیا۔ وسیم باری نے 64 رنز کی قیمتی اننگز کھیلی۔ کپل دیو نے پانچ وکٹ حاصل کیے۔

دوسری اننگز میں بھارت نے بغیر کسی نقصان کے 176 رنز بنائے تھے جس میں گاوسکر کی سنچری اور انشومن گائیکواڈ کی نصف سنچری شامل تھی۔

جالندھر میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ وسیم راجہ کی عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی اور انشومن گائیکواڈ کی سست رفتار ڈبل سنچری کے ساتھ ڈرا کے طور پر کتابوں میں درج ہوگیا۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 337 رنز بنائے جس میں وسیم راجہ نے کریئر بیسٹ 125 رنز بنائے۔ جاویدمیانداد نے 66 اور ظہیرعباس نے 49 رنز کے ساتھ پاکستان اننگز کو تقویت فراہم کی۔ شعیب محمد اور قاسم عمر کا ٹیسٹ کرکٹ میں آغاز بالترتیب 6 اور 15 رنز کے ساتھ مایوس کن رہا۔ کپل دیونے اپنی وکٹوں کی تعداد میں مزید چار کا اضافہ کیا۔

بھارت کی پہلی اننگزمیں انشومن گائیکواڈ نے436 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 201 رنز اسکور کئے۔ پاکستان کے خلاف یہ کسی بھی بھارتی بیٹسمین کی پہلی ڈبل سنچری تھی۔

وسیم راجہ نے بیٹنگ کے بعد بولنگ میں بھی کریئر بیسٹ کارکردگی دکھائی اور چار وکٹیں حاصل کیں۔ عظیم حفیظ نے گاوسکر سمیت تین کھلاڑی آؤٹ کئے۔

ناگپور کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 245 رنزہی بناسکی جس میں گاوسکر اور روی شاستری کی نصف سنچریاں شامل تھیں۔ عظیم حفیظ نے ایک بار پھر گاوسکر کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 58 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کا جواب 322 رنز رہا۔ ظہیرعباس نے 85 رنز کی اہم اننگز کھیلی ، مدثر نذر نے 78 اور جاوید میانداد نے 60 رنز بنائے۔ روی شاستری نے لیفٹ آرم اسپنر کے رول میں پانچ وکٹ لیے۔

بھارت نے 77 رنز کے خسارے کے ساتھ دوسری اننگز شروع کی اور اوپنرز گاوسکر اور گائیکواڈ نے اسکور 78 تک پہنچادیا لیکن 188 تک اسکور کے پہنچنے پر بھارتی ٹیم سات وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔ اگر اس مرحلے پر ظہیرعباس جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے تو باقی ماندہ وکٹیں بھی میزبان ٹیم کی جھولی میں آسکتی تھیں لیکن ان کی دفاعی سوچ نے بھارت کو 262 رنز 8 وکٹ تک پہنچنے کا موقع فراہم کردیا۔ گاوسکر نے 64 رنز کی ایک اور ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ نذیر جونیئر نے50 اوورز میں 72 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بچ جانے والے وقت میں پاکستان ٹیم نے ایک وکٹ کھوکر 42 رنز بنائے اور میچ بغیر کسی ہار جیت کے اختتام کو پہنچا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد