باب وولمر ہر چیلنج کے لیے تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ باب وولمر نے کہا ہے کہ وہ ماضی کو نہیں مستقبل کو دیکھ رہے ہیں اور وہ اس بات سے فِکرمند نہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آٹھ سال میں گیارہ کوچ تبدیل کرچکاہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ہفتے کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پہلی مرتبہ پاکستانی میڈیا کے روبرو چھپن سالہ باب وولمر نے السلام علیکم سے گفتگو کا آغاز کیا اور کہا کہ کہ کرکٹ بذات خود ایک عالمگیر زبان ہے اور انہیں اپنی ذمہ داری میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ وہ ٹیم کے ارکان سے بات چیت میں پیش آنے والی ممکنہ مشکلات کا ذکر کر رہے تھے۔ باب وولمر نے کہا کہ جاوید میانداد یقیناً بڑے بیٹسمین ہیں اور وہ ان جیسے بیٹسمین نہ بن سکے لیکن انہوں نے کہا کہ جہاں تک کوچنگ کا تعلق ہے انہیں خود پر مکمل بھروسہ ہے۔ کانپور میں پیدا ہونے اور کراچی میں کچھ وقت گزارنے والے انگلینڈ اور کینٹ کے سابق بیٹسمین نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم دنیا کی چند بڑی ٹیموں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے سامنے آسٹریلیا کی مثال رکھیں گے جو عصرحاضر کی سب سے مضبوط ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ پاکستان کو بھی اس کے ہم پلہ لایا جائے ۔ باب وولمر کا پہلا امتحان سولہ جولائی سے سری لنکا میں شروع ہونے والا ایشیا کپ ہے۔ باب وولمر نے کہا کہ انہوں نے پاکستان آنے سے قبل شعیب اختر سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر شعیب اخترکو پاکستان کی طرف سے کھیلنا ہے توانہیں کیمپ میں آنا ہوگا اور ’بس پکڑنی ہوگی ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے اور بس آگے نکل جائے‘۔ پاکستانی اسپیڈ اسٹار اتوار کو لاہور پہنچ کر قومی کیمپ میں شامل ہوجائیں گے۔ وہ انگلستان میں ڈرہم کاؤنٹی کی نمائندگی کررہے تھے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||