BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 23:08 GMT 04:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وولمر کو قتل نہیں کیا گیا تھا‘
باب وولمر
جمیکن پولیس وولمر کیس پر سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ کی منتظر ہے
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیشی افسران نے جمیکن پولیس کو بتا دیا ہے کہ باب وولمر کو قتل نہیں کیا گیا تھا۔

بظاہر یہ نتیجہ برطانوی دفترِ خارجہ کے اس پتھالوجسٹ کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جو باب وولمر کی موت کی تفتیش کے لیے جمیکا گئے تھے۔

تاہم باب وولمر کی بیوہ کا کہنا ہے کہ انہیں جمیکن پولیس کی جانب سے تاحال کوئی نئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں جبکہ جمیکن پولیس کے ترجمان کارل اینجل کے مطابق وہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے رپورٹ کے منتظر ہیں اور اس رپورٹ کے آنے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔

اٹھاون سالہ وولمر مارچ اٹھارہ کو کنگسٹن میں پاکستانی ٹیم کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے اگلے روز اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت کی وجہ کے بارے میں مختلف آراء کا اظہار کیا گیا تھا۔

ایک برطانوی اخبار کا بھی یہ کہنا ہے کہ جمیکا کی پولیس اعلان کرنے والی ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ باب وولمر قتل نہیں ہوئے بلکہ ان کی موت قدرتی تھی۔ اخبار ڈیلی میل نے کہا ہے کہ جمیکا کے تفتیش کار آئندہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کریں گے کہ باب وولمر کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے ہوا ہے جس کا محرک انتہائی خراب صحت یا ذیابیطس کا مرض ہو سکتا ہے۔

ادھر باب وولمر کی موت کے طبعی ہونے کی بات سامنے آنے پر ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کے میڈیا ایڈوائزر پی جے میر کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کو اس حوالے سے قانونی کارروائی پر عور کرنا چاہیے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا’ آج پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی یقیناً مشتعل ہوں گے کیونکہ اس حوالے سے انہیں لے کر بہت قیاس آرائیاں کی گئیں اور الزامات لگائے گئے۔

یاد رہے کہ باب وولمر کی موت کے بعد تمام پاکستانی ٹیم سے نہ صرف پوچھ گچھ کی گئی بلکہ ان کی انگلیوں کے نشان بھی لیے گئے۔ تاہم جمیکن پولیس اس دوران یہی کہتی رہی کہ پاکستان ٹیم کو مشتبہ تصور نہیں کیا جا رہا۔

سابق پاکستانی کھلاڑی آصف اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جمیکن پولیس کے اندازِ تفیتیش کو’فلمی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا’ ہر دن اخبارات میں اس حوالے سے نئی خبر سامنے آئی اور ہر روز ان کے قتل کا نیا طریقہ بتایا جاتا رہا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد