عالمی کپ فائنل: کون کتنے پانی میں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلوی ٹیم اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اس ورلڈ کپ میں آخری لیکن فیصلہ کن مرتبہ میدان میں اترنے والی ہے۔ اگر مہیلا جے وردھنے اور ان کے ساتھی رکی پونٹنگ اینڈ کمپنی کو نہ روک سکے تو یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ موجودہ حالات میں آسٹریلوی طوفان کو روکنے والا کوئی نہیں۔ اس عالمی کپ میں کوئی بھی ٹیم آسٹریلیا کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور رِکی پونٹنگ ناقابل شکست رہ کر فاتح عالم کے اعزاز کے ساتھ جزائر غرب الہند سے رخصت ہونے کی پوری پوری تیاری کرچکے ہیں۔ میدان میں جسمانی طور پر اپنی فٹنس کے بھرپور مظاہرے سے بڑھ کر ذہنی طور پر مستعدی اور حاضر دماغی اس فائنل میں ایک اہم نکتے کے طور پر سامنے آئے گی کہ کون اپنی خطرناک چالوں اور صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرکے حریف کو مات دیتا ہے۔
سری لنکا نے شور مچاتے طوفان کے بجائے خاموش دریا کے طور پر ورلڈ کپ کی تمام سیڑھیاں طے کرکے فائنل تک جگہ بنائی ہے۔ اس کے ترکش کے مہلک تیروں سے رکی پونٹنگ بھی بخوبی واقف ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اہم مقابلے سے قبل ہونے والی زبانی جنگ میں جیسا کہ ہوتا ہے حریف کو زیر کرنے کے لیے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں تو وہ پونٹنگ بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ وہ مرلی اور واس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ آسٹریلوی بیٹسمین مائیکل کلارک بھی چپ نہیں رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ اگر سری لنکا کو ورلڈ کپ جیتنا ہے تو اسے معجزاتی اور کرشماتی کارکردگی دکھانی ہوگی۔ آسٹریلوی ٹیم جس طرح کھیل رہی ہے اگر فائنل میں اسی طرح کھیلی تو اسے ہرانا کسی کے بس کی بات نہیں۔
سری لنکا اور آسٹریلیا کے سپر ایٹ میچ میں مرلی واس اور ملنگا نہیں کھیلے تھے جس پر بہت شور مچا تھا۔ سری لنکا کے آسٹریلوی کوچ ٹام موڈی کہتے ہیں کہ آسٹریلیا والوں کو اس پر شور مچانے کی ضرورت نہیں۔ یہ ان کا کام نہیں۔ میتھیو ہیڈن، پونٹنگ سِمنڈز اور کلارک پر مشتمل آسٹریلوی بیٹنگ کا آتش فشاں سری لنکن بولنگ کو خاکستر کرسکتا ہے لیکن اگر مرلی کا جادو چل گیا تو یہ توپیں وقت سے پہلے ہی خاموش ہوسکتی ہیں۔ واس کو خوشی ہے کہ انہیں دوسرے اینڈ سے مالنگا کی خدمات حاصل ہیں جو حریف بیٹسمینوں پر پورا پورا دباؤ ڈالتے ہوئے ان کا کام آسان کیے ہوئے ہیں۔ پچھلے چھ ماہ سے وہ بہت عمدہ بولنگ کررہے ہیں اور اس ورلڈ کپ میں خاص کر ان کی بولنگ بہت مؤثر رہی ہے۔ بیٹسمینوں کے لیے ان کا سامنا کرنا دشوار ہے۔
سنتھ جے سوریا کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹ کو وقت کے تجربے نے بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ ہر کپتان اور ہر کوچ کا انداز مختلف رہا ہے لیکن اس سے بہت کچھ سیکھا گیا ہے۔ سری لنکن بیٹنگ جے سوریا، سنگاکارا اور جے وردھنے پر بہت زیادہ انحصار کرے گی۔ اگر یہ شان ٹیٹ، میک گرا اور بریکن کے وار سہہ گئے تو بورڈ پر معقول مجموعہ سجا کر وہ مرلی کو حملہ کرنے کا پورا موقع دے سکتے ہیں۔ سری لنکن ٹیم میں فرنینڈو کی جگہ ماہروف کی واپسی یقینی ہے جبکہ آسٹریلوی ٹیم میں تبدیلی کی ضرورت کسی کے زخمی ہو جانے کی وجہ سے ہو تو ہو عام حالات میں ممکن نہیں۔ سری لنکا اور آسٹریلیا گیارہ سال قبل لاہور میں بھی ورلڈ کپ کی فیصلہ کن معرکہ آرائی میں سامنے آئے تھے جس میں اروندا ڈی سلوا کی شاندار سنچری سے تقویت پاتے ہوئے رانا تنگا کی ٹیم نے مارک ٹیلر اور ان کے ساتھیوں کو سات وکٹوں سے زیر کرلیا تھا۔ | اسی بارے میں سری لنکا ورلڈ کپ کے فائنل میں24 April, 2007 | کھیل ہمیں سری لنکا کا خوف نہیں: پونٹنگ26 April, 2007 | کھیل آسٹریلیا عالمی کپ کے فائنل میں 25 April, 2007 | کھیل عالمی کپ میں فتح، مرلی کا خواب27 April, 2007 | کھیل سٹیو بکنر کا لگاتار پانچواں فائنل27 April, 2007 | کھیل الوداع سے پہلے ہی الوداع26 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||