BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 July, 2004, 20:40 GMT 01:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی کرکٹرز تربیت سے پریشان

تربیت
وولمر اب ساؤتھ افریقہ جا رہے ہیں
باب وولمر کو ایشیا کپ کے لیے پاکستان کی ٹیم کی تربیت کا موقع صرف پانچ دن ملا۔ غیر ملکی کوچ نے اس کم مدت کا خوب فائدہ اٹھایا اور موسم کی شدت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پاکستانی کرکٹرز کو بہت اچھی طرح پریکٹس کروائی۔ ان کی تربیت صبح سے شام تک شدید دھوپ حبس اور گرمی میں بھی جاری رہی۔

پاکستان ٹیم کے نئے ساؤتھ افریقن کوچ باب وولمر جو کہ دو جولائی کو پاکستان پہنچے تھے اور انہوں نے ایشیا کپ کے لیے باقائدہ تربیت کا آغاز تین تاریخ سے کیا۔

سات جولائی کو باب وولمر ساؤتھ افریقہ جا رہے ہیں جہاں وہ پہلے سے طے شدہ ایک کوچنگ کورس کروائیں گے

پاکستانی کھلاڑی جو پہلے ہی غیر ملکی ٹرینر مرے سٹیون سن کے سخت فٹ نس ٹیسٹ سے حواس باختہ تھے۔ ایسا فٹنس ٹیسٹ کہ جس نے بڑے بڑوں کے چھکے چھڑا دیے۔ انہیں معلوم ہوا کہ اصل میں فٹنس ٹیسٹ کس بلا کا نام ہے۔

نوجوان اور ناتجربہ کار کھلاڑی تو پھر جھیل گئے لیکن سینئر کھلاڑیوں کا تو حشر کر دیا اس فٹنس ٹیسٹ نے۔میڈیم فاسٹ بالر عبدالرزاق بول اٹھے کہ بھئی یہ تو بہت ہی سخت ٹیسٹ تھا۔

ایک آزمائش تمام ہوئی تو دوسری شروع ہو گئی۔باب وولمر نے تربیت کے پہلے دن ہی کھلاڑیوں کو مسلسل آٹھ گھنٹے خوب محنت کرائی یہ وہ دن تھا کہ جس دن لاہور میں حبس اور گرمی سے لوگ بے حال تھے سڑکیں سنسان تھیں لیکن قذافی سٹیڈیم کا میدان آباد۔

پہلے ہی دن سخت گرمی میں سخت تربیت سے کچھ کھلاڑی تو ان فٹ ہوگئے۔ فاسٹ بالر محمد سمیع قے کرنے لگے اور ڈی ہائڈریشن کے سبب اسپتال جا پہنچے۔

باب وولمر کا کہنا تھا کہ یہ کوئی سخت تربیت نہیں بلکہ ان کا طریقہ کار ایسا ہی ہے اور ویسے بھی پاکستان کی ٹیم جہاں ایشیا کپ کھیلنے جا رہی ہے یعنی سری لنکا میں وہاں اسے شاید اس سے بھی زیادہ حبس اور گرمی سامنا ہو۔

باب وولمر کی بات اپنی جگہ تاہم پاکستانی کھلاڑی جو کہ شاید اس قسم کی سخت تربیت کے عادی نہیں انہیں دقت تو ہوئی۔ پاکستان ٹیم کے وکٹ کیپر معین خان پسینے سے شرابور ٹرینگ کر کے میدان سے باہر نکلے تو دریافت کیا کہ کیسی رہی ٹرینگ۔کانوں کو ہاتھ لگا کر بولے آپ خود دیکھ لیں حالت خراب ہے۔

فاسٹ بالر شیعب اختر جو کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور کپتان انضمام سے اختلاف رائے کے سبب گرم گرم خبروں کا موضوع بنتے رہے اور یہ بھی قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کہ وہ ایشیا کپ کی ٹیم میں شامل نہیں ہوں گے۔

کیمپ میں بہت تاخیر سے شیعب کا آنا بھی ان افواہوں کا سبب بنا تاہم ٹیم کے اعلان کے بعد یہ تمام باتیں غلط ثابت ہوئیں اور شیعب ٹیم میں آگئے۔

ان سب باتوں کا شیعب اختر کو ایک فائدہ ہوا کہ وہ مرے سٹیون سن کے سخت فٹ نس ٹیسٹ سے بچ گئے اور باب وولمر نے کہا کہ انہوں نے شیعب کو دیکھ لیا ہے وہ بالکل فٹ ہیں۔

آغاز میں تو باب نے شیعب کو زیادہ بالنگ بھی نہیں کرائی کہ وہ لندن سے آ رہے ہیں اور زیادہ گرمی میں سخت تربیت سے نقصان ہو سکتا ہے ۔ تاہم بعد میں باب وولمر نے شیعب کو انفرادی طور پر تربیت دی۔
آج جبکہ باب وولمر تو ساؤتھ افریقہ جا رہے ہیں مگر بیری رچرڈ آج پہنچ گئے اور گو کہ وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تربیت دینے آئے ہیں تاہم وہ بھی میدان میں پاکستانی ٹیم کو ٹپس دیتے دکھائی دیے۔ان کے علاوہ ٹرینر مرے سٹیون سن بھی تمام وقت دھوپ میں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ رہے۔

یقیناّ کھلاڑی یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ آخر ان گوروں کو گرمی کیوں نہیں لگتی یہ اتنے چاک و چوبند کیسے ہیں؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد