عبدالرشید شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | شعیب سے ہر میچ میں سو میل کی رفتار سے بولنگ کرنے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے |
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینیجر طلعت علی کا کہنا ہے کہ شعیب اختر فٹ ہیں اور اس حوالے سے کسی شک و شبہ کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’راولپنڈی ایکسپریس‘ یعنی شعیب اختر کو مستقبل قریب میں احتیاط سے استعمال کیا جائے گا۔ طلعت علی کا یہ بیان اسوقت سامنے آیا جب پیر کو نیشنل سٹیڈیم میں جاری کیمپ کے دوران شعیب اختر بولنگ ادھوری چھوڑ کر ڈریسنگ روم میں چلے گئے تھے، جسے ڈی ہائیڈریشن کا نیتجہ قرار دیا گیا۔ شعیب اختر جب دوبارہ بولنگ کے لیے آئے تو سلمان بٹ کی جارحانہ بیٹنگ کا شکار رہے جبکہ اس سے قبل خالد لطیف کی انتہائی جارحانہ بیٹنگ ان کی بولنگ پر حاوی رہی تھی۔ شعیب اختر ایک دن کی تاخیر سے کیمپ میں شامل ہوئے تھے لیکن اتوار کو جب پہلی مرتبہ بولنگ کے لیے میدان میں اترنے کا وقت آیا تو مینیجر طلعت علی نے اطلاع دی کہ انہیں آرام دیا گیا ہے۔ پیر کو شائقین اور میڈیا انہیں ایکشن میں دیکھنے کا خواہشمند تھا، لیکن پہلے میچ میں تین اوورز میں چوبیس رنز دینے کے بعد وہ ڈریسنگ روم میں واپس آگئے۔ اس وقت ان کے دائیں گھٹنے کے نیچے بینڈچ تھی، جسے مینیجر طلعت علی نے سپورٹر قرار دیا اور کہا کہ شعیب اختر عام طور پر یہ پہنتے ہیں۔ طلعت علی کا کہنا ہے کہ شعیب اختر میچ جتوانے والے بولر ہیں، جن کا ہرممکن خیال رکھتے ہوئے انہیں ضرورت کے وقت استعمال کیا جائے گا۔ ان کے بقول شعیب اختر ایبٹ آباد کے کیمپ میں ٹریننگ کرنے والے تمام کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ فٹ تھے۔ ’وہ اب بھی فٹ ہیں اور چونکہ وہ کافی عرصے کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں لہذا ان سے یہ توقع نہیں کرنی چاہئے کہ وہ ہر میچ میں سو میل کی رفتار سے بولنگ کرینگے۔‘ پاکستانی ٹیم کے مینیجر نے کہا جیف لاسن کوچ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد شعیب اختر سے بات کر کے ان کی بولنگ کے سلسلے میں منصوبہ بندی ترتیب دینگے۔ |