BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 August, 2005, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سٹیڈیم کامستقبل تاریک نہیں‘

کرکٹ سٹیڈیم
کرکٹ سٹیڈیم میں سیکیورٹی کا جائزہ(فائل فوٹو)
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف آئندہ سال ہونے والی سیریز میں ایک ٹیسٹ میچ کراچی میں بھی تجویز کیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس بات سے انکار کیا کہ کراچی کے ٹیسٹ سنٹر کا مستقبل تاریک ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے منگل کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ایڈہاک کمیٹی کے طویل اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتائی۔

شہریارخان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ایک طرف تو ٹیمیں نیشنل اسٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لئے تیار نہیں اور دوسری جانب کرکٹ بورڈ اس کے توسیعی منصوبے پر کروڑوں خرچ کررہا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ٹیسٹ سینٹر کے طور پر کراچی کا مستقبل تاریک ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ایک روزہ میچ کے بعد بعد کراچی کے بارے میں منفی تاثر ختم ہوجائےگا۔

شہریارخان کی توجہ جب اس جانب مبذول کرائی گئی کہ انگلینڈ کے خلاف کراچی میں ٹیسٹ میچ کے انعقاد کے بارے میں آپ کے ساتھیوں کے متضاد بیانات سامنے آچکے ہیں جن میں یہ تک کہا گیا ہے کہ کراچی کو سرے سے ٹیسٹ میچ کے لئے تجویز ہی نہیں کیا گیا تھا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ کراچی کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے لئے تجویز کیا گیا تھا لیکن برطانوی حکومت اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کراچی میں کھلاڑیوں کو زیادہ دن ٹھہرانے پر راضی نہیں تھے۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ اگر انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے دورے سے انکار کردیتی تو اس کا پاکستانی کرکٹ کوبہت نقصان ہوتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے نیشنل اسٹیڈیم کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی لاہور اور ملتان کے ا سٹیڈیموں میں ڈیجیٹل اسکرین اور اسکور بورڈز نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق سربراہ توقیرضیا کے دور میں بھی کراچی اور لاہور کے اسٹیڈیموں میں بھاری رقوم خرچ کر کے اسکرینیں نصب کی گئی تھیں جن کے بارے میں شہریارخان کا کہنا ہے کہ ملایشیا سے منگوائی گئی ان اسکرینوں میں تیکنیکی خرابیاں سامنے آئی ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ اس مرتبہ تمام منصوبے شفاف عمل سے مکمل کئے جارہے ہیں۔

شہریارخان نے قومی اور علاقائی اکیڈمیوں کو منظم خطوط پر استوار کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد