BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 June, 2007, 22:06 GMT 03:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمیکن پولیس کے خلاف ردعمل

جمیکن پولیس افسر مارک شیلڈز کے بیانات پر سوال اٹھائے جارہے ہیں
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کے بارے میں یہ خبریں آنے کے بعد کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیشی افسران کے مطابق انہیں قتل نہیں کیا گیا بلکہ یہ طبعی موت تھی، پاکستانی کرکٹرز اور آفیشلز کی جانب سے جمیکن پولیس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ جمیکن پولیس خصوصا وولمر کی موت کی تحقیقات کرنے والے افسر مارک شیلڈز کی جانب سے ’قتل‘ پر اصرار اور اس ’قتل‘ کے نت نئے طریقوں کے انکشافات سے پاکستانی ٹیم کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ ورلڈ کپ کے دوران اپنے ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے باب وولمر کی موت کو قتل قرار دینے کے بعد جمیکن پولیس اس کیس کو مختلف پہلوؤں سے آگے بڑھانے کے باوجود کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے۔

ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میرے سترہ سالہ بین الاقوامی کریئر میں وہ گیارہ دن انتہائی سخت اور مشکل تھے اور اس مشکل گھڑی میں پاکستان سے کسی نے فون کرکے ہمت نہیں بڑھائی اور نہ پوچھا کہ ٹیم کس حالت میں ہے۔ کسی انٹرنیشنل ٹیم کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ انتہائی نامناسب سلوک تھا۔‘

 جب تحقیقات شروع ہوئی تو پاکستانی ٹیم نے ہر ممکن مدد کی۔ مقصد صرف یہی تھا کہ ہمارے بیان سے حکام کو مدد ملے لیکن تحقیقات کا دوبارہ شروع کرنا اور کرکٹرز کی دوبارہ بیانات کے لئے طلبی جائز نہیں تھی۔ یہ تو ہمیں بعد میں اندازہ ہوا کہ ہم پر ہی شک کیا جارہا ہے۔
انضمام الحق
انضمام الحق کا کہنا ہے: ’جب تحقیقات شروع ہوئی تو پاکستانی ٹیم نے ہر ممکن مدد کی۔ مقصد صرف یہی تھا کہ ہمارے بیان سے حکام کو مدد ملے لیکن تحقیقات کا دوبارہ شروع کرنا اور کرکٹرز کی دوبارہ بیانات کے لئے طلبی جائز نہیں تھی۔ یہ تو ہمیں بعد میں اندازہ ہوا کہ ہم پر ہی شک کیا جارہا ہے۔‘

سابق کپتان نے اس سوال پر کہ اگر سرکاری رپورٹ وولمر کی موت کو طبعی قرارد یتی ہے تو کیا آپ عدالت سے رجوع کرینگے، جواب دیتے ہوئے کہا: ’اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ کرکٹرز پر جو مشکل وقت تھا وہ گزرگیا، البتہ اس بات پر ضرور زور دینگے کہ کرکٹ بورڈ اور حکومت کے لوگوں کو اس طرح کی حکمت عملی بنانی چاہئے کہ اس طرح کی صورتحال سے کیسے نمٹاجائے۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ ایسا وقت پھر نہ آئے۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیر ضیا کا کہنا ہے: ’جمیکن پولیس اس معاملے کو صحیح طور پر ہینڈل کرنے میں ناکام رہی۔ اس کے علاوہ بھارتی میڈیا کی منفی خبروں نے بھی جلتی پہ تیل کا کام کیا۔‘

توقیرضیا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ باب وولمر کی موت طبعی قرار دینے کے بارے میں باضابطہ رپورٹ آنے کے بعد کرکٹرز کو ان افراد کے خلاف ضرور قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیئے جنہوں نے ان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔‘

توقیرضیا کے برعکس پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اور سابق سربراہ شہریارخان عدالتی چارہ جوئی کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے تحقیقات کی گئی لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ یہ صورتحال پاکستانی کرکٹرز کے لئے اذیت ناک تھی جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیئے کہ وہ جمیکن حکومت اور آئی سی سی سے باضابطہ شکایت کرے اور معافی طلب کرے۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ سے طویل عرصے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہنے والے عارف علی خان عباسی پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ نامناسب سلوک کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ افسران بالا کی کمزوری قراردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی میں اپنی اہمیت کھوبیٹھا ہے۔‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے بھی انگلینڈ کے ایک اخبار کو انٹرویو میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کرکٹرز کے ساتھ جمیکن پولیس کے مبینہ ہتک آمیزسلوک کا سختی سے نوٹس لے۔ عمران خان نے باب وولمر کی موت کو میچ فکسنگ سے جوڑنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

باب وولمر’موت طبعی تھی‘
پولیس موت کو طبعی قرار دینے والی ہے: اخبار
پی جے میرمیر کا نیا انکشاف
مشتاق نےوولمر کو شراب کی بوتلیں دی تھیں
باب وولمر’موت طبعی تھی‘
’ باب وولمر کو قتل نہیں کیا گیا‘
 مشتاق احمد مشتاق کا بیان
جمیکن پولیس شیمپین کی بوتلوں سے واقف
باب وولمرنیا انکشاف
’وولمر کو گلا گھونٹ کر نہیں مارا گیا‘
’میڈیا ذمہ دار‘
وولمر کی موت، ابہام اور پاکستانی ٹیم کی رائے
باب کی یاد میں
تعزیتی تقریب کی تصاویر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد