’پولیس طبعی موت پر متفق تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ باب وولمر کی تحقیقات کے لیے جمیکا میں موجود تمام غیرملکی اور مقامی پولیس حکام اس بات پر متفق تھے کہ وولمر کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ ان کی موت طبعی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے باب وولمر کی موت کے بعد ہونے والی تفتیش کا جائزہ لینے کے لیے دو افسران ڈی آئی جی پولیس میرزبیر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے کلیم امام کو جمیکا بھیجا تھا جنہوں نے وطن واپسی پر اپنی مفصل رپورٹ وزارت داخلہ کے سپرد کی تھی۔ وولمر کی موت کی تحقیقیات سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے سامنے جو باتیں آئی تھیں وہ پیتھالوجسٹ کی اس رپورٹ سے قطعاً مختلف تھیں جس میں وولمر کی موت کا سبب زہر دیا جانا بتایا گیا تھا۔ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ کلوز سرکٹ کیمرے فون اور کمپیوٹر ریکارڈ سے کوئی بھی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس سے وولمر کی موت کو قتل کے طور پر مشکوک دیکھا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ جس حالت میں وولمر کمرے میں پائے گئے اس میں تشدد یا مزاحمت کی کوئی بھی علامت موجود نہیں تھی۔ باتھ روم میں طبیعت خراب ہونے کے بعد وہ ٹھوکر کھاکر کمرے کی طرف آتے ہوئے گرے۔ باتھ روم سے اس جگہ تک جہاں وہ گرے ہوئے پائے گئے تھے قے کی دھار نظرآرہی تھی۔ پولیس کے مطابق جب کمرے کی صفائی کرنے والی خاتون نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو وہ نہیں کھلا کیونکہ باب وولمر کی لاش کمرے کے واحد دروازے میں حائل تھی اور ماہرین کے مطابق یہ بات قتل کے امکان کو رد کرتی ہے کیونکہ قاتل کے لیے اس حالت میں کمرے سے نکلنا ممکن نہ تھا اور کمرے کی کھڑکیاں بند تھیں۔ |
اسی بارے میں ’وولمر موت، ابہام، میڈیا ذمہ دار‘24 May, 2007 | کھیل وولمر فوٹیج، ٹی وی چینلز کو نوٹس08 May, 2007 | کھیل وولمر کی آخری رسومات05 May, 2007 | کھیل ’باب وولمر کو پہلے زہر دیا گیا‘29 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||