کھدی ہوئی پچ اور خالی اسٹیڈیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم وسیم اکرم کی قیادت میں بھارت پہنچی تو اس کا استقبال کچھ اس انداز سے ہوا کہ دورے کے مخالف شدت پسندوں نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی، دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ کی پچ کھود دی اور پاکستانی کرکٹرز کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس دورے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں تماشائی سچن تندولکر کے آؤٹ ہونے پر مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی جس پر پورا اسٹیڈیم خالی کرالیا گیا۔ دورے میں تین ٹیسٹ شامل تھے لیکن کلکتہ ٹیسٹ کو سیریز کا حصہ نہیں مانا گیا بلکہ اسے ایشین ٹیسٹ کرکٹ چیمپئن شپ کا میچ قرار دیا گیا۔ اس طرح دو ٹیسٹ میچوں کی یہ مختصر سیریز چنئی میں پاکستان کی 12 رنز کی جیت اور دہلی میں بھارت کی 212 رنز کی کامیابی کے سبب ایک ایک سے برابر رہی۔ پاکستان نے کلکتہ ٹیسٹ 46 رنز سے جیتا۔ اس سیریز کی خاص بات دہلی ٹیسٹ میں بھارتی لیگ اسپنر انیل کمبلے کی اننگز میں 10 وکٹیں تھیں وہ انگلینڈ کے آف اسپنر جم لیکر کے بعد دنیا کے دوسرے بولر ہیں جنہوں نے کسی ٹیسٹ کی ایک اننگز میں تمام دس وکٹیں حاصل کی ہیں۔ چنئی ٹیسٹ زبردست اتاچڑھاؤ کا حامل رہا ۔ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان ٹیم صرف 238 رنز پر آؤٹ ہوگئی ایک مرحلے پر 91 رنز پر 5 وکٹیں گرچکی تھیں لیکن معین خان نے 60 ، یوسف یوحنا نے 53 اور وسیم اکرم نے 38 رنز کے ذریعے صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچالیا۔ پاکستان کی بیٹنگ کو مشکلات سے دوچار کرنے والے انیل کمبلے تھے جنہوں نے 70 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان نے بھی آف اسپنر ثقلین مشتاق کے ذریعے مؤثر جواب دیتے ہوئے بھارت کو 254 رنز سے آگے نہیں جانے دیا ۔ گنگولی اور ڈراوڈ نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔ ثقلین مشتاق نے 94 رنز دے کر 5 وکٹیں اپنے قابو میں کیں۔ پاکستان کی دوسری اننگز بھی مشکلات میں گھری ہوئی نظر آئی اگر شاہد آفریدی کے شاندار 141 رنز کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو 286 کے مجموعی اسکور میں اور کوئی بات قابل ذکر نہیں تھی ۔ شاہد آفریدی نے اپنے جارحانہ مزاج سے ہٹ کر سر جھکا کر انتہائی ذمہ داری سے بیٹنگ کی ۔ بھارت کی طرف سے اس مرتبہ وینکٹش پرساد 6 وکٹیں لے اڑے۔ بھارت کو یہ ٹیسٹ جیتنے کے لئے 271 رنز کا ہدف ملا تھا ۔ وقاریونس نے دونوں اوپنرز لکشمن اور رمیش کو پویلین کی راہ دکھائی ۔ ڈراوڈ بھی وسیم اکرم کے قابو میں آگئے ۔ ثقلین مشتاق نے کپتان اظہر الدین اور گنگولی کی قیمتی وکٹیں بھی حاصل کرڈالیں لیکن سچن تندولکر اور نیان مونگیا دیوار بن گئے جنہیں گرانا آسان نہ ہورہا تھا۔ ان دونوں کی شاندار شراکت میں بننے والے 138 رنز نے بھارت کی جیت کی امید کو روشن کردیا ۔ اس مرحلے پر زبردست ڈرامائی تبدیلی آئی سچن کی 136 رنز کی شاندار اننگز ثقلین مشتاق کی گیند پر وسیم اکرم کے کیچ کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچی اور چدم برم اسٹیڈیم میں جیسے تماشائیوں کو سانپ سونگھ گیا ۔ مونگیا بھی نصف سنچری بناکر وسیم اکرم کا شکار ہوئے ۔ کمبلے کو وسیم اکرم نے ایل بی ڈبلیو کیا اورپھر ثقلین مشتاق نے جوشی اور سری ناتھ کو آؤٹ کرکے پاکستان کو دلچسپ مقابلے کے بعد سرخرو کردیا ۔