انگلینڈ کا دورہ پاکستان یا پنجاب؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے کراچی میں ٹیسٹ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر کراچی کے کرکٹ کے حلقے سخت ناراض ہیں اور وہ اس تمام صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ کو قرار دے رہے ہیں جس نے بقول ان کے یہ کیس صحیح طور پر نہیں پیش کیا۔ کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سکریٹری سراج الاسلام بخاری کا کہنا ہے کہ کیا انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آرہی ہے یا یہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورۂ پنجاب ہے؟ سراج الاسلام بخاری نے کہا کہ پشاور کو بھی اس دورے سے یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے بلوچستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا کوئی تصور نہیں ہے اور اب کراچی کو ٹیسٹ میچ سے محروم کرکے ون ڈے کا لالی پاپ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے دورے پر نہیں بلکہ صرف ایک صوبے کے دورے پر آئے گی کیونکہ اس دورے کے میچز ملتان فیصل آباد لاہور اور پنڈی میں رکھے گئے ہیں۔ سراج الاسلام بخاری کے مطابق یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے حکام دورے کے معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان میں ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے دو بڑے آفیشلز شہریارخان اور عباس زیدی ملک سے باہر ہیں اور ایک ایسے شخص کو انگلینڈ کے وفد کے ساتھ رکھا گیا ہے جسے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ بھارت سے قبل سہولتوں کی فراہمی کا جائزہ لینے بھیجا گیا تھا لیکن بعد میں ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز نے اس پر عدم اطمینان ظاہر کردیا کیونکہ ٹیم دورے میں سفری مشکلات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ میں عارف عباسی جیسا شخص ہوتا تو انگلینڈ کرکٹ بورڈ اس قسم کا فیصلہ نہ کرتا اور اسے کراچی میں ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لئے قائل کیا جاسکتا تھا۔ سراج بخاری نے کہا کہ 1996 کے ورلڈ کپ کے موقع پر آدھا کراچی کرفیو میں تھا لیکن اس کے باوجود یہاں ورلڈ کپ کے میچز کھیلے گئے اور کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی جہاں تک نیوزی لینڈ کی ٹیم کا تعلق ہے تو بم دھماکہ ان کے سامنے ہوا تھا جس پر ان کا کراچی سے فورا چلا جانا فطری امر تھا۔ ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا نے پاکستان میں کھیلنے سے اسوقت انکار کیا جب 9/11 کا واقعہ اور اس کے اثرات تازہ تھے لیکن اس وقت کراچی میں کوئی خوفناک صورتحال نہیں ہے۔ اس وقت دنیا کا کوئی بھی شہر محفوظ نہیں ہے لیکن صرف کراچی کی منفی تصویر پیش کرنا افسوس ناک ہے۔ پاکستان آنے والی ہر ٹیم کی سکیورٹی کی یقین دہانی خود صدر مشرف نے کرائی تھی لیکن اس کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ انگلینڈ کو کراچی میں کھیلنے پر قائل نہ کرسکا۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر حنیف محمد نے انگلینڈ کے کراچی میں ٹیسٹ نہ کھیلنے کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ انگلینڈ کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||