BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 February, 2004, 19:16 GMT 00:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیکیورٹی نہیں سٹیڈیم: شہریار

شہریار خان
شہریار خان
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ بھارت کے خلاف سیریز میں پشاور میں میچ منعقد کروانا یقینی ہے البتہ سیکورٹی سے زیادہ بڑا مسئلہ اس سٹیڈیم میں سہولتوں کا فقدان ہے۔

صوبائی دارلحکومت پشاور میں بدھ کے روز سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کے میٹ دی پریس پروگرام میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز میں حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے بھارتی وفد پاکستان پہنچ رہا ہے جس کے بعد پشاور میں میچ کروانے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میچ کے بارے میں کوئی شک نہیں لیکن انہیں بھارتی وفد کے دورے کے خاتمے کا انتظار کرنا پڑے گا جس کے بعد ہی یہاں ایک روزہ یا ٹیسٹ میچ کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر بھارتی کرکٹ حکام کو یہاں کھیلنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں اور اگر حکومت پاکستان ان کو سیکورٹی مہیا کرتی ہے تو وہ کھیلنے کو تیار ہیں۔

البتہ شہریار خان نے حفاظتی اقدامات سے زیادہ بڑا مسئلہ پشاور سٹیڈیم میں سہولتوں کے فقدان کو قرار دیا۔ انہوں نے پشاور کے ارباب نیاز سٹیڈیم کے دورے کے بعد بتایا کہ تیس یا چالیس ہزار شائقین والے میدان میں ایک لوگوں کے لئے ایک بھی بیت الخلاء نہیں۔ ’اگر آئی سی سی کا وفد اس میدان کا جائزہ لے تو مجھے یقین ہے وہ یہاں میچ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گا۔ آئی سی سی نے میچ منعقد کروانے کے لئے چند شرائط رکھی ہیں وہ یہ سٹیڈیم پوری نہیں کرتا۔‘

شہریار خان نے پشاور میں گورنر سرحد سے بھی اس سلسلے میں بات چیت کی جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ گورنر نے انہیں یہ سہولتیں ہنگامی بنیادوں پر مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ’گورنر صاحب نے یہ سہولتیں اگر ضرورت پڑی تو چوبیس گھنٹے کام کر کہ مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘

گذشتہ برس نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کی جانب سے پشاور اور کراچی میں حفاظتی خدشات کی وجہ سے کھیلنے سے انکار نے اس صوبے کے کرکٹ شائقین کو سخت مایوس کیا تھا۔ اس مرتبہ وہ امید کر رہے ہیں کہ انہیں بھارت جیسے ملک کے خلاف معیاری اور سنسنی خیز کرکٹ سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ فی الوقت پی سی بی کے سربراہ کی باتوں سے امید بڑھی ہے کہ بھارتی ٹیم پشاور میں بھی کھیلے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد