نیاز سٹیڈیم کرکٹ بورڈ کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ اور حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت نیاز سٹیڈیم کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ زبوں حالی کے شکار اس سٹیڈیم کو دوبارہ کرکٹ کے قابل بنانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ اقدامات کرے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹرنسیم اشرف نے ضلعی انتظامیہ سے معاہدے پر دستخط ہونے کی تقریب کے موقع پر کہا کہ نیاز سٹیڈیم کو جلد بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ حیدرآباد میں کرکٹ اکیڈمی بھی قائم کی جائے گی تاکہ شہر کا ٹیلنٹ ضائع نہ ہو۔ واضح رہے کہ 1997 میں بھارت کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل میچ کے بعد سے نیاز سٹیڈیم بہت بری حالت میں تھا۔ مقامی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں اس میدان پر کرکٹ کے سوا سب کچھ ہوتا رہا۔ جس میں میوزیکل پروگرام، سیاست دانوں کے بچوں کی شادیاں اور اعلی شخصیات کے لیے ہیلی کاپٹروں کی آمد و رفت تک سبھی کچھ شامل تھا۔
ضلعی ناظم کنور نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عرصے سے یہ محسوس کر رہے تھے کہ نیاز سٹیڈیم میں کرکٹ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں اور ان کے خیال میں چونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ ملک میں کرکٹ کے فروغ کا ذمہ دار ادارہ ہے اس لیے وہ چاہتے تھے کہ وہی نیاز سٹیڈیم کا انتظام سنبھالے حالانکہ انہوں نے اس ضمن میں دو کروڑ روپے کا بجٹ منظور کرا لیا تھا۔ اس سوال پر کہ کسی بھی شہر میں انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے فائیو سٹار ہوٹل کی موجودگی آئی سی سی کی لازمی شرط ہے، کنور نوید نے کہا کہ بہت سے ایسے شہر ہیں جہاں فائیو سٹار ہوٹلوں کے بغیر انٹرنیشنل کرکٹ ہو رہی ہے تاہم حیدرآباد میں بہت جلد فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر شروع ہونے والی ہے لہذا مستقبل میں یہ مسئلہ بھی نہیں رہے گا۔ نیاز سٹیڈیم کو پاکستانی کرکٹ میں ایک اہم مقام حاصل رہا ہے۔ اس میدان پر پاکستانی ٹیم نے پانچ ٹیسٹ کھیلے جن میں سے تین جیتے اور دو برابر رہے جبکہ وہاں کھیلے گئے تمام چھ ون ڈے انٹرنیشنل میچز پاکستانی ٹیم کی جیت پر ختم ہوئے اس لحاظ سے پاکستانی ٹیم نیاز سٹیڈیم میں ناقابل شکست رہی ہے۔
نیاز سٹیڈیم کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے ایک ہزار ویں ٹیسٹ کی میزبانی کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ میدان پاکستانی بولر جلال الدین کی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی اولین ہیٹ ٹرک کی وجہ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ انفرادی کارکردگی کے لحاظ سے جاوید میانداد کی بھارت کے خلاف 280 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز، نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں اور سری لنکا کے خلاف دو ون ڈے سنچریاں بنائی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اسوقت صرف دو سٹیڈیم، نیشنل سٹیڈیم کراچی اور قذافی سٹیڈیم لاہور کی ملکیت ہے یہی وجہ ہے کہ دیگر شہروں میں انٹرنیشنل میچوں کے انعقاد کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور مقامی انتظامیہ کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات کے سبب مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں سٹیڈیم میں خواتین کےلیے انکلوژر23 November, 2005 | کھیل کرکٹ بھی شرما گئی18 November, 2005 | کھیل مظفر آباد سٹیڈیم: کوئی دعوت نہیں 22 August, 2005 | کھیل مظفر آباد سٹیڈیم: میزبانی کی پیشکش21 August, 2005 | کھیل ’سٹیڈیم کامستقبل تاریک نہیں‘17 August, 2005 | کھیل کھدی ہوئی پچ اور خالی اسٹیڈیم26 March, 2004 | کھیل سیکیورٹی نہیں سٹیڈیم: شہریار04 February, 2004 | کھیل لاہور: کرکٹ کے’جلوے‘ | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||