ٹوئنٹی ٹوئنٹی میلہ منگل سے شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شائقین کو مختصر وقت میں تفریح کے بہترین لمحات فراہم کرنے والی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ، بین الاقوامی درجہ حاصل کرنے کے بعد اب عالمی کپ کی شکل میں سب کے سامنے ہے۔ پہلا ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ منگل سے جنوبی افریقہ کے میچز تین شہروں جوہانسبر، ڈربن اور کیپ ٹاؤن میں ہو رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ اس سے قبل2003 کے ورلڈکپ کی بھی میزبانی کر چکا ہے۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیسٹ رکنیت کی حامل نو ٹیموں کے علاوہ زمبابوے، کینیا اور سکاٹ لینڈ کی ٹیمیں شریک ہیں۔ عالمی کپ کے افتتاحی میچ میں میزبان جنوبی افریقی ٹیم جوہانسبرگ کے وانڈررز میں ویسٹ انڈیز کے مقابل ہوگی جب کہ چھبیس میچوں کے بعد اسی وانڈررز میں چوبیس ستمبر کو ہونے والے فائنل میں عالمی اعزاز کے لیے فیصلہ کن مقابلہ ہوگا۔ بارہ ٹیموں کو چار گروپ میں تقسیم کیا گیا ہے۔گروپ اے میں جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ گروپ بی آسٹریلیا، انگلینڈ اور زمبابوے پر مشتمل ہے۔ گروپ سی کی ٹیمیں نیوزی لینڈ، سری لنکا اور کینیا ہیں۔ گروپ ڈی میں پاکستان، بھارت اور سکاٹ لینڈ کی ٹیمیں شامل ہیں۔ ہرگروپ سے دو دو ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی جو دو گروپ کے تحت کھیلا جائے گا۔ حالیہ برسوں میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو بڑی پذیرائی ملی ہے اور شائقین مختصر دورانیے کے ان میچوں سے بہت لطف اندوز ہو رہے ہیں تاہم یہ نکتہ اب بھی موجود ہے کہ آئی سی سی نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا ورلڈ کپ منعقد کرنے میں جلد بازی سے کام لیا کیونکہ بھارت جو ایک روزہ کرکٹ میں اہم مقام رکھتا ہے ابھی تک ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا صرف ایک انٹرنیشنل کھیلا ہے۔
انگلینڈ نے سب سے زیادہ چھ ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے ہیں جب کہ نیوزی لینڈ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ نے پانچ پانچ میچز اس طرز کی کرکٹ میں کھیلے ہیں۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کو بظاہر بیٹسمینوں کی کرکٹ کہا جاتا ہے جو اپنی جارحانہ بیٹنگ سے شائقین کو محظوظ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ متعدد بولرز اس طرز کی کرکٹ میں اپنے لیے کوئی خاص کشش نہ ہونے کا اظہار کرچکے ہیں۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی چمک دمک شاہد آفریدی، مہندر سنگھ دھونی، ایڈم گلکرسٹ، میتھیو ہیڈن، کیون پیٹرسن اور سنتھ جے سوریا جیسے جارحانہ بیٹسمینوں سے رہے گی لیکن شائقین کو بریٹ لی اور شین بونڈ کی تیزرفتار اور محمد آصف کی بظاہر بے ضرر لیکن مہلک گیندوں کا بھی اسی شدت سے انتظار ہے۔ پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر بھی اس ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا حصہ تھے لیکن مزاج کی گرمی نے انہیں وطن واپس پہنچا دیا ہے۔ پاکستان نے ان کی جگہ لیفٹ آرم میڈیم پیسر سہیل تنویر کو سکواڈ میں شامل کیا ہے۔ اس عالمی مقابلے میں چند جانے پہچانے ناموں کی کمی بھی یقیناً محسوس کی جائے گی مثلاً سری لنکن آف اسپنر مرلی دھرن کہنی کی تکلیف کی وجہ سے عالمی مقابلے سے باہر ہوگئے ہیں۔ آسٹریلوی فاسٹ بولر شان ٹیٹ کا ان فٹ ہونا ہائلفن ہاس کو ٹیم میں لے آیا ہے۔ جنوبی افریقہ کو لوٹس بوسمین کی جگہ آندرے نیل کو ٹیم میں شامل کرنا پڑا ہے۔ انگلینڈ کے روی بوپارا اور ریان سائڈ باٹم بھی ان فٹ کھلاڑیوں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ ڈیمیتری میسکرنہاس اور جیمز اینڈرسن کو کھیلنے کا موقع مل گیا ہے۔ | اسی بارے میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی، اسد رؤف امپائر مقرر03 September, 2007 | کھیل ٹوئنٹی ٹوئنٹی دھونی کی قیادت میں07 August, 2007 | کھیل بریٹ لی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے لیے تیار20 July, 2007 | کھیل ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ، ایشیا الیون کی فتح05 June, 2007 | کھیل ٹونٹی ٹونٹی اور بیسیوں سوال01 May, 2005 | کھیل میچ جان بُوجھ کر ہارنے پر کارروائی 29 April, 2005 | کھیل شعیب نے پنڈی کو جتا دیا25 April, 2005 | کھیل زلزلہ : ٹونٹی ٹونٹی میچ زیر غور08 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||