’کرکٹ بورڈ کا رویہ بزدلانہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کی ٹیم کے کھلاڑیوں کو اس ہدایت پر کہ وہ جمکین پولیس کی طرف سے باب وولمر کی طبعی موت کی تصدیق پر کسی قسم کا کوئی تبصرہ نہ کریں، کچھ سابق کھلاڑیوں نے بورڈ کے رویے پر کڑی نکتہ چینی کیی ہے۔ کرکٹ بورڈ نے ایبٹ آباد میں کیمپ میں پریکٹس کرنے والی پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ممبران کو ہدایات دیں تھیں کہ جیمکن پولیس کی جانب سے باب وولمر کی قدرتی موت کے اعلان پر کوئی تبصرہ نہ کریں اور یہ کہ کھلاڑیوں کی رائے وہی ہونی چاھیے جو پاکستان کرٹ بورڈ کی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس ہدایت پر سابق کرکٹرز جاوید میانداد، عبدالقادر اور اعجاز احمد نے کرکٹ بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ بورڈ کی طرف سے کھلاڑیوں کے اظہارِ جذبات پر پابندی انتہائی نا مناسب طرزِ عمل ہے۔ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ جاوید میاں داد کا کہنا تھا کہ باب وولمر کی موت کے بعد ویسٹ انڈیز میں کھلاڑیوں نے جو اذیت ناک وقت گزارہ اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں لیکن جیمکن پولیس نے ان سے معافی مانگنی تک گوارہ نہیں کی۔
سابق کپتان نے کہا کہ یہ کھلاڑیوں کا حق ہے کہ باب وولمر کی قدرتی موت کے اعلان کے بعد وہ بتائیں کہ ان پر کیا گزری اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس اذیت کا ازالہ کرنا چاھیے۔ جاوید میاں داد نے کہا کہ ایسا اگر آسٹریلیا یا انگلینڈ یا کسی دوسرے ملک کے کرکٹرز کےساتھ کہ جن کے بورڈ کا سربراہ منتخب ہو کر آتا ہے ہوا ہوتا تو وہ بورڈ اب تک جیمکن پولیس کے خلاف عالمی عدالت تک پہنچ گیا ہوتا۔ لیکن چونکہ پاکستان کا کرکٹ بورڈ ایک فرد واحد کے رحم و کرم پر ہے اس لیے اس کا جو دل چاہا اس نے بیان دے دیا اور کھلاڑیوں کے جذبات کا احساس تک نہیں کیا۔ جاوید میاں داد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کا تحفظ نہیں کیا اور جیمکن پولیس ان کی طرف انگلی اٹھاتی رہی کبھی ان کے فنگر پرنٹس لیے تو کبھی ان کے ڈی این اے ٹیسٹ ہوتے رہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ تماشا دیکھتا رہا۔ اور اب اس پر تماشا یہ کہ ان کھلاڑیوں کو اب آہ و زاری کی بھی اجازت نہیں۔ گگلی بال کرانے کے ماہر اور پاکستان کے سابق سپن بالر عبدالقادر کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کھلاڑیوں کو منع کرنا ان کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جیمکن پولیس نے پاکستانی کھلاڑیوں کو ایک طرح سے کٹہرے میں کھڑا رکھا، ان سے تفتیش کرتے رہے اور اب ان سے معافی تک نہیں مانگی تو پاکستانی کھلاڑیوں کو ان کے اس رویے پر بات کرنے کا پورا حق ہونا چاھیے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کو تو چاہیے کہ دنیا بھر میں ان کے کھلاڑیوں کی جو بدنامی ہوئی ہے اور اس سے انہیں جو اذیت ہوئی ہے اس کا ازالہ کرے اور جیمکن پولیس کے خلاف احتجاج کرے چاہیے وہ آئی سی سی کے سامنے ہو یا کسی عالمی عدالت میں ہو۔ عبدالقادر کے نزدیک پاکستا ن کرکٹ بورڈ کا یہ ردِ عمل بزدلانہ ہے اور انہیں نہ تو پاکستان کی ٹیم نہ پاکستان کے سابق کرکٹرز اور نہ ہی پاکستان کے کرکٹ شائقین کے جذبات کا کوئی احساس ہے۔ عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کے کھلاڑیوں پر پہلے ہی الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث ہیں اور اب ان پر ایک نیا لیبل لگا دیا گیا اور ان دو مہینوں میں پاکستان کی ٹیم کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی اس بات کو کسی طرح بھی پس پشت نہیں ڈالنا چاھیے بلکہ اس پر جو بھی ایکشن لیا جا سکتا ہے لیا جائے۔ پاکستان کے ایک اور سابق بلے باز اعجاز احمد نے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے رویے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ پہلے پلئر پاورز کا رونا رویا جاتا تھا اور اب کھلاڑیوں پر اتنی سختی کہ جیمکن پولیس کے رویے پر زبان بھی نہیں کھول سکتے۔انہوں نے کہا کہ کیا کوئی درمیانہ راستہ اپنایا نہیں جا سکتا۔ اعجاز احمد کے بقول کھلاڑیوں کو ان کے جذبات کے اظہار سے روکنا ناانصافی ہے اور ایسا کسی ضابطہ اخلاق نہیں ہوتا کہ کھلاڑیوں کی آزادی بالکل سلب کر لی جائے اور وہ اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات پر احتجاج بھی نہ کر سکیں۔
اعجاز احمد نے کہا کہ اس سے تو پاکستان کی کرکٹ پر بہت برے اثرات ہوں گے کہ کسی کھلاڑی کو یہ حق بھی نہ ملے کہ وہ اپنی عزت نفس کا دفاع کر سکے اس سے بہتر ہے کہ وہ کرکٹ چھوڑ کر کوئی اور پیشہ اپنا لے۔ اعجاز احمد نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کو اس معاملے پرسنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاھیے اور پاکستان کی ٹیم پر جو الزامات لگائے گئے ان پر ہر طرح سے احتجاج کریا جائے ورنہ آئندہ بھی کوئی بھی اٹھ کر پاکستانی کرکٹرز پر الزام لگا دے گا۔ ماضی کے سٹار بیٹس مین اور پاکستان کی ٹیم کے سابق مینجر ظہیر عباس کا موقف کچھ مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے تھا کہ اس معاملے سے ویسٹ انڈیز میں ہی اچھے طریقے سے نمٹتا اور ایسی نوبت ہی نہ آتی کہ پاکستان کی ٹیم کے فنگر پرنٹس لیے جاتے یا ان کی تفتیش ہوتی۔ اب جو بدنامی ہونی تھی وہ تو ہو چکی اب اتنے عرصے کے بعد اب اس پر وہ کوئی کاروائی کیسے کر سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’وولمر موت، ابہام، میڈیا ذمہ دار‘24 May, 2007 | کھیل وولمر فوٹیج، ٹی وی چینلز کو نوٹس08 May, 2007 | کھیل وولمر کی آخری رسومات05 May, 2007 | کھیل ’باب وولمر کو پہلے زہر دیا گیا‘29 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||