وولمر کی موت: کب کیا ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیکا کی پولیس نے اب یہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کی موت طبعی تھی اور انہیں قتل نہیں کیا گیا تھا۔ تو پولیس کس بنیاد پر اسے قتل کا معاملہ تصور کر رہی تھی اور اس پورے معاملے میں کیا کیا اہم مراحل آئے؟ یہ پورا سانحہ سنیچر، سترہ مارچ کو شروع ہوا جب پاکستانی ٹیم آئرلینڈ سے ہار کر کوالفائنگ مرحلے میں ہی ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی۔ بعد میں کوچ باب وولمر نے بے حد مایوسی کے عالم میں اس شکست کو اپنی زندگی کے بدترین تجرمات میں سے ایک قرار دیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کوچ کی حیثیت سے اپنے مستقبل کا فیصلہ وہ صبح اٹھ کر کریں گے۔ لیکن یہ رات باب وولمر کی زندگی کی آخری رات ثابت ہوئی۔ اٹھارہ مارچ کی صبح وولمر نے جنوبی افریقہ میں اپنی اہلیہ کو ای میل لکھ کر اپنی بے پناہ مایوسی کا اظہار کیا۔ اسی صبح پونے گیارہ بجے وہ کنگسٹن کے پیگسس ہوٹل میں بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے۔ اور کچھ ہی دیر بعد سپتال میں ڈاکٹروں نے ان کی موت کا اعلان کر دیا۔ اس وقت تک ان کی موت کو قدرتی یا طبعی مانا جارہا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ بہت دباؤ میں تھے جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہو۔ بیس مارچ کو پہلے پوسٹ مارٹم سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکا اور مزید ٹیسٹ کا حکم دیا گیا۔ اسی روز پولیس نے یہ اعلان تو کیا کہ وہ باب وولمر کی موت کو مشکوک محسوس کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی اس بات سے انکار کیا کہ یہ قتل کا معاملہ ہے۔
ورلڈ کے لیے پاکستان ٹیم کے میڈیا مینجر پی جے میر نے بی بی سی کو بتایا کہ موت سے قبل وولمر کا پیٹ خراب تھا اور الٹیاں ہو رہی تھیں۔ حالات پہلے ہی بہت سنگین تھے، لیکن بائیس مارچ کو پولیس نے یہ اعلان کرکے ایک طوفان کھڑا کر دیا کہ وہ باب وولمر کو قتل کیا گیا تھا۔ پہلی رپورٹ کے مطابق وولمر کی گردن کی ایک ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جس کی بیان پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں پولیس نے پاکستانی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ کی اور ان کی انگلیوں کے نشان لیے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کوئی کھلاڑی شبہہ کے دائرے میں نہیں ہے اور ٹیم جب چاہے پاکستان لوٹ سکتی ہے۔
اس سیاق و سباق میں افواہوں کا بازار گرم رہا، اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ کبھی میچ فکسنگ کی بات ہوئی تو کبھی کہا گیا کہ ٹیم کے کچھ کھلاڑی باب وولمر سے ناراض تھے اور آئرلینڈ سے شکست کے بعد دو لوگ ان سے ملنے گئے تھے۔ شاید اسی وقت بات بگڑی ہوگی۔ یہ بھی کہا گیا کہ وولمر کو پہلے زہردیا گیا اور پھر تولیے سے گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا، اور اسی وجہ سے جائے وقوعہ پر ہاتھا پائی کے آثار نہیں تھے۔ پاکستانی ٹیم مستقل شبہہ کے دائرے میں رہی اور اسے کافی بدنامی کا سامنا رہا۔ بعد میں کپتان انضمام الحق نے کہا یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ لیکن اس دوران بہت سے لوگ، اور بعض برطانوی اخبارات اس بات پر ڈٹے رہے کہ وولمر کی موت طبعی تھی۔ پندرہ مئی کو ایک برطانوی ماہر نے بھی کہا کہ پوسٹ مارٹم کی جو رپورٹ انہوں نے دیکھی ہے اس کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ وولمر کی موت گلا گھونٹنے سے نہیں ہوئی تھی۔ پھر دو جون کو یہ اطلاعات آئیں کے برطانوی تفتیش کاروں نے، جو تفتیش میں تعاون کر رہے تھے، جمائکا کی پولیس کو بتایا ہے کہ یہ قتل کا معاملہ نہیں تھا۔ |
اسی بارے میں جمیکن پولیس کے خلاف ردعمل08 June, 2007 | کھیل ’وولمرموت طبعی، اعلان عنقریب‘ 02 June, 2007 | کھیل ’وولمر کو قتل نہیں کیا گیا تھا‘ 02 June, 2007 | کھیل باب وولمر کی موت پر نیا انکشاف15 May, 2007 | کھیل وولمر کی آخری رسومات05 May, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||