سرد موسم میں گرمادینے والا میچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرد ہواؤں اور بارش کی لپیٹ میں آیا ہوا برمنگھم ایک ایسے میچ کا منتظر ہے جو دلوں کو گرمادیتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ کسی بھی ملک میں ہو اس کی سحر انگیزی دنیائے کرکٹ کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ اتوار کو آئی سی سی چیمپئنزٹرافی میں یہ دو روایتی حریف ایک کے دوسرے کے مقابل آرہے ہیں جس کی مقناطیسی کشش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکیس ہزار تماشائیوں کی گنجائش والے ایجبسٹن کے ٹکٹ خوش قسمتوں کے پاس ہی ہیں۔ اگر موسم نے رکاوٹ ڈالی تو پھر یہ میچ پیر کو ہوگا۔ تعلقات کی بحالی کے بعد کرکٹ کے میدان میں دونوں ملک اس سال تواتر سے کھیل رہے ہیں۔پہلے پاکستان میں ٹیسٹ اورون ڈے سیریز کھیلی گئی جو بھارت کے نام رہی پھر ایشیا کپ اور ہالینڈ کے ٹورنامنٹ میں دونوں سامنے آئے جہاں بازی پاکستان نے جیتی جس نے بھارتی کوچ جان رائٹ کو یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ نفسیاتی برتری اس وقت پاکستان کو حاصل ہے۔ بھارتی بیٹنگ جس نے پاکستان کے دورے میں شاندار پرفارمنس دی تھی کولمبو اور ایمسٹرڈیم میں انضمام الحق الیون کے سامنے بے بس ہوگئی۔ اسے ورلڈ کلاس سچن ٹنڈولکر کی خدمات بھی حاصل نہیں ہیں اور وریندر سہواگ بھی رنز کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔ بولنگ میں ظہیرخان کے بعد بالاجی کے بھی ان فٹ ہوجانے سے گنگولی کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ برمنگھم کے موسم اور وکٹ کے پیش نظر بھارتی ٹیم آخری لمحات میں فیصلہ کرے گی کہ بولنگ اٹیک میں کسے شامل کیا جائے۔ آف سپنر ہربھحن سنگھ عمدہ بولنگ کررہے ہیں جبکہ انیل کمبلے بھی سکواڈ میں شامل ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے ٹیم میں اختلافات خِصوصا شعیب اختر اور انضمام الحق کے بارے میں خبریں دی ہیں اور ایک بیان انضمام الحق سے یہ بھی منسوب کیا گیا ہے کہ شعیب اختر چھوٹے رن اپ کے ساتھ بولنگ اپنی مرضی سے کررہے ہیں ٹیم منیجمنٹ نے انہیں اس قسم کی کوئی ہدایت نہیں کی۔ کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کو اعتماد کی بحالی کے لئے ایک اچھے میچ کی ضرورت ہے پاکستانی شائقین کو بھی اس کا شدت سے انتظار ہے۔ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ بظاہر متوازن ہے۔ تجربہ کار انضمام الحق اور یوسف یوحنا کے علاوہ یاسرحمید اور عمران فرحت کے ہوتے ہوئے توجہ کا مرکز شعیب ملک ہیں جو بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے کولمبو میں میلہ لوٹ چکے ہیں۔ باب وولمر کو شاہد آفریدی اور شعیب ملک کے سپنر والے روپ سے بھی خوشی ہوئی ہے اور وہ آل راؤنڈر نویدالحسن کی کارکردگی سے بھی مطمئن دکھائی دیتے ہیں لیکن پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سلیکٹرز اپنے چیف سلیکٹر وسیم باری سے خوش نہیں ہیں کہ ان فٹ شبیراحمد کی جگہ اظہرمحمود کو ٹیم میں کیوں شامل کیاگیا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||