BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 July, 2004, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جیت کےسوا کوئی اور راستہ نہیں‘

انضمام الحق
اے خدا مدد کر
بد ترین بیٹنگ پرفارمنس کے نتیجے میں سری لنکا کے خلاف شکست سے دوچار ہونے کے بعد کپتان انضمام الحق نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ پاکستان ٹیم اتوار کو ایشیا کپ کا اہم ترین میچ روایتی حریف انڈیا کے خلاف کھیل رہی ہے۔

انضمام الحق نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ بھارت سے کھیلنے کا نہیں ہے بلکہ سری لنکا سے میچ ہارنے کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے خطرے کا ہے۔ صورتحال اب یا کبھی نہیں والی ہوگئی ہے اور پاکستان ٹیم کے پاس جیت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں رہا۔

پاکستان ٹیم کے کپتان اپنے کوچ باب وولمر کی تنقید کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہیں اس کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ سری لنکا کے خلاف میچ میں بیٹسمینوں نے انتہائی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ حالانکہ وکٹ بھی اچھی تھی اور سری لنکن بولنگ بھی غیرمعمولی نہیں تھی۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ایک ہی اوور میں یوسف یوحنااور ان کا آؤٹ ہونا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

یوسف یوحنا جیسا تجربہ کار بیٹسمین ون ڈاؤن پوزیشن پر کیوں نہیں کھیلتا؟ اس بارے میں انضمام الحق کہتے ہیں کہ شعیب ملک کو ون ڈاؤن پر کھلانے کا مقصد یہ ہے کہ یوسف یوحنا ون ڈاؤن پر کھیلنے میں دقت محسوس کر رہے ہیں۔

انضمام الحق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ون ڈاؤن پوزیشن ایک سال سے پاکستان ٹیم کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

پاکستان کی بولنگ کے بارے میں انضمام الحق نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے خلاف سیریز میں بولنگ مایوس کن رہی تھی لیکن ایشیا کپ میں بولرز اچھی بولنگ کررہے ہیں۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ باب وولمر کے ساتھ انہیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے اور دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔

انضمام الحق یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ٹیم کا انتخاب غلط ہوا ہے اور محمد حفیظ اور عاصم کمال کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محمد حفیظ نے حالیہ ڈومیسٹک سیزن میں اچھی پرفارمنس نہیں دی اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی پرفارمنس نہ دکھانے والے کھلاڑی کو انٹرنیشنل کرکٹ میں موقع نہیں دینا چاہیئے۔وہ کہتے ہیں کہ عاصم کمال نے ٹیسٹ میچوں میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے اور انہیں یقیناً چانس ملے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد