سٹیفن فلیمنگ کپتانی سے مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈکپ سیمی فائنل میں سری لنکا سےشکست کھانے کے بعد نیوزی لینڈ کے ون ڈے کے کیپٹن سٹیفن فلیمنگ نے کپتانی سے استعفی دے دیا ہے۔ فلیمنگ نے، جو ابھی نئے کپتان کے زیر قیادت کھیلنا چاہتے ہیں، گزشتہ روز کے میچ کے بعد یہ تسلیم کیا ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کھیل کے ہر شعبے میں مات ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’یہ اس بات کی صحیح عکاسی کرتا ہے کہ ٹیمیں کتنے پانی میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جیتنے کا مارجن بھی تقریبا صحیح ہے۔‘ ’ان کے پاس بڑے کھلاڑی موجود ہیں جو سامنے آئے جبکہ ان کی بالنگ بھی خاصی مضبوط تھی۔‘ فلیمنگ دس سال تک کپتان رہے ہیں اور گزشتہ روز انہوں نے اپنا دوسواسی واں ون ڈے میچ کھیلا۔ ان کا کہنا ہے کہ سری لنکا کا بالنگ اٹیک دونوں ٹیموں کے درمیان خاص فرق تھا۔ ’ابتدائی اوور پھینکنے والے لسیتھ ملنگا اور چمندا واس کی جوڑی نے زبردست کھیل پیش کیا جبکہ ان کے بعد مرلی دھرن کو بھی آنا تھا۔ہم نے مرلی دھرن کے خلاف مثبت کھیلنے کی کوشش کی مگر ان کی اپنی ہی ایک کلاس ہے جو کہ بعض اوقات مخالف ٹیم کو مشکلات سے دوچار کر دیتی ہے۔‘ نیوزی لینڈ کا کہنا تھا ’ ہمیں امید تھی کہ ہم ان کو دو سو پچاس سے زیادہ سکور نہیں کرنے دیں گے لیکن ایسا کرنے کے لیے ہم اچھی بالنگ اور فیلڈنگ نہیں کر سکے اور مہیلا جےوردھنے نے (جوایک سو پندرہ کےسکورپرناٹ آوٹ رہے) بہترین اننگز کھیلی۔ آخری دس اوورز جس کا ہم نے سوچا تھا کہ اس میں ہم اچھا کھیل سکیں گے اس میں ہم بہت برا کھیلے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹاس کا ہارنا زیادہ اہم تھا۔ ہم پہلے بیٹنگ کے لیے جانا اور اچھا سکور کرنا زیادہ پسند کرتے لیکن میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ نتائج بدلنے میں مدد گار نہ ہوتا۔‘ ’میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس سے زیادہ کچھ کر سکتے تھے لیکن جہاں تک منصوبہ بندی کا سوال ہے تو ہمیں پتہ تھا کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔‘ فلیمنگ نے اپنی ٹیم کو کینیا میں سن دو ہزار میں ہونے والا آئی سی سی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ میں فتح یاب کرایا تھا ۔ حال ہی میں چیپل ہیڈلے ٹرافی سیریزمیں اپنے ملک میں آسٹریلیا کو تین صفر سی شکست سے دوچار کرنا ان کی کامیابیوں میں شامل ہے لیکن انیس سو ننانوے اور اس سال کے ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں اپنی ٹیم کو پہنچانا ان کی کپتانی کی بہترین کارکردگی میں شمار ہوتا ہے ۔ اپنا عہدہ چھوڑنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے اس پر غور فکر کر رہے تھے اور اپنے رشتہ داروں، کوچ جان بریس ویل اور مینیجر لنڈسے کراکر سے بھی اس مسئلے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ ’آج کے نتیجے کا میرے اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں صرف اس ٹورنامنٹ کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا تاکہ اس فیصلے میں خلل نہ پڑے۔‘ ’اس وقت جبکہ ہم چار سال کے ایک نئے سلسلے کی شروعات کر رہے ہیں، قیادت کی تبدیلی کا فیصلہ ون ڈے سائیڈ کے لیے ایک اچھا شگون ثابت ہوسکتا ہے۔‘ ’بعض اوقات آپ کا کپتان ہونا آپ کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔میں تازہ دم ہو کر کھیلنا چاہتا ہوں اور اپنے کیرئیرکا اختتام اپنی صلاحیتوں کے مطابق اچھا کرنا چاہتا ہوں۔‘ امکان ہے کہ نیوزی لینڈ کو ٹیم کے نائب کپتان ڈینیئل ویٹوری کو ٹیم کا نیا کپتان بنایا جائے گا۔ وہ پہلے بھی فلیمنگ کی غیر حاضری میں گیارہ مرتبہ ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں ورلڈ کپ کا پہلا سیمی فائنل24 April, 2007 | کھیل سری لنکا ورلڈ کپ کے فائنل میں24 April, 2007 | کھیل کرکٹ انکوائری: کمیٹی بنا تماشا دیکھ 04 April, 2007 | کھیل ناقص کارکردگی، تحقیقات | کھیل سبائنا خاموش، دل اداس03 April, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||