انہوں نے دوسری اننگز میں بھی پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں پاکستان ٹیم کو اپنی مایوس کن بیٹنگ اور امپائر جے پرکاش کے کم ازکم تین غلط فیصلوں کی بھاری قیمت چکانی پڑی ۔ بھارت نے دوسری اننگز میں 339 رنز بناکر419 رنز کی سبقت حاصل کرلی۔ بھارتی اننگز کی خاص بات رمیش کے 96 رنز کے علاوہ گنگولی کے ناقابل شکست 62 اورسری ناتھ کے 49 رنز تھے ۔ ثقلین مشتاق نے سیریز میں لگاتار چوتھی مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ وسیم اکرم کے حصے میں تین وکٹیں آئیں۔ پاکستان کی دوسری اننگز کا آغاز بہت شاندار رہا ۔ سعید انور اور شاہد آفریدی نے 101 رنز بناکر آنے والے بیٹسمینوں کا کام بڑی حد تک آسان کردیا تھا۔ سعید انور 69 اور آفریدی 41 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کی بیٹنگ کی شکل ہی بدل گئی۔ انیل کمبلے نے دیکھتے ہی دیکھتے بساط لپیٹ دی ۔ وسیم اکرم کے 37 رنز کے سوا کوئی بھی بیٹسمین ان کو کھیل نہ سکا اور پوری ٹیم 207 رنز پر آؤٹ ہوگئی ۔ انیل کمبلے نے 74 رنز کے عوض تمام دس وکٹیں اپنے نام کرتے ہوئے جم لیکر کے عالمی ریکارڈ کو برابر کردیا۔ دہلی ٹیسٹ کی 212 رنز کی بھاری بھر کم شکست کے اثرات کلکتہ ٹیسٹ میں پاکستان کی پہلی اننگز میں صاف نظر آئے جب سری ناتھ نے پانچ وکٹیں حاصل کرکے اسے صرف 185 رنز پر پویلین میں بٹھادیا ۔معین خان ایک بارپھر ٹیم کے کام آئے انہوں نے 70 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور سلیم ملک اور وسیم اکرم کے ساتھ ملکر ٹیم کو مکمل تباہی سے بچالیا جس کے 6 کھلاڑی صرف 26 رنز پر آؤٹ ہوچکے تھے۔ پاکستانی بولرز نے بھارت کو پہلی اننگز میں 223 رنز پر آؤٹ کردیا ۔ رمیش ایک مرتبہ پھر 79 رنز بناکر ٹاپ اسکورر رہے ۔ ایڈن گارڈنز میں سب سے دلچسپ منظر سچن تندولکر کا شعیب اختر کی پہلی ہی گیند پر صفر پر بولڈ ہونا تھا۔ شعیب اختر نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں ۔ وسیم اکرم نے تین کھلاڑی آؤٹ کئے۔ پاکستان کی 316 رنز کی دوسری اننگز میں سعید انور نے شاندار بیٹنگ کی وہ 188 رنز بناکر اننگز کے آغاز سے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہے ۔ یوسف یوحنا نے نصف سنچری بنائی لیکن ان دو کے علاوہ تمام بیٹسمین سری ناتھ کو اعتماد سے کھیلنے میں ناکام رہے جنہوں نے 85 رنز کے عوض 8 وکٹیں حاصل کیں۔ بھارت کو جیت کے لئے صرف 279 رنز کا ہدف ملا تھا جو رمیش اور لکشمن کے درمیان 108 رنز کی شراکت سے کافی آسان ہوگیا تھا لیکن پاکستانی بولرز ہمت ہارنے کو تیار نہیں تھے۔ بھارتی اننگز کا اہم موڑ اسوقت آیا جب سچن تندولکر ندیم خان کی تھرو پر بولنگ اینڈ پر شعیب اختر سے ٹکراتے ہوئے رن آؤٹ ہوگئے ۔ تماشائیوں نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کردیا اور ہنگامہ آرائی شروع کردی ۔ منتظمین نے سچن تندولکر کے ذریعے مشتعل تماشائیوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا جس پر سکیورٹی نے پورا اسٹیڈیم خالی کرالیا اور بقیہ میچ تماشائیوں کے بغیر مکمل کیا گیا جس میں پاکستانی بولرز بھارتی اننگز کو 232 رنز پر آؤٹ کرکے 46 رنز کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ شعیب اختر نے دوسری اننگز میں بھی چار وکٹیں حاصل کیں ۔ثقلین مشتاق نے تین وکٹیں حاصل کیں تین ٹیسٹ میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 24 تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||