BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 July, 2007, 14:23 GMT 19:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیاز سٹیڈیم کرکٹ بورڈ کے حوالے

نیاز سٹیڈیم
نیاز سٹیڈیم کو جلد بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جائے گا
پاکستان کرکٹ بورڈ اور حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت نیاز سٹیڈیم کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ زبوں حالی کے شکار اس سٹیڈیم کو دوبارہ کرکٹ کے قابل بنانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ اقدامات کرے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹرنسیم اشرف نے ضلعی انتظامیہ سے معاہدے پر دستخط ہونے کی تقریب کے موقع پر کہا کہ نیاز سٹیڈیم کو جلد بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ حیدرآباد میں کرکٹ اکیڈمی بھی قائم کی جائے گی تاکہ شہر کا ٹیلنٹ ضائع نہ ہو۔

واضح رہے کہ 1997 میں بھارت کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل میچ کے بعد سے نیاز سٹیڈیم بہت بری حالت میں تھا۔ مقامی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں اس میدان پر کرکٹ کے سوا سب کچھ ہوتا رہا۔ جس میں میوزیکل پروگرام، سیاست دانوں کے بچوں کی شادیاں اور اعلی شخصیات کے لیے ہیلی کاپٹروں کی آمد و رفت تک سبھی کچھ شامل تھا۔

کرکٹ کے سوا سب کچھ
 مقامی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں اس میدان پر کرکٹ کے سوا سب کچھ ہوتا رہا۔ جس میں میوزیکل پروگرام، سیاست دانوں کے بچوں کی شادیاں اور اعلی شخصیات کے لیے ہیلی کاپٹروں کی آمد و رفت تک سبھی کچھ شامل تھا
نیاز سٹیڈیم

ضلعی ناظم کنور نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عرصے سے یہ محسوس کر رہے تھے کہ نیاز سٹیڈیم میں کرکٹ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں اور ان کے خیال میں چونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ ملک میں کرکٹ کے فروغ کا ذمہ دار ادارہ ہے اس لیے وہ چاہتے تھے کہ وہی نیاز سٹیڈیم کا انتظام سنبھالے حالانکہ انہوں نے اس ضمن میں دو کروڑ روپے کا بجٹ منظور کرا لیا تھا۔

اس سوال پر کہ کسی بھی شہر میں انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے فائیو سٹار ہوٹل کی موجودگی آئی سی سی کی لازمی شرط ہے، کنور نوید نے کہا کہ بہت سے ایسے شہر ہیں جہاں فائیو سٹار ہوٹلوں کے بغیر انٹرنیشنل کرکٹ ہو رہی ہے تاہم حیدرآباد میں بہت جلد فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر شروع ہونے والی ہے لہذا مستقبل میں یہ مسئلہ بھی نہیں رہے گا۔

نیاز سٹیڈیم کو پاکستانی کرکٹ میں ایک اہم مقام حاصل رہا ہے۔ اس میدان پر پاکستانی ٹیم نے پانچ ٹیسٹ کھیلے جن میں سے تین جیتے اور دو برابر رہے جبکہ وہاں کھیلے گئے تمام چھ ون ڈے انٹرنیشنل میچز پاکستانی ٹیم کی جیت پر ختم ہوئے اس لحاظ سے پاکستانی ٹیم نیاز سٹیڈیم میں ناقابل شکست رہی ہے۔

نیاز سٹیڈیم میں پاکستان کے اعزاز
 نیاز سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم نے پانچ ٹیسٹ کھیلے جن میں سے تین جیتے اور دو برابر رہے جبکہ وہاں کھیلے گئے تمام چھ ون ڈے انٹرنیشنل میچز پاکستانی ٹیم کی جیت پر ختم ہوئے اس لحاظ سے پاکستانی ٹیم نیاز سٹیڈیم میں ناقابل شکست رہی ہے

نیاز سٹیڈیم کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے ایک ہزار ویں ٹیسٹ کی میزبانی کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ میدان پاکستانی بولر جلال الدین کی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی اولین ہیٹ ٹرک کی وجہ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ انفرادی کارکردگی کے لحاظ سے جاوید میانداد کی بھارت کے خلاف 280 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز، نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں اور سری لنکا کے خلاف دو ون ڈے سنچریاں بنائی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اسوقت صرف دو سٹیڈیم، نیشنل سٹیڈیم کراچی اور قذافی سٹیڈیم لاہور کی ملکیت ہے یہی وجہ ہے کہ دیگر شہروں میں انٹرنیشنل میچوں کے انعقاد کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور مقامی انتظامیہ کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات کے سبب مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
کرکٹ بھی شرما گئی
18 November, 2005 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد