وولمر کو قتل نہیں کیا گیا: پولیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیکن پولیس حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کی موت طبعی تھی۔ جمیکا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پولیس کمشنر لوسیئس تھامس نے کہا کہ تین غیر جانبدار پیتھالوجسٹس کی رپورٹوں اور ٹاکسالوجی ٹیسٹ واضح کرتے ہیں کہ باب وولمر طبعی موت کا شکار ہوئے اور ان کے جسم میں کسی قسم کا زہر موجود نہیں تھا۔ پولیس کمشنر کا کہنا تھا: ’جمیکن کانٹیبلری فورس نے یہ نتائج قبول کر لیے ہیں اور باب وولمر کی ہلاکت کے حوالےسے تفتیش بند کردی گئی ہے۔‘ تفتیش کے آغاز پر ایک پیتھالوجسٹ نے کہا تھا کہ باب وولمر کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا۔ اٹھاون برس کے باب وولمر اٹھارہ مارچ کو کنگسٹن جمیکا میں پاکستانی ٹیم کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے اگلے روز اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے اور ان کی موت کے تین دن بعدجمیکا پولیس نے ابتدائی پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر کہا تھا کہ وولمر کو قتل کیا گیا ہے۔ جمیکن پولیس کمشنر کا یہ بھی کہنا ہے کہ وولمر کی ہلاکت کی تفتیش میں ان کی موت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جس میں میچ فکسنگ کا حوالہ بھی شامل ہے۔ باب وولمر کی اہلیہ جل وولمر کی جانب سے جاری کردی ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مجھے اور میرے بیٹوں کو سرکاری طور پر دی گئی اطلاع سے اطمینان ہوا ہے کہ باب وولمر کی موت طبعی تھی اور یہ کہ ان کی موت میں کسی زیادتی کا شائبہ نہیں ہے۔‘ باب وولمر کی موت کے حوالے سے عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’ایسا براہِ راست نہیں کہا گیا بلکہ اشارے دیئے گئے کہ پاکستان ٹیم نے شاید میچ تھرو (جان بوجھ کر میچ ہارا) کیا تھا اور وولمر اس راز سے پردہ اٹھانے والے تھے۔‘ انہوں نے کہا: ’وولمر کی موت کی تفتیش کا پاکستانی کرکٹ اور کھلاڑیوں پر بہت منفی اثر پڑا اور پاکستانی ٹیم کو انگلیوں کے نشان دینے اور ڈی این اے کے جانچ جیسی توہین سے گزرنا پڑا۔ میرے نزدیک وہ پاکستان کرکٹ کے لیے سب سے توہین آمیز لمحہ تھا اور کرکٹ بورڈ کو اس کے ذمہ دار افراد پر ہرجانے کا دعویٰ کرنا چاہیے۔‘ عمران نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ جمیکن حکام نے پاکستان ٹیم سے معذرت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو صرف ایک غلطی مان کر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ تفتیش کے دوران اکثر کہا گیا کہ جمیکن پولیس خصوصا وولمر کی موت کی تحقیقات کرنے والے افسر مارک شیلڈز کی جانب سے ’قتل‘ پر اصرار اور اس ’قتل‘ کے نت نئے طریقوں کے انکشافات سے پاکستانی ٹیم بدنام ہوئی اور جون کے شروع میں باب وولمر کے بارے میں یہ خبریں آنے کے بعد کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیشی افسران کے مطابق انہیں قتل نہیں کیا گیا بلکہ یہ طبعی موت تھی، پاکستانی کرکٹرز اور آفیشلز کی جانب سے جمیکن پولیس کے خلاف شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔ |
اسی بارے میں ’وولمر موت، ابہام، میڈیا ذمہ دار‘24 May, 2007 | کھیل وولمر فوٹیج، ٹی وی چینلز کو نوٹس08 May, 2007 | کھیل وولمر کی آخری رسومات05 May, 2007 | کھیل ’باب وولمر کو پہلے زہر دیا گیا‘29 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||