وولمرتحقیقات پرنظر ثانی کے لیےکمیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیکا کی حکومت پاکستان کے سابق کوچ باب وولمر کی موت کی پولیس تحقیقات پر نظر ثانی کے لیے ایک کمیشن قائم قائم کرے گی۔ بدھ کو جمیکا کے قومی سلامتی کے وزیر پیٹر فلپس نے پارلیمان میں اعلان کیاکہ ’دنیا بھر میں اس کیس کے بارے میں لوگوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات پر نظر ثانی کی جائے‘۔ کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس کے تحقیق کاروں، طبی معائنہ کرنے والوں اور دیگر ماہرین کی تکنیک اور میعار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ یہ کارروائی چھہ ہفتوں میں مکمل ہو جائے گی اور توقع ہے کہ 31 جولائی تک رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔ منگل کو پولیس نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ باب وولمر کی موت قدرتی تھی اور انہیں قتل نہیں کیا گیا تھا۔اس اعلان کے ساتھ ہی تین ماہ سے جاری تحقیقات اور کرکٹ کی دنیا میں کشمکش کی صورت حال ختم ہوئی۔ اٹھاون برس کے باب وولمر اٹھارہ مارچ کو کنگسٹن جمیکا میں پاکستانی ٹیم کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے اگلے روز اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے اور ان کی موت کے تین دن بعد جمیکا پولیس نے ابتدائی پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر کہا تھا کہ وولمر کو قتل کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’وولمر کو قتل نہیں کیا گیا تھا‘ 02 June, 2007 | کھیل ’پولیس طبعی موت پر متفق تھی‘12 June, 2007 | کھیل وولمر کیس:جواب طلب کرنا چاہیے12 June, 2007 | کھیل جمیکن پولیس کے خلاف ردعمل08 June, 2007 | کھیل وولمر کو قتل نہیں کیا گیا: پولیس12 June, 2007 | کھیل ’کرکٹ بورڈ کا رویہ بزدلانہ ہے‘13 June, 2007 | کھیل وولمر کی موت: کب کیا ہوا12 June, 2007 | کھیل ’وولمر موت، ابہام، میڈیا ذمہ دار‘24 May, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